اسلام آباد : پاکستان کے کینیا میں قتل ہونے والے صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور جب ان کا پاکستان میں رہنا محال کر دیا گیا تو وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
خط کے مطابق ارشد شریف کو اس وقت دبئی سے باہر نکلنا پڑا جب وہاں کے حکام نے انھیں دوبارہ ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جویریہ صدیق کے مطابق آذربائیجان نے ارشد شریف کو ویزا دے دیا تھا مگر جب انھوں نے دوبارہ کوشش کی تو یو اے ای کا انھیں ویزہ نہ مل سکا۔
جویریہ کے مطابق جب جلدی سے ان کے شوہر کو پاکستان چھوڑنا پڑا تو وہ ٹھیک سے اپنا روٹ بھی طے نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے انھوں نے محدود آپشن کی وجہ سے کینیا کا رخ کیا، جہاں ان کا بہیمانہ قتل کر دیا گیا۔جویریہ صدیق نے صدرمملکت سے کہا کہ ان کے شوہر بہت نڈر صحافی تھے جن کا واحد جرم طاقتور حلقوں کے سامنے سچ لکھنا اور بولنا تھا، جس کی پاداش میں انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔
ارشد شریف کی اہلیہ نے خط میں لکھا کہ ان کے شوہر کے پوسٹ مارٹم کی جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ ان کی اجازت کے بغیر لیک کی گئیں ہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کی طرف سے انھیں کوئی مدد نہ مل سکی۔انھوں نے صدر سے یہ اپیل بھی کی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے دوران میڈیا ٹرائل کو روکا جائے تاکہ انصاف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔
( بشکریہ بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

