Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, فروری 17, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عمران خان کی صحت پر سیاست :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • شکیل انجم پریس کلب کے صدر منتخب پروفیشنل جرنلسٹس نے تین مرکزی عہدے جیت لیے
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ
  • بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ : پاکستان کے خلاف بھارت کی ایک رن پر پہلی وکٹ گرگئی
  • ملتان پریس کلب کو قبضہ مافیا اور سوداگروں سے نجات دلائیں: مقبول حسین تبسم کا کالم
  • فیلڈ مارشل کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
  • راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت
  • ٹی 20 ورلڈ کپ، کولمبو میں میدان سج گیا، روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج آمنے سامنے
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»آمنہ مفتی»آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: اب کیوں نکالا؟۔۔آمنہ مفتی
آمنہ مفتی

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: اب کیوں نکالا؟۔۔آمنہ مفتی

ایڈیٹرنومبر 24, 20192 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Amna Mufti column
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے میں اور عمرو ایک ادھیڑ عمر طبیب میں تبدیل ہو گیا۔
تب عمرو، قید خانے کے پہرے داروں، مہتمم محلات، بادشاہ اور وزیر اعظم کی ناک کے عین نیچے سے قیدی شہزادے کو لے کر باہر نکل گیا۔ سب کی آنکھوں کی پتلیاں تو جنبش کرتی تھیں مگر طلسم کے اثر سے مجال نہ تھی کہ ایک انگلی بھی ہلا سکیں۔
قید خانے سے نکل کر عمرو نے پہلوان کا شکریہ ادا کیا جو اپنی فوج لے کر قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ شہزادے کے آزاد ہوتے ہی پہلوان نے اپنا محاصرہ اٹھایا اور جس بستی سے آیا تھا اسی کی طرف نکل گیا، مگر جاتے جاتے وہ اپنے ساتھ وہ طوطا لیتا گیا جس میں قلعے کے دیو کی جان تھی۔
قید سے چھوٹ کر شہزادہ سیدھا اپنے محل میں پہنچا اور اپنے گھر والوں سے مل کر خدا کا شکر بجا لایا۔ سب نے عمرو کی بہت خاطر داری کی اور اسے مہمان رکھنے پہ اصرار کیا مگر وہ نہ مانا اور بھاگم بھاگ قلعے میں پہنچا۔
قلعے والوں کو بت بنے دو روز گزر چکے تھے۔ عمرو نے سفوف عیاری پھونکا تو سب سے پہلے قلعے کے دیو کو چھینک آئی۔ اسے چھینک آئی تو سب طلسم ٹوٹ گیا اور بادشاہ سمیت سب لوگ ہوش میں آ گئے۔
عمرو عیار، سلیمانی چادر اوڑھ کے وہیں پھر رہا تھا۔ سب لوگ تلملاتے، دانت کچکچاتے ایک دوسرے پہ شہزادے کے فرار کے الزام لگاتے، برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کوئی بھی یہ تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے شہزادہ ایسے آہنی حصاروں سے جن کہ باہر ساحروں کی ایک فوج پہرہ دیتی تھی یوں نکل گیا جیسے مکھن سے بال۔
عمرو عیار نے چونکہ سلیمانی چادر اوڑھ رکھی تھی اس لیے وہ تو سب کو دیکھ رہا تھا مگر کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ان کی باتیں سن سن کے عمرو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوا جاتا تھا اور چاہتا تھا کہ جلد از جلد لشکر میں لوٹ کے یہ خبر سنائے۔‘
یہ داستان امیر حمزہ نہیں جو آج سے صدیوں پہلے لکھی گئی۔ یہ تو وہ طلسم ہوش ربا ہے جسے ہم نے سانس روکے، بت بنے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہم خود ہی ناظر تھے، خود ہی تماشا۔ ویسے دیکھنے والوں نے بھی خوب دیکھا اور داد دی۔
مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جو کہ پچھلے برس سے جیل میں تھے، مولانا کے دھرنے کے اعلان ہی کے دنوں میں سخت بیمار پڑ گئے۔ ظاہر ہے کہ وہ حکومت ہی کی تحویل میں تھے۔
سرکاری ہسپتال ہی میں ان کا علاج ہوا، سرکاری میڈیکل بورڈ ہی نے ان کی صحت کے بارے میں رپورٹ بنائی۔ مزید تصدیق صوبائی وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد نے کی۔ عدالت نے ضمانت منظور کی، ای سی ایل سے ان کا نام نکالا گیا اور میاں نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
یہ سب حکومت پاکستان نے کیا۔ کیوں کیا؟ رحم آ گیا؟ کیا ایک مجرم کو یوں ضمانت دے کر فٹا فٹ ملک سے باہر بھیجنے کے لیے فقط رحم دل ہونا ہی ضروری ہے؟
قاعدے، قانون، پاکستان کا مشہور زمانہ لال فیتہ، طویل عدالتی طریقہ کار، سب پہ کون سی الو کی لکڑی پھر گئی؟ کیا میاں نواز شریف مجرم تھے؟ مجرم تھے تو اتنے با اختیار کیسے تھے؟ اور اگر اتنے با اختیار تھے تو ڈیڑھ، پونے دو سال پہلے ’مجھے کیوں نکالا‘ کی دہائی کیوں دے رہے تھے؟
اور اگر ان کے ہاتھ اتنے ہی لمبے تھے تو الیکشن کے نتائج اپنی مرضی کے مطابق کیوں نہ موڑ لیے؟ اور اگر انھیں جیل جانے سے اتنا ہی نفور تھا تو سال پہلے جیل جانے کو واپس ہی کیوں آئے تھے؟
میاں نواز شریف کے ملک سے چلے جانے کے بعد وزیر اعظم بہت خفا ہوئے اور اب تک خفا ہو رہے ہیں۔ چونکہ سادہ اور سچے سیدھے آدمی ہیں اس لیے روز اول سے فرائیڈین سلپ کے تحت دل کی بات کہہ جاتے ہیں۔
میاں نواز شریف کی ضمانت، ای سی ایل سے نام نکالنے اور باہر چلے جانے پہ وہ جس خفگی کا اظہار کر رہے ہیں وہ ان کی طرف سے واضح اعتراف ہے کہ یہ نظام خود بخود چل رہا ہے۔
بقول میر تقی میر،
یاں کے سفید و سیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا، یا دن کو جوں توں شام کیا
خیر، یہ تو جو ہوا سو ہوا، عوام کو ایک بات ہزارویں بار سمجھ آ گئی اور وہ یہ کہ نہ یہ دھرنا ان کے لیے تھا اور نہ یہ حکومت انھیں ریلیف دے گی۔ اس ملک کا نظام انگریز جاتے جاتے ایسا بنا گیا تھا کہ اب یہ پہیہ ایسے ہی گھومتا رہے گا۔
فوج، عدلیہ، مقننہ، نوکر شاہی، تعلیمی نظام، سب وہی ہے جو ہمارے استحصال کے لیے بنایا گیا تھا۔
یہ کرسیاں، یہ رینک، یہ گریڈز، یہ ادارے، یہ محکمے، ان سب میں ایک جادوئی تاثیر ہے۔ جو بھی ان کرسیوں پہ بیٹھے گا اس کے سر پہ عقل چوس چڑھ جائے گا۔ جو بھی ان فائلوں کو ہاتھ لگائے گا وہ انسان سے بدل کر نوکر شاہی نظام کا پرزہ بن جائے گا۔
ایڑی کو زمین پہ مارنے والا اس گمان میں مبتلا ہو جائے گا کہ وہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور پہاڑوں کی ہمسری کر سکتا ہے۔
یہ ہمارا نہیں اس نظام کا قصور ہے۔ یہ نظام جس کی ہر چول، ہر پرزہ، زنگ آلودہ ہے اور چلتے ہوئے ایسی چرخ چوں کرتا ہے کہ آسمان سر پہ اٹھا لیتا ہے مگر کم بخت چلے جا رہا ہے، ایک سا چلے جا رہا ہے۔ گھڑم گھڑم گھاوں گھاوں کرتا۔
تبدیلی کا نعرہ سن کے بہت سے لوگ دوڑے تھے مگر افسوس، تبدیلی والے بھی اسی نظام کا حصہ بن گئے۔ ابھی نئے ہیں چلا رہے ہیں، اپنا مذاق خود ہی بنوا رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ الو کی لکڑی کس نے پھیری اور معاملات کیسے چلے۔
عوام احمق بنے، ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور کچھ لوگ کھسیا کھسیا کر کھمبا نوچ رہے ہیں۔ اس ساری مارا ماری میں سب یہ بھول گئے ہیں کہ پہلوان جاتے جاتے وہ طوطا اپنے ساتھ لے گیا ہے جس میں دیو کی جان ہے۔ لگتا تو یہ ہی ہے کہ پہلوان بھی چونکہ اسی نظام کا پرزہ ہے چنانچہ طوطے کو جگر کا ماس کھلا کے ہتھیلی کا پھپھولا بنا کے رکھے گا اور زیادہ دام ملے تو واپس کر دے گا یا کہیں بھی بیچ ڈالے گا۔
یہ تو ایک منطقی انجام ہے لیکن دل کے اندر کہیں یہ خواہش ہے کہ پہلوان اس طوطے کی گردن مروڑ دے اور شہر کی فصیلوں پہ دیو کا جو سایہ ہے آخر کار شہر اس سے پاک ہو جائے۔ مگر اس طلسم کے اندر پنہاں دوسرا طلسم ایک دیو کے مرنے پہ اس سے زیادہ مضبوط دوسرا دیو تو پیدا نہیں کر لے گا؟
ایسا ہے تو یہ دیو کیا برا؟ انگریزی کہاوت ہے ’وہ عفریت جسے تم جانتے ہو اس عفریت سے کجا بہتر ہے جسے تم نہیں جانتے۔‘
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

عمران خان مولانا فضل الرحمن نواز شریف
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleاب پچھتائے کیا ہوت۔۔خاورنعیم ہاشمی
Next Article عمران خان استعفیٰ دینے میں بھی آزاد نہیں۔۔ سید مجاہد علی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت

فروری 15, 2026

پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم

فروری 10, 2026

شہادت کے لیے بھی تیار ہوں : سربراہ پی ٹی آئی نے سڑکوں پر آنے کی کال دے دی

دسمبر 21, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عمران خان کی صحت پر سیاست :سید مجاہد علی کا تجزیہ فروری 17, 2026
  • شکیل انجم پریس کلب کے صدر منتخب پروفیشنل جرنلسٹس نے تین مرکزی عہدے جیت لیے فروری 16, 2026
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی فروری 15, 2026
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ فروری 15, 2026
  • بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا فروری 15, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.