عمار مسعودکالملکھاری

عمار مسعود کا کالم : سیاسی پریشر ککر

پریشر ککر سے سیفٹی والو ہٹائیں تو پہلے بہت شدت سے بھاپ نکلتی ہے پھر رفتہ رفتہ پریشر ککر کا پریشر ختم ہو جاتا ہے اور بھاپ نکلنا بند ہو جاتی ہے۔
شہباز شریف سے ملاقات کریں یا ان کی کابینہ کے کسی وزیر سے ملیں تو یہ سب اس طرح سر پھینک کر کام میں جتے ہوئے ہیں جیسے گزشتہ چار سال کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ کوئی گرفتاری ہوئی نہ کوئی نا انصافی پر مبنی فیصلہ ہوا، نہ چور ڈاکو کی سرعام گردان ہوئی نہ خواتین کی عزتیں اچھالی گئیں۔
اگرچہ معیشت کی بحالی اس حکومت کا فرض اولین ہے مگر جس آگ کے دریا سے یہ لوگ گزر کر آئے ہیں وہ کم تکلیف دہ نہیں تھا۔ اس سب کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ اس سب کا الزام سوشل میڈیا کے معصوم بچوں پر نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ ایک بھیانک سازش تھی جو بالآخر تمام ہوئی۔ اس جرم میں سب ہی شریک تھے۔ عمران خان سے لے کر عدلیہ کے بعض ججوں اور بعض صحافیوں سے لے کر دفاعی تجزیہ کار سب کے سب ملوث تھے۔ اب جو سہولت سے سوشل میڈیا کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے تو اس کے پیچھے چھپے مضمرات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر کڑھنے کے بجائے اس کی غرض و غائت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت الیکٹرانک میڈیا اور دانشوران ملت کو ہر جمہوری قوت کو بدنام کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر سیاسی جماعتوں کو کرپٹ ثابت کرنے میں کئی سال لگے۔ آج اسی الیکٹرانک میڈیا کی تعلیم کے سبب سوشل میڈیا اس بات کو تسلیم کرنے پر ہی تیار نہیں کہ عمران خان اس قوم کا مجرم ہے اور نواز شریف دراصل اس قوم کا محسن ثابت ہوا ہے۔ اس کی وجوہات بہت واضح ہیں۔ موجودہ انسٹالڈ الیکٹرانک میڈیا پر جمہوری قوتوں کے خلاف ہزاروں گھنٹے صرف کیے گئے، ایک منصوبے کے تحت کمزور اینکرز کی بھاری بھرکم تنخواہوں پر بھرتیاں کروائی گئیں، ہر مخالف آواز کو نوکری سے برطرف کروایا گیا۔
ایک سازش کے تحت ہر پروگرام میں من مانی کی گئی۔ زر خرید اینکرز اور بے ضمیر تجزیہ کاروں کو یہ تک بتایا گیا کہ آج کے پروگرام کا موضوع کیا ہونا ہے، کس کس مہمان کو تجزیے کی دعوت دینی ہے، کس کس کو کتنا وقت دینا ہے اور کس سے کیا سوال کرنے ہیں۔ کس خبر کو اچھالنا ہے کس سے پہلو تہی برتنی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دیا گیا جو وٹس ایپ کی گھنٹی سنتے ہی سر بسجود ہو جاتے تھے۔ بہت کم لوگ اس دور میں صحافی کی حیثیت سے اپنی عزت، صحافت اور نوکری بچا سکے۔ان بھرتی شدہ اینکرز نے کسی کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دی کہ نواز شریف پر کرپشن کی ایک پائی ثابت نہیں ہوئی، کسی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ کہہ سکے کہ نیب کی جانب سے ایسی گرفتاریاں اغوا کے زمرے میں آتی ہیں۔ کسی کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ قوم کو بتا سکے کہ ٹی وی پروگرام میں کاغذ لہرانے سے کرپشن کے الزامات ثابت نہیں ہوتے اس کے لئے عدالتیں موجود ہیں۔ یہ محبوس الیکٹرانک میڈیا خان صاحب کے دور میں ہونے والی بے پناہ کرپشن کے باوجود یہی راگ الاپتا رہا کہ خان کو ٹیم اچھی نہیں ملی مگر خود کرپٹ نہیں۔
اب جو سوشل میڈیا پر ایک نسل پیدا ہو چکی ہے جو خان کو جانے کن مبارک ہستیوں سے ملا رہی ہوتی ہے، اول فول ٹرینڈ چلا رہی ہوتی ہے یہ نسل اصل میں اسی الیکٹرانک میڈیا کی دین ہے۔ جس نے ہزاروں گھنٹے کچے ذہنوں کو خان کی عظمت کا سبق پڑھایا ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں میں سے بیشتر عمران خان کی حمایت سے تائب ہو چکے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک انسٹال شدہ میڈیا کی پیداوار ہیں۔ آج ہوا کا رخ دیکھ کر بدل گئے ہیں تو کل کو پھر قلابازیاں کھا سکتے ہیں۔ جب تک ملک میں آزاد غیر جانبدار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نہیں ہو گا سوشل میڈیا سیاستدانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گا۔ اسی طرح کے ٹرینڈز بنیں گے اسی طرح کی غلیظ سوچ کا جمہوری قوتوں کو سامنا کرنا پڑے گا۔عمران خان اب سوشل میڈیا کی مدد سے جس نہج پر جا رہے وہ اس ملک کو ایک دفعہ پھر دولخت کرنے کی سازش لگتی ہے۔ کبھی سرینڈر باجوہ کا ٹرینڈ چلواتے ہیں کبھی عدلیہ کے خلاف ہو جاتے ہیں کبھی امپورٹڈ حکومت کے ٹرینڈ پر انویسٹمنٹ کرتے ہیں، کبھی صدر کو آئین کی خلاف ورزی پر مجبور کرتے ہیں کبھی گورنر پنجاب سے آئین شکنی کی فرمائش کرتے ہیں۔ نفرت کا یہ بیانہ اس سرعت سے پھیلایا جا رہا ہے کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل رہا۔حکومت ایک جمہوری روش سے تشکیل ہو ہی نہیں پا رہی۔ معیشت کی بحالی کا کام شروع ہی نہیں ہو رہا۔ اسی طرح کی رکاوٹیں پڑتی رہیں تو ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے کی جانب جائے گا اور اس کا الزام صرف عمران خان کی ضد، انا اور خود سری کو جائے گا۔ بہت کم جانتے ہیں کہ خان صاحب کی ان رکیک حرکتوں کے پیچھے فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔ ابراج گروپ کی رقموں کا حساب ہے۔ اس کیس کا جیسے ہی فیصلہ آئے گا لوگوں کو بات سمجھ آ جائے گی کہ کس طرح ایک کرپٹ شخص نے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر ذاتی فوائد حاصل کیے۔
فوج کی تقسیم کے لئے عمران خان نے جو مہم چلائی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ جو وڈیوز بیرون ممالک سے بنوا بنوا کر جاری کی جا رہی ہیں وہ افسوسناک بھی ہیں اور شرمناک بھی۔جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ نواز شریف نے بھی تو گوجرانوالہ میں جنرل باجوہ کا نام لیا تھا اب اگر تحریک انصاف نے سرینڈر باجوہ کا ٹرینڈ چلا دیا تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ ان دونوں مثالوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جب نواز شریف نے جنرل باجوہ کا نام لیا تھا وہ اس وقت انہیں آئین کی پاسداری کا سبق دے رہے تھے، ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے، پارلیمان کی بالادستی کا درس دے رہے تھے۔ اس کے برخلاف عمران خان فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں، آئین کو پامال کرنے کی فرمائش کر رہے ہیں۔ عدلیہ کے حکم کی سرتابی کی خواہش کر رہے ہیں۔
اس وقت سارا ملک ہی سوشل میڈیا کے پریشر کے زیر اثر پریشر ککر بنا ہوا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کو بس یہ بات یاد رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا کی شدت کی سبب سیٹیاں مارنے والے سیاسی پریشر ککر سے سیفٹی والو ہٹائیں تو پہلے تو بہت شدت سے غلیظ ٹرینڈ نکلتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ پریشر ککر کا پریشر ختم ہو جاتا ہے اور بھاپ نکلنا بند ہو جاتی ہے۔

( بشکریہ ِ: ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker