آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: وبا کے دنوں میں محبت!

پاکستان سمیت پوری دنیا اپنے اپنے گھروں میں سمٹی بیٹھی ہے۔ موت، گلیوں بازاروں میں دندناتی، ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک براعظم سے دوسرے براعظم, دھمال ڈالتی، دانت نکوسے پھر رہی ہے۔
چین کے شہر ووہان کے ایک بازار سے پھیلنے والا، کورونا وائرس اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے۔ سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں کے امتحانات، کانفرنسیں، شادیاں، کھیل کے مقابلے، بڑے اجتماعات، عالمی سفر، سب بند ہیں۔ کورونا وائرس پاکستان میں بھی پہنچ چکا ہے۔ حکومت ابتدائی حفاظتی اقدامات اٹھا چکی ہے۔ا ب یہ عوام پہ منحصر ہے کہ وہ اس وبا سے کیسے نمٹتے ہیں۔
پاکستان میں ابھی تک یہ وبا پھوٹی نہیں ہے لیکن اگر پھوٹتی ہے تو بڑے انسانی المیے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں علاج معالجے کی سہولیات کے احوال سے سب ہی بخوبی آگاہ ہیں۔ کورونا کے مریض کو جو نگہداشت درکار ہے وبا کی صورت میں، مریضوں کے لیے وہ مہیا کرنا پاکستان کے بس کی بات نہیں۔
وباء کا یہ ہے کہ جیسے اچانک آتی ہے ایسے اچانک ہی غائب بھی ہو جاتی ہے کیونکہ وائرس، موسمی حالات اور اپنی ہی نوع میں ارتقا کے باعث اچانک بےضرر بھی ہو سکتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہ وبا ڈھیٹ ثابت ہو تی ہے اور محلوں کے محلے صاف کر جاتی ہے۔
ماضی میں جذام، چیچک، طاعون، ہیضے اور انفلوئنزا کی وبائیں انسانی آبادیاں چاٹ جاتی تھیں۔ مگر انسان تب بھی جینے کی تگ ودو میں لگا رہا اور آخر وبا کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دنیا کے حالات میں ایک ٹھہراو سا آگیا تھا۔ سوائے سرد جنگ کے کوئی بڑی عالمی آفت نہ آئی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں محدود پیمانے پر بیماری پھیلی، جنگ ہوئی، زلزلے آئے اور گزر گئے۔
ستر پچھتر سال بعد آنے والی اس عالمی آفت نے انسانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک بار پھر یہ احساس ابھر رہا ہے کہ اپنی تمام تر ترقی اور عقل و دانش کے باوجود انسان کی حیثیت ایک پرکاہ سے زیادہ کچھ نہیں۔
موسمی حالات کے باعث ابھی وبا بپھری ہوئی ہے۔ امید ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے پہ چار ہفتے کے اندر اندر اس کا زور ٹوٹ جائے گا یا انسانوں میں اس کے لیے مدافعت پیدا ہو جائے گی اور یہ عام زکام، بخار کی طرح بےضرر ہو جائے گی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس کے خلاف مدافعتی نظام کروموسوم ایکس پہ موجود ہے چنانچہ خواتین اس سے نسبتا کم متاثر ہوں گی۔
یہ تو ان علاقوں کے معاملات ہوں گے جہاں موسم کی تبدیلی بہار اور گرمی لائے گی۔ آسٹریلیا وغیرہ میں موسم اس کے برعکس سرد ہو جائے گا۔ اسی طرح ہمارے ملک کے بھی کچھ علاقوں میں گرمی کے موسم میں درجہ حرارت میں اس قدر اضافہ نہیں ہوتا کہ اس وائرس کے لیے موافق موسم ختم ہو جائے۔
جب تک وبا گزرے گی جانے کیا کیا تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہوں گی۔ انسانی رویے، اقدار، روزمرہ معمولات کس حد تک تبدیل ہوں گے، کون جانتا ہے؟ یہ وبا ہمارے ساتھ کیا کرے گی، کچھ معلوم نہیں۔
فی الحال اتنا ہے کہ اپنے گھروں تک محدود رہیئے، حفاظتی تدابیر اختیار کیجئے۔ کتابیں پڑھیے، فلمیں دیکھیے، باغبانی کیجیے اور حوصلے سے، صبر سے وبا کے ٹل جانے کا انتظار کیجیے۔ ہیرو بننے اور حکومتی احکامات کو نظر انداز کرنے کی کوشش سے مزید مسائل جنم لیں گے۔
اگر کسی مریض پہ شک پڑے تو اسے چھپانے کی بجائے، ٹیسٹ کرائیے اور تصدیق پہ ڈاکٹر سے علاج کرائیے ۔ وبا کے دنوں میں ٹوٹکوں اور جھاڑ پھونک سے زیادہ بھیانک کوئی شے نہیں ہوتی، خود وبا بھی نہیں۔
کرنے والوں نے تو ’وباء کے دنوں میں محبت‘ بھی کی ہے مگر آپ اتنا ہی کیجیے کہ وبا کے دنوں میں نفرت سے ہی ذرا پرہیز کر لیجیے ۔ خدا سب کو اپنی امان میں رکھے ۔ آمین!
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker