ادبافسانےطلعت جاویدلکھاری

انار گل(2)۔۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
رستم شاہ بےحد وجیہہ اور چاہنے والا نکلا۔ وہ صبح سویرے وردی پہن کر ڈیوٹی پر چلا جاتا اور شام کو واپس آتا تھا۔ اس عرصہ میں انارگل کوارٹر کی صفائی اور دیکھ بھال کرتی۔ رستم شاہ کے لیے لذیذ کھانے تیار کرتی۔ کبھی رستم شاہ اپنی سرکاری جیپ پر اسے گھمانے لے جاتا۔ چند ایک بار وہ انارگل کے گھر پشین بھی گئے۔ انارگل رستم شاہ کے ساتھ بہت خوش اور مطمئن تھی اور رستم شاہ بھی انارگل کو حاصل کر کے پھولے نہ سماتا تھا۔ ایک روز پشین سے واپسی پر جب شام ہو گئی تو درختوں کے ایک جھنڈ سے رستم شاہ کی جیپ پر اندھادھند فائرنگ ہونے لگی۔ رستم شاہ نے پوری رفتار سے جیپ بھگائی۔ اس شام انارگل بہت پریشان تھی۔ رستم شاہ سمجھ رہا تھا کہ یہ فائرنگ سمگلروں اور جرا ئم پیشہ لوگوں نے کی ہے جو اس کے جانی دشمن تھے۔ مگر انارگل کو اندازہ تھا کہ یہ فائرنگ دراصل اس کے چچا زاد نے کرائی ہے جو اس کے ساتھ شادی کا خواہاں تھا۔ یہ بات اس نے رستم شاہ کو نہ بتائی۔
رستم شاہ نے ایک ماہ کی چھٹی لی تھی۔ اس ایک ماہ میں اس نے انارگل کو زیارت اور فورٹ سنڈیمن کی سیر کرائی۔ چھٹی کا آخری ہفتہ انہیں کوئٹہ اور اپنے آبائی گھر میں گزارنا تھا جہاں رستم شاہ کے والدین رہائش پذیر تھے۔ کوئٹہ میں رہائش کے لیے اس نے چھاؤنی میں ایک دوست کے گھر انتظام کیا تھا۔ رستم شاہ نے ایک جیپ کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔ اس نے اپنی نئی نویلی دلہن کو خوب سیر کرائی اور اس کے لیے خریداری کی۔ رستم شاہ کو بہت شوق تھا کہ وہ انارگل کو اپنا آبائی گاؤں اور گھر دکھائے اور وہ چند روز اس کے والدین کی معیت میں رہیں۔ چنانچہ اس نے ایک روز اپنے گاؤں کا قصد کیا۔ انارگل کو کوئٹہ سے نکل کر جھیل کی طرف جانے والا راستہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ کوئٹہ چھاؤنی سے نکل کر سڑک ایک بلند و بالا پہاڑ کی جانب جا رہی تھی۔ رستم شاہ نے بتایا کہ اس پہاڑ کے پیچھے ”ہنّہ جھیل“ ہے۔ انارگل کے گھر پشین میں پہاڑ دور نظر آتے تھے مگر اس کا گھر میدانی علاقے میں تھا۔ وہ پہاڑ پر چڑھنے کے تصور سے بیحد خوش تھی۔ چند روز قبل ہی اس نے زیارت وادی کی سیر بھی کی تھی اور ان کی جیپ بیحد دشوار گزار راستوں میں سے ہوتی ہوئی زیارت پہنچی تھی۔ جہاں صنوبر کے خوبصورت درختوں کا جنگل انارگل کو بہت اچھا لگا تھا۔
جھیل کے راستے میں بلند و بالا پہاڑ کو کاٹ کر سڑک نکالی گئی تھی۔ بہت چڑھائی تھی، ٹرک رینگ رینگ کر چل رہے تھے۔ رستم شاہ نے بائیں طرف مڑنے والی سڑک پر گاڑی موڑ لی ایک خوبصورت منظر تھا۔ چاروں طرف بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت جھیل۔ جیپ کا انجن بند ہوا تو اس قدر خاموشی تھی کہ انہیں اپنے سانس لینے کی آواز بھی آ رہی تھی۔ وہاں کوئی ذی روح نہ تھا۔ رستم شاہ نے انارگل کو کہا کہ وہ اپنا برقع اتار کر ذرا آرام کر لے۔ دور جھیل کے وسط میں ایک پگوڈا سا تھا۔ شام ڈھلنے لگی تو رستم شاہ نے انارگل کو کہا کہ اب چلیں چند میل کے فاصلے پر ہمارا گاؤں ہے۔ وہاں گھر والے ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔
اُڑک والا گھر انارگل کو بڑا ویران اور پراسرار سا لگا تھا۔ رستم شاہ کے والدین معمر تھے۔ رستم شاہ نے جیپ نیچے پانی کے ذخیرہ کے دفتر کے قریب کھڑی کر دی تھی۔ اور وہ دونوں ایک گھنٹے میں پتھریلی پگڈنڈی کے راستے رستم شاہ کے آبائی گھر پہنچے۔ انارگل اب جس کمرے میں رہ رہی تھی وہی شب بسری کے لیے انہیں دیا گیا تھا۔ رات بھر وہ سردی اور خوف کے مارے کانپتی رہی۔ تب اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے زندگی کا ایک طویل عرصہ اسی گھر میں گزارنا پڑے گا۔ انارگل کو چمن میں اپنا کوارٹر بیحد یاد آ رہا تھا۔ بادلِ نخواستہ اس نے چند روز وہاں گزارے اور رستم شاہ کے ساتھ واپس چمن روانہ ہو گئی۔ انارگل کے ہاں دو برس کے بعد جمال کی ولادت ہوئی وہ اور رستم شاہ بیحد خوش تھے۔ انہیں دل بہلانے کو ایک کھلونا مل گیا تھا۔ دس برس یونہی بیت گئے۔ جمال کو چمن کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ انارگل اپنے گھر میں بےحد خوش تھی۔
ایک روز رستم شاہ انارگل کو پشین اس کے گھر چھوڑ کر واپس چمن آ رہا تھا کہ درختوں کے جھنڈ سے دوبارہ اس پر اندھادھند فائرنگ ہوئی۔ رستم شاہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ انارگل کو اندازہ تھا کہ رستم شاہ کا قتل کس نے کیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے جمال کی زندگی بچانے کی غرض سے پشین نہ گئی بلکہ رستم شاہ کے آبائی گھر منتقل ہو گئی۔ اسے علم تھا کہ رستم شاہ کے قاتل جمال کو کبھی زندہ نہ چھوڑیں گے۔
کمرے میں پکے ہوئے گوشت کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ انارگل توے پر روٹیاں ڈال رہی تھی۔ اس خوشبو نے قندھار سے آئے ہوئے مہمانوں کی اشتہا اور بھی بڑھا دی تھی۔ کھٹاک سے دروازہ کھلا شہباز نے کھردرے لہجے میں پوچھا:
”کھانا تیار ہے؟ آدھی رات ہو گئی ہے۔“
انارگل نے ٹرے میں کھانا سجا کر شہباز کے حوالے کر دیا۔ مہمانوں نے خوب مزے لے کر کھانا کھایا اور پھر قہوہ پیا۔ صبح سویرے شہباز بھی قندھار سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ ہی نکل گیا۔ ابھی اندھیرا تھا جاتے ہوئے اس نے کچھ رقم انارگل کو پکڑائی اور بولا:
”ادھر قندھار میں افغانستان اور امریکہ کا لڑائی ہو گیا ہے تم یہ پیسے رکھو مَیں لڑائی میں جا رہا ہوں جلدی آ جاؤں گا۔“
انارگل کو اس بات کی سمجھ نہ آ رہی تھی کہ کبھی روس افغانستان کے ساتھ لڑائی کرتا ہے اور کبھی امریکہ مگر نشانہ اس کے جگر گوشے کیوں بنتے ہیں؟ پھر نہ شہباز واپس آیا اور نہ ہی اس کے قندھاری مہمان۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker