اختصارئےانیلہ اشرفلکھاری

احمد پورشرقیہ کے پندرہ سالہ نامعلوم کی عالم بالا سے بہن بھائیوں کو عید مبارک ۔۔ انیلہ اشرف

پیارے بہن بھائیو
زندگی نے ہمیں ہمیشہ پیٹ بھر کر روٹی کھانے سے بھی محروم اور غربت کا شکار رکھا اوراب موت نے بھی مجھے نامعلوم بنا دیا ہے ۔ پیارے بہن بھائیو آج عید ہے اور میں عالم بالا سے اپنی بستی جو ئیہ کو عید کی خوشیاں مناتے دیکھنے کی بجائے غم سے نڈھال دیکھ رہا ہوں ،عید کے دن سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو آج لوگ تم سب سے بھی مل رہے ہیں مگر ہمارا پر سہ دینے کیلئے گھر میں غربت اتنی تھی کی امی ابو ہمیشہ سسک سسک کر ہمیں پا لتے رہے۔کل جب علی الصبح بستی والوں کو پتہ چلا کہ بھاری بھرکم آئل ٹینکر بستی کے قریب الٹ گیا ہے اور اس سے تیل کی گنگا بہہ رہی ہے ہر طرف شور مچ گیا،ابو نے مجھے بھی کہا کہ بالٹی اور کولر اٹھاؤ ہم چلیں پہلے تو میں انکار کرنا چاہتا تھا پھر سوچا عید میں صر ف ایک دن رہ گیا ہے۔ہم بھی تیل بھر کر لا تے ہیں تاکہ اسے فروخت کر کے تم سب کیلئے کم ازکم عید کے کپڑے اور جوتیاں ہی لاسکیں کیو نکہ ابو اور میں دونوں مزدوری کر تے تھے اس کے باوجود اتنا نہیں ہو سکا کہ تمام گھر والوں کیلئے نہ سہی تم سب کیلئے ہی عید کے سستے سے کپڑے خرید لیتا،مالک سے بات کی تھی بدلے میں ہڈحرامی اور کام چوری کےطعنے اور گالیاں ملیں ۔ماہ رمضان دل گرفتہ گزرا ،روز سوچتا تھا اللہ کو ئی سبب پیدا کر دے تاکہ میرے بہن بھائی بھی عید پر مسکرا سکیں میٹھی عید پر میٹھی سویاں کھا سکیں ۔ دیکھو نا کل اللہ نے معجزہ کر دیا اور پوری بستی کے جاں بحق ہو نے والے اپنی غربت کا مذاق اڑاتے ہو ئے آئل ٹینکر کی طرف دوڑ پڑے۔ میں بھی خوش تھا کہ ہماری قسمت بدلنے والی ہے اور ہم جو پیدائش سے بڑھاپے تک خاک چھان کر بھی اپنی نسلوں کو بھوک و افلاس سے بچا نہیں پا تے ہیں ۔اس عید پر ساری بستی کے گھروں سے ایک دوسرے کو جھڑکیاں،طعنے،گالی گلوچ اور مارپیٹ سمیت بری قسمت کا الزام لگانے کی آوازیں سننے کی بجائے بوڑھوں کی نصیحتیں،امی،دادی،نانی،خالہ،پھوپھی ،تائی ،چچی اور ہمسائی خواتین کے کھانوں کی خوشبو،بچوں کی لش پش تیاریوں کے ساتھ عید ی لینے کو خوشیوں سے لطف اندوز ہوں گے اور عید کے دن غربت کو شکست دے دیں گے۔ابو اور بستی کے دیگر لوگوں کے ساتھ میں بھی سرپٹ دوڑ پڑا وہاں جا کر دیکھا تو ایسے لگا بستی ہی امڈ آئی ہے۔ بس پھر کیا تھا تیل کے بہتے دریا پر بند باندھتے ہو ئے دوسروں کی طرح میں بھی بالٹی اور کولر میں تیل بھرنے لگ گیا۔ہر طرف خوشی کی آوازیں تھیں لوگ چہک رہے تھے ۔سب یہی کہہ رہےتھے کہ اب کی بار عید اچھی گزرے گی۔ زندگی میں پہلی بار کوئی دولت دیکھی وہ بھی تیل کی ۔کیسے ضائع جا نے دیں۔ تیل بھرنے کا مقابلہ شروع ہوا تو لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کو شش میں تھے۔ میرے جیسے اور بچے بھی آئے ہو ئے تھےکان پڑی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی اگر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو بھی پتہ نہیں چلاآخر عید منانی تھی ادھار پر سہی چند روز سکون لینا تھا کیونکہ عمر بھر بھی محنت کر تے تو بھی ایسی دولت دوبارہ ہاتھ نہیں آنی تھی ، کولر بھر کر میں بالٹی بھرنے ہی لگا تھا کہ دھماکہ ہوا اور چاروں طرف سے آگ نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری چند لمحوں کی خوشی کے حصول کی سزا تم لوگوں کو عمر بھر غموں کا تحفہ دے گئی اور میں عالم بالا پہنچ گیا۔ میں تو تم لوگوں کو اچھے تحائف لےکر دینے کا سوچ کر گیا تھا۔مگر ہم غریبوں کو وقتی خوشی بھی راس نہیں آئی ۔ میں بہت شرمندہ ہوں تم لوگوں سےکہ اچھی عید کر نے کی بجائے میرے ننھے منے بہن بھائیو تم سے عید ہی چھین لی۔ وہاں تم لوگ ماتم کر رہے ہو ۔میری بستی کی مائیں،بہنیں اور باقی معصوم بچے بیٹوں،بھائیوں،باپ سے محروم ہو گئی ہیں کتنی سہاگنوں کے سہاگ تیل نے بھسم کر دیئے۔ مگر جس غربت کو ختم کرنے کیلئے ہم جانوں سے گزر گئے اب وہ غربت مزید پنجے گاڑ لے گی اور تم لوگوں کو کھا جا ئے گی۔ نہ جانے کبھی تم لوگ عید منا بھی پاؤ گے یا نہیں کیونکہ تم لوگوں کے اردگرد بس یا اللہ رحم کی صدائیں ہیں ہمارے بڑوں کے تھوڑےسے لا لچ نے مجھے موت کے منہ میں پہنچا دیا اور تم لوگ عید کے دن سوگ میں ڈوب گئے۔ تم لوگوں سے چند لوگ ہمدردی کریں گے ،بڑے بڑے دعوے ہوں گے مگر گھروں میں ناچتی بھوک ختم کرنے کا کوئی نہیں سوچے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker