ادبڈاکٹر انور زاہدیشاعریلکھاری

ایک غزل : سراج اورنگ آبادی کی نذر ۔۔ ڈاکٹر انور زاہدی

ایک غزل : سراج اورنگ آبادی کی نذر ۔۔ ڈاکٹر انور زاہدی

نظر اس تجلیء ناز پہ جو گڑی وہیں پہ گڑی رہی
بجھی شمع ، محفل اجڑ گئی ، مری جاں ادھر ہی پڑی رہی

مجھے آیا روشن نظر دیا، رکھا ایک اجڑے سے طاق میں
جہاں طاق تھا وہ مزار تھا، مگر حسن جاناں کھڑی رہی

کٹی عمر کچھ نہ پتہ چلا، کیسے گزرے پل اور قرن بنے
لگا یوں وہ شب جو سیاہ تھی ، وہ سحر میں جیسے جڑی رہی

کبھی لوٹ اے رخشِ عمر تو ُ ، تری آس اب بھی جوان ہے
نہ وہ وقت ہے ، نہ سماں وہی ، مری چاہ دل میں ہری رہی

نہ وہ طاق ہے نہ مزار وہ ، ہے دیار اجڑا ہوا یہاں
تو کہاں گئی ؟ میں رہا کہاں ؟ وہی ایک باقی گھڑی رہی

ہے خبر کہ انور کہاں ہے تُو ، نہیں چارہ گر کوئی آشنا
ہے ہجوم چاروں طرف یہاں اک نظر وہیں پہ پڑی رہی

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker