اہم خبریں

ایمازون کی فروخت کنندگان کی فہرست میں پاکستانیوں کا تیسرا نمبر

واشنگٹن : ایمازون کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے اپنا پلیٹ فارم کھولنے کی دیر تھی کہ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے امریکہ اور چین کے بعد (فروخت کنندگان) سیلرز کی فہرست میں تیسرے نمبر پر جگہ بنا لی ہے۔مئی 2021 میں ایمازون نے 85 نئے ممالک کو اپنی مارکیٹ پلیس پر فروخت کے لیے رجسٹر کیا تھا، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔
اس سے قبل ان ممالک کے فروخت کنندگان اپنی مصنوعات کو ایمازون پر درج کروانے کے لیے پڑوسی ممالک میں ایجنٹ کمپنیوں یا قائم کاروباری اداروں سے مدد لیتے تھے۔ایمازون کے پلیٹ فارم میں شمولیت کے بعد پاکستان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور مارکیٹ پلیس پلس کی ریسرچ کے مطابق پاکستان اس وقت نئے فروخت کنندگان کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے، جس نے 2021 میں امریکہ میں ایمازون کی مارکیٹ پلیس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
اگرچہ ایمازون مارکیٹ پلیس پر بھارت، ویت نام، برطانیہ یا کینیڈا سے زیادہ پاکستانی فروخت کنندگان ہیں، تاہم اب بھی ہزاروں کی تعداد میں فروخت کنندگان ہونے کے باوجود پاکستان کا نمبر امریکہ اور چین کے مقابلے میں کم ہے۔’مائی ایمازون گائے‘ کے نام سے ویب سائٹ چلانے والے ایکسپرٹ سٹیون پوپ نے ایمازون سیلرز اور ایجنسیوں پر زور دیا ہے کہ ’اگر آپ پاکستان سے لوگوں کو ہائر نہیں کریں گے تو آپ دنیا کی ایک اہم ’ایمازون آبادی‘ سے محروم رہیں گے۔‘سٹیون کا مزید کہنا تھا: ’وہ (پاکستانی) اب ایمازون پر سب سے زیادہ فروخت کرنے والوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔‘

مارکیٹ پلیس پلس کے مطابق پاکستانی فروخت کنندگان ملک کی برآمدات میں 23 ارب ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں، جن میں سب سے اہم ٹیکسٹائل کی صنعت ہے۔
ایمازون اپنی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کو اپنی اشیا کی فروخت کی سہولت فراہم کرتا ہے اور بعض صورتوں میں اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے پروڈکٹس کی ڈیلیوری بھی کرتا ہے۔ایمازون کے وسیع ترین نیٹ ورک کی بدولت چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد بھی جلد اپنے قدم جما کر اچھی کمائی کرنے لگتے ہیں۔

( بشکریہ : انڈیپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker