ادبافسانےطلعت جاویدلکھاری

انار گل(1)۔۔طلعت جاوید

وادی کوئٹہ کے نواح میں اُڑک کا خوبصورت علاقہ واقع ہے۔ سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل پہاڑوں کے درمیان زرخیز کھیت اور باغات اس وادی کو اور بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ سیب، آڑو، آلوبخارا، خوبانی کے باغات، گرما اور سردے کی کھیتیاں نہایت دلکش لگتی ہیں۔ کہیں کہیں انگور کی بیلوں پر مشتمل باغات فضا میں مستی بکھیر دیتے ہیں۔ مکئی کی فصل اور پھلوں کے باغات میں سے آنے والی ملی جلی خوشبو اُڑک کو جنت کا ایک حصہ بنا دیتی ہے۔ اس مقام پر چشموں اور رودکوہیوں میں اکٹھا ہونے والا پانی ذخیرہ ہوتا ہے اور پائپوں کے ذریعے کوئٹہ شہر کو فراہم کیا جاتا ہے۔
خم کھاتی ہوئی چھوٹی سی پختہ سڑک، پہاڑوں، کھائیوں، چشموں سے نکلنے والے صاف پانی کی کاریزیں، کچے پکے مکانات اور پھلوں کے باغات۔ پتھروں کے بنے ہوئے اکا دکا گھر آس پاس کے پہاڑوں پر اکثر نظر آتے ہیں اور ہر مکان کے ساتھ بُرج پر بندوق بردار شخص بھی نظر آتا ہے۔ ان مکانات میں رہنے والے گھنٹوں پتھریلی پگڈنڈیوں پر چل کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں جبکہ باربرداری کے لیے خچر استعمال کیے جاتے ہیں۔ پانی کے ذخیرہ کے عین اوپر پہاڑ پر اسی قسم کے ایک مکان میں کبھی رستم شاہ کا خاندان آباد تھا۔
رات گئے انارگل کام کاج سے فارغ ہو کر اپنے بستر پر لیٹی تو کھٹاک سے دروازے کا کواڑ کھلا اور شہباز نے اندر جھانکا ”سو گئی ہے؟“ وہ اُجڈ انداز میں بولا۔ ساتھ ہی ایک بھاری سی چیز اس کی کمر سے ٹکرائی۔ انارگل نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو گوشت کا بڑا سا ٹکڑا تھا۔ لالٹین کی روشنی میں شہباز ایک وحشی سا لگ رہا تھا۔ گھنی داڑھی، سر پر پگڑی اور پگڑی سے نکلتے ہوئے گردن تلک لمبے بال:
”قندھار سے مہمان آئے ہیں جلدی سے روٹی بنا دو۔“
شہباز انارگل سے یوں مخاطب تھا جیسے وہ اس کی باندی ہو۔ شہباز انارگل کا پوتا تھا۔
”کتنے مہمان ہیں؟“
انارگل بستر سے اٹھتے ہوئے بولی۔
”پنیزا“ شہباز بولا اور کواڑ بند کر کے چلا گیا۔
انارگل کا کمرہ گودام بھی تھا، نشست گاہ بھی اور باورچی خانہ بھی۔ ایک کونے میں تین بکریاں، دو دنبے چند مرغیاں اور کچھ پرندے رہائش پذیر تھے۔ دوسرے کونے میں ٹونٹی لگا پانی کا ڈرم رکھا تھا جو بیک وقت کپڑے اور برتن دھونے کے کام آتا تھا۔ انارگل غسل بھی اسی کمرے میں کرتی تھی۔ اس گھر میں صرف دو افراد رہتے تھے انارگل اور اس کا پوتا شہباز۔ انارگل کا شوہر رستم شاہ نوجوانی میں ہی گولی کا نشانہ بن گیا تھا۔ ان کا اکلوتا بیٹا جمال افغانستان میں روسی فوجوں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا اور اس کی بیوہ زرغونہ جمال کے مرنے کے بعد شہباز کو جنم دے کر اپنے قبیلے واپس چلی گئی تھی۔ انارگل نے شہباز کو اپنی اولاد کی طرح پالا تھا اور وہ انارگل کو اپنی ماں سمجھتا تھا۔
انارگل کے روزمرہ کے معمولات بہت سخت تھے۔ اس کا پتھر سے بنا ہوا مکان پہاڑ کی چوٹی پر تھا۔ دو کمرے اور آگے پتھریلا صحن۔ صحن میں تین تین فٹ اونچی دیوار اور ایک جانب دیوار میں سے راستہ پگڈنڈی کے ذریعے نیچے کھیتوں اور باغات تک چلا جاتا تھا۔ صحن کے ایک کونے میں برج بنا ہوا تھا جس میں شہباز اپنی توڑے دار بندوق لیے بیٹھا رہتا تھا۔ دور تک پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ ان کی دشمنی اب کسی سے نہ تھی مگر برج میں بندوق لے کر بیٹھے رہنا شاید ایک ایسی رسم تھی جس سے پہلو تہی نہ کی جاتی تھی۔ نیچے مکئی کا ایک کھیت اور سیب کا باغ ان کی ملکیت تھا۔ شہباز کو سخت کام کی عادت نہ تھی لہٰذا باغ اور زمین ہر سال ٹھیکے پر دے کر معمولی رقم حاصل کر لیتا تھا اور سال بھر یونہی تنگی ترشی میں گزر بسر ہوتی۔ بکروں، دنبوں اور مرغیوں کی خرید و فروخت اضافی کاروبار تھا جو محنت طلب نہ تھا لہٰذا شہباز کی وساطت سے انارگل خود اس کی نگرانی کرتی تھی۔ انہی بکروں، دنبوں اور مرغیوں میں سے وہ اپنی خوراک کا بندوبست بھی کر لیتے تھے۔ ایک بکری ذبح کرتے اور گوشت کئی مہینوں تک کمرے کے پچھواڑے میں کھلنے والی کھڑکی میں لٹکا رہتا اور حسب ضرورت کاٹ کر استعمال کر لیا جاتا تھا۔ ٹھنڈی وادی، خشک اور خنک ہوا میں ایک عرصے تک گوشت خراب نہ ہوتا۔ جانور فروخت کر کے گندم خرید لی جاتی، مکئی اپنے کھیتوں کی فصل سے ٹھیکے کی رقم کے علاوہ دستیاب ہو جاتی۔ سبزی اور پھل خریدنے کا سوال ہی نہ تھا۔ آس پاس کے باغات اور کھیتوں میں سے ضرورت کی اشیاءحاصل کر لی جاتی تھیں اس کی ممانعت نہ تھی۔ لباس سال میں ایک یا دو مرتبہ تیار کیا جاتا تھا۔ انارگل کے پاس اپنی شادی کے ملبوسات ابھی قابلِ استعمال حالت میں موجود تھے۔
انارگل صبح سویرے اٹھتی جانوروں کو چارہ اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی، کمرے میں جھاڑو دیتی، اپنے لیے اور اگر شہباز گھر میں موجود ہوتا تو ا س کے لیے مکئی کی روٹی بناتی۔ بکریوں کا دودھ دوہتی، کمرے میں رکھے ہوئے مٹی کے ایک بڑے برتن سے ضرورت کی گندم یا مکئی نکالتی اور کمرے ہی میں رکھی ہوئی چکی سے آٹا تیار کرتی۔ کھڑکی میں لٹکے گوشت سے ضرورت کے مطابق گوشت کاٹتی اور بڑے دیگچے میں پانی ڈال کر اُبلنے رکھ دیتی تھی۔ ایک دن کا پکا ہوا گوشت کئی روز تک کام آتا۔ کبھی انارگل کو سودا سلف لینے نیچے قصبے میں بھی جانا پڑ جاتا اور اس روز اس کی ہڈیاں چٹخ جاتی تھی۔ کئی روز جسم درد سے بھرا رہتا۔ ہفتے میں ایک بار شہباز ایک لکڑی کاندھے پر رکھ کر دو پلاسٹک کے ڈرم دونوں طرف لٹکائے نیچے سے پانی لے آتا جو ان کی ہفتہ بھر کی ضروریات کے لیے کافی ہوتا تھا۔
گوشت کا ٹکڑا ابھی تک انارگل کے جسم کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔ وہ اس روز بیحد تھک گئی تھی۔ 65 برس کی عمر میں بھی وہ دن بھر گھر کے کام کاج میں جُتی رہتی۔ اسے اندازہ تھا کہ شہباز پھر آ کر اس کے ساتھ گستاخی کرے گا کہ ابھی اس نے کھانا تیار کرنا شروع نہیں کیا۔ وہ مارے باندھے بستر سے اُٹھ گئی۔ دیوار میں لگے شیلف سے ایک چھری اٹھائی اور گوشت کے پارچے بنا کر بڑے دیگچے میں ڈالے، اسے نصف پانی سے بھرا اور ڈھکنے کو ایک کپڑے سے باندھ کر چولہے پر رکھا اور لکڑیاں سلگانے لگی۔ اس کام سے فارغ ہو کر ایک پرات میں مکئی کا آٹا گوندھا تاکہ گوشت تیار ہونے تک وہ روٹی بھی تیار کر لے۔
انارگل گوشت کا سالن تیار کر رہی تھی اور ساتھ کے کمرے میں غل مچا ہوا تھا۔ شہباز کے قندھار سے آئے مہمان اسی کی طرح وحشی اور اُجڈ نظر آ رہے تھے۔ بڑی بڑی داڑھیاں، لمبے بال، سرخ آنکھیں، سیاہ پگڑیاں اور خاکی جیکٹیں پہنے، اونی چادریں اوڑھے اور جدید بندوقیں اٹھائے یوں لگتا تھا کہ وہ کسی معرکے سے آئے ہیں۔ انارگل کو جنگ و جدل سے سخت نفرت تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا جمال روس کے ساتھ افغانستان کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ ایک روز اسی طرح کچھ لوگ ان کے مہمان بن کر آئے تھے اور جاتے ہوئے جمال کو ساتھ لے گئے۔ اس کی بہو زرغونہ نے بہت منتیں کی تھیں، واسطے دیئے تھے کہ وہ ماں بننے والی ہے جمال اپنی روانگی مؤ خر کر دے مگر اس نے سنی اَن سنی کر دی تھی۔ اسے ایک وافر رقم دی گئی تھی کیونکہ وہ ایک زبردست نشانچی تھا۔ جمال جاتے ہوئے زرغونہ سے مل کر بھی نہ گیا اسے خوف تھا کہ اسے دیکھ کر شاید وہ اپنی روانگی منسوخ نہ کردے۔ وہ جاتے ہوئے انارگل کو کچھ رقم دے کر گیا تھا جو اسے ان مہمانوں نے دی تھی اور تاکید کر گیا تھا کہ وہ زرغونہ اور ان کے ہونے والے بچے کا خیال رکھے اور اس کی پرورش میں کوئی کمی نہ آنے دے۔ دس برس وہ جمال کا انتظار کرتی رہی۔ ایک روز ننھے شہباز نے بتایا کہ کچھ مہمان آئے ہیں اور وہ اس سے ملنا چاہ رہے ہیں۔ انارگل باہر گئی تو ان مہمانوں نے بتایا کہ جمال بہت بہادری کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایک تھیلی انارگل کے حوالے کی جو رقم سے بھری ہوئی تھی…. انارگل ذہنی طور پر اس خبر کے لیے تیار تھی…. شہباز کو بھی اندازہ تھا اس نے جمال کو دیکھا تک نہ تھا۔ اس نے انارگل سے ان مہمانوں کے بارے کوئی تذکرہ نہ کیا۔ ان کی لائی رقم بہت سالوں تک ان کے استعمال میں رہی۔ انارگل نے اپنا دل آس پاس کے سنگلاخ پہاڑوں کی طرح سخت کر لیا تھا۔
انارگل کو شہباز کے حلیے سے وحشت ہوتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے دادا رستم شاہ کی طرح وجیہہ اور خوبصورت نظر آئے۔ شہباز کی رستم شاہ کے ساتھ بہت مماثلت تھی مگر بڑھی ہوئی داڑھی اور بالوں نے اس کی ہیئت تبدیل کر دی تھی۔ اب وہ ایک اُجڈ قبائلی لگتا تھا۔ دس برس کی مدت تک تو انارگل نے شہباز کا بیحد خیال رکھا تھا۔ اسے صاف ستھرے کپڑے پہناتی، اچھا کھانا کھلاتی رہی پھر اس کے بعد وہ اس کے کہنے میں ہی نہ رہا۔ کئی کئی روز غائب رہتا پھر یکدم کہیں سے نمودار ہو جاتا۔ کچھ دن گھر میں رہتا اور پھر غائب ہو جاتا۔ اس عرصہ میں وہ گھریلو استعمال کی اشیاءخرید کر گھر میں رکھ دیتا تھا۔
اس گھر میں وہ اس وقت آئے تھے جب جمال دس برس کا تھا۔ یہ گھر رستم شاہ کا آبائی گھر تھا۔ رستم شاہ بارڈر سیکورٹی پولیس میں حوالدار تھا اور ایک طویل عرصہ چمن میں تعینات رہا۔ انارگل رستم شاہ کی موت کے بعد نوعمر جمال کو لے کر اس گھر میں منتقل ہو گئی تھی۔
انارگل پشین کی رہنے والی تھی۔ پشین کا قصبہ کوئٹہ اور چمن کے راستے میں نہایت زرخیز علاقے میں واقع تھا۔ انارگل کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں وہ سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھی۔ اس کا باپ ایک متوسط کاشتکار تھا۔ انارگل پشین کے پرائمری سکول میں چھٹی جماعت میں زیرِ تعلیم تھی۔ سرخ و سپید رنگت، نیلی آنکھیں اور شہد آگیں بال۔ وہ اپنے سکول کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی۔ ایک روز رستم شاہ ان کے اسکول میں آیا خاکی وردی زیب تن کیے گورا چٹا، طویل القامت، بڑی بڑی مونچھیں سر پہ فوجی ٹوپی وہ ایک جیپ پر سوار تھا۔ وہ انارگل کی استانی کا بھائی تھا اور اسے ملنے آیا تھا۔ رستم شاہ انارگل کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گیا تھا۔ وہ بات اپنی بہن سے کر رہا تھا مگر اس کی نگاہیں اسکول کے گراؤ نڈ میں بیٹھی انارگل کا جائزہ لے رہی تھیں۔ انارگل کی استانی اپنے بھائی کو اسکول کے اندر دفتر میں لے گئی۔
چند روز ہی گزرے تھے کہ ایک جیپ انارگل کے گھر کے باہر رکی اور اس کی استانی اور چند برقع پوش خواتین گھر میں داخل ہو گئیں۔ انارگل اس وقت چھت پر بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ استانی اور یہ خواتین اس کے گھر میں کیوں آئی ہیں؟ رات گئے گھر میں کھسر پھسر اور مشورے ہوتے رہے۔ انارگل کے باپ نے اپنے بھائیوں کو بلا لیا اور ان سے گفت و شنید کرنے لگا۔ مہمانوں کو چند روز بعد دوبارہ آنے کی دعوت دی گئی۔ اس اثناءمیں انارگل کی والدہ نے اسے بتایا کہ استانی کے بھائی کا رشتہ اس کے لیے آیا ہے۔ اچھا لڑکا ہے، پولیس میں ہے، وردی پہنتا ہے۔ چند ہفتوں کے بعد انارگل کی شادی رستم شاہ کے ساتھ ہو گئی۔ انارگل کو یاد تھا جب اسے سرخ کپڑے پہنائے گئے۔ رستم شاہ کی بارات جیپوں اور ایک لاری میں آئی تھی۔ قصبے بھر میں خوب رونق تھی۔ اس رات بندوقوں کے ہزاروں فائر کیے گئے۔ پورا آسمان چکاچوند ہو گیا تھا۔ انارگل رستم شاہ کی دلہن بن کر چمن میں اس کے کوارٹر میں رہائش پذیر ہو گئی۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker