ادبتجزیےعقیل عباس جعفریلکھاری

جون ہونا، کوئی مذاق نہیں : عقیل عباس جعفری

چند روز قبل انیق احمد نے دلچسپ واقعہ سنایا: کراچی کی ایک نجی جامعہ نے جون ایلیا کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ پروگرام نوجوان طلبا نے ترتیب دیا تھا، وہی جون کی شاعری سنا رہے تھے اور وہی اس پر گفتگو کر رہے تھے۔سامعین میں انیق احمد، شکیل عادل زادہ، آصف فرخی، انعام ندیم اور ہم بھی شامل تھے۔
انیق احمد کہتے ہیں کہ وہ پروگرام سے اکتا کر باہر نکل آئے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ نوجوان جو لہک لہک کر جون کی شاعری سنا رہا تھا خود بھی ہال سے باہر آیا۔انیق احمد نے اسے مخاطب کیا اور پوچھا تم نے جون ایلیا کی کون کون سی کتابیں پڑھی ہیں؟ وہ نوجوان حیران ہوا، ‘اچھا، جون ایلیا کی کتابیں بھی موجود ہیں؟’
انیق احمد نے پوچھا ‘شاید، یعنی، لیکن، گمان اور گویا۔۔۔ کیا آپ نے ان میں سے کوئی کتاب نہیں دیکھی؟’
نوجوان بولا ‘کوئی کتاب نہیں دیکھی، میں نے تو جون ایلیا کی شاعری صرف فیس بک پر پڑھی ہے یا یو ٹیوب پر سنی ہے۔’
تو احبابِ من، یہ ہے صورتحال۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جون ایلیا کی شاعری خصوصاً محبوبہ کو مخاطب کر کے کی جانے والی شاعری نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہے۔اب کون نوجوان ہوگا جو جون کی اس شاعری پر سر نہیں دھنے گا۔
شرم، وحشت، جھجھک، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ، وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے
تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں
۔۔۔
میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت
تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے
تیرے جانے کے بعد بھی میں نے
تیری خوشبو سے گفتگو کی ہے
مگر یہ فیس بک کا کمال ہے کہ جون ایلیا اس وقت اردو کے مقبول ترین شاعر بن چکے ہیں۔
نوجوان ان کی شاعری پڑھتے ہیں اور فارورڈ کرتے ہیں۔ ایس ایم ایس، واٹس ایپ کے ذریعے آگے بڑھاتے ہیں اور ان کی سالگرہ اور برسی ایک ایونٹ کے طور پر مناتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ جون ایلیا کی زندگی میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی مداح تھی، خود ہم بھی ان میں شامل تھے۔
اس وقت تک جون کا کوئی مجموعہ کلام نہیں چھپا تھا، نہ فیس بک تھی، نہ ٹوئٹر، نہ یوٹیوب، نہ وٹس ایپ سو رسالوں اور اخبارات میں جون کا کلام ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھا کرتے تھے۔
لے دے کر ایک فنون کا غزل نمبر تھا جس میں جون کی اکھٹی دس غزلیں چھپی تھیں۔اور ایک نیرنگ خیال کا غزل نمبر، جس میں چھ غزلیں۔ پھر کچھ مشاعروں اور شعری نشستوں میں ڈائریوں میں نوٹ کی گئیں غزلیں جو ہم ایک دوسرے کو سناتے تھے۔
پھر جب 1980 کی دہائی میں جون ایلیا سے ملاقات ہوئی تو خود ان کی زبانی ان کی بہت سی غزلیں سننے کا اعزاز ملا اور ان کی بہت سی غزلوں کے اولین سامعین میں شامل ہونے کا فخر بھی حاصل ہوا۔
نوے کی دہائی میں کچھ اور نوجوان جون کے حلقے میں شامل ہوئے، جن میں خالد احمد انصاری بھی شامل تھے۔ خالد نے جون کی شاعری کو محفوظ کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔
مگر اب یہ جو کچھ ہو رہا ہے، کیا اسے ‘جون شناسی’ کہا جا سکتا ہے؟ جون کے قریبی دوستوں میں جنھیں وہ (ممتاز سعید، حسن عابد، راحت سعید اور محمد علی صدیقی کے ناموں کے اولین حروف کی نسبت سے) ‘محرم’ کہتے تھے، میں سے تین دوست دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ شکیل عادل زادہ، انور شعور، اسد محمد خان اور کئی دوسرے احباب انھیں یاد کرتے رہتے ہیں مگر اپنے اپنے حلقے میں۔
فیس بک اور سوشل میڈیا پر جون ایلیا کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کچھ نے اپنا حلیہ جون جیسا بنا لیا ہے۔ ایک نے تو اپنے بیٹے کا نام ہی جون ایلیا رکھ دیا ہے۔
اور کچھ غیرمانوس فقط لکھ لکھ کر خود کو ان کا ہم پلہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں۔ مگر کیا ان میں سے کسی نے جون جیسا نہیں تو کچھ تھوڑا کم ہی سہی، مطالعہ بھی کیا ہے؟
یہ ہے ایک جبر، اتفاق نہیں
جون ہونا، کوئی مذاق نہیں
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker