عمار غضنفرکالملکھاری

عمار غضنفر کا کالم : بوسیدہ سماجی اقدار اور نوجوانوں کے جنسی مسائل

ہمارے لڑکوں کو ڈھیر سارا سیکس چاہیے، اور اس کے بائی پروڈکٹ کے طور پر اولاد بھی تا کہ ان کی نسل چل سکے۔ لڑکیوں کو سیکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ صرف ایک مثالی بیوی اور اچھی ماں بننے کے لیے شادی کرتی ہیں۔ مگر ان دونوں مقاصد کے حصول میں عمر عزیز کی اڑھائی تین دہائیاں صرف ہو جاتی ہیں۔ لڑکوں کو ڈھیر سارے سیکس کی با ضابطہ اجازت حاصل کرنے کے لیے ڈھیر سارا پڑھنا اور کیرئیر بنانا پڑتا ہے۔ لڑکیوں کو خود کو مثالی بیوی ثابت کرنے کے لیے نہ صرف ڈھیر سارا پڑھنا پڑتا ہے بلکہ اکثر ڈاکٹر بھی بننا پڑتا ہے۔
بلوغت کے بعد کے چودہ پندرہ برس اسی بھاگ دوڑ کی نظر ہو جاتے ہیں۔ لڑکیاں تو چلو اس سب سے مبرا ہیں، مگر لڑکوں کی تو اس دوران بھی ایک جنسی بلکہ جنس زدہ زندگی ہوتی ہے۔ ابلتے جذبات کو ضبط کرنے کی کوشش میں کانوں سے دھواں نکلنے لگتا ہے۔ لاکھ بند باندھے جائیں، مگر منہ زور دھارا اپنے نکاس کا کوئی نہ کوئی راستہ بنا ہی لیتا ہے۔ مذہبی و سماجی بندشوں میں جکڑے نوجوانوں کے پاس ایسے میں اپنے زور بازو پر انحصار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
ترقی یافتہ معاشروں میں خود انحصاری کو صحت مند جنسی زندگی کا جزو سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اسے بھی جرم بنا دیا ہے۔ احساس ندامت اور حکیموں کی بنائی ہوئی متھس (myths) کے نفسیاتی اثرات اکثر نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجتاً وہ شادی کے نام سے خوفزدہ رہنے لگتے ہیں۔ جو نوجوان ان پابندیوں کو پس پشت ڈالنے کی ہمت کرتے ہیں ان کے کارنامے عموماً خاندان اور جاننے والوں کی نظر سے بچنے کے چکر میں خفیہ کیمروں میں فلم بند ہو کر مزید رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ سیکس کیونکہ لڑکیوں کا مسئلہ ہی نہیں، اس لیے ان کی توجہ ان برسوں میں اپنے بلند نصب العین پر مرکوز رہتی ہے اور یوں وہ بورڈز اور یونیورسٹی میں پوزیشنز لیتی رہتی ہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں معاشی حرکیات، بوسیدہ سماجی اقدار کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔ ہم مغربی ٹیکنالوجی سے تو استفادہ کرتے ہیں مگر مغربی شعور کو قابل نفرت گردانتے ہیں۔ ہم بچوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون تو پکڑا دیتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں بچوں کو جو ایکسپوزر (exposure) مل رہا اس بارے میں اپنے بچے کی راہنمائی کرنے کو مشرقی شرم و حیا کے منافی سمجھتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بلوغت سے معاشی خود مختاری کے حصول کے درمیان حائل طویل دورانیے میں ہمارے بچوں کو اپنے جنسی معاملات سے متعلق آج پہلے سے زیادہ رہنمائی درکار ہے؟
کیا آج ہمیں اپنے اخلاقی پیمانوں اور سماجی اقدار کو بدلتے حالات کے تقاضوں کے مطابق از سر نو مرتب کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت نہیں؟ ہمارے زمانے کے نوجوانوں میں میں جو پورنوگرافک مواد سینہ بہ سینہ منتقل ہوا کرتا تھا، آج وہ ہر نوجوان کی انگلیوں کی دسترس میں ہے۔ ایک ایسے باپ کی حیثیت سے جس کے بچے بلوغت کی عمر میں قدم رکھنے والے ہیں، مجھے یہ تصور خوف زدہ کر دیتا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کی جوانی بھی اسی جنسی گھٹن کا شکار بن کر رہ جائے گی جو ہمارا مقدر تھی؟
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker