اسد اللہ غالبکالملکھاری

رائےو نڈ میں المناک دہشت گردی: اندازجہاں / اسد اللہ غالب

لاہور کے نواح میں رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کی حفاظت کے لئے قائم کی گئی پولیس چیک پوسٹ سے دہشت گردوں نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی، وہ کسی بڑی واردات کے لئے آئے تھے مگر چیک پوسٹ پر متعین پولیس کے افسروں اور جوانوں نے انہیں للکار اجس پر دہشت گردوں کے سرغنہ نے خود کو اڑا لیا۔ موقع پر پانچ پولیس اہل کار شہید ہو گئے ، چار سویلین بھی شہید ہوئے، بیسیوں کی تعداد میں زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں طبی امدا کے لئے پہنچایا گیا مگر ان میں سے مزید دو پولیس اہل کار جام شہادت نوش کر گئے، پی ٹی وی کے مطابق کچھ پولیس والوں کی حالت نازک ہے اور وہ جناح ہسپتال ا ور شریف سٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ زخمیوں کو صحت یاب فرمائے ، آمین۔
ملک میں امن وامان کی حالت انتہائی تسلی بخش تھی، اسی کی وجہ سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے جلسے کسی ڈر اور خوف سے بالاتر ہو کر منعقد کر رہے تھے مگر لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ابھی فرقہ ورانہ دہشت گردی کے جراثیم پنپ رہے تھے۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع پر حملے کی کوشش پر بلا سوچے سمجھے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے پیچھے فرقہ ورانہ محرکات شامل ہیں، ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ، کئی لشکر بنے ہوئے ہیں جو اپنے مخالفین کی جانیں لینے میں مصروف ہیں، مگر فاٹا کے کلیئر ہونے کے بعد عمومی دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا تھا، کراچی میں گینگ وار کو بھی کنٹرول کر لیا گیا، بھتہ خوری ،قبضہ مافیا اور اغوا کنندگان کو بھی ڈھیر کر دیا گیا۔ بلوچستان میں فراریوں کے کیمپ اجڑ گئے ، اور منظم دہشت گردی کو ملیا میٹ کر دیا گیا، اس میں بھارتی دہشت گرد کل بھوشن کی گرفتاری نے بھی اہم کردار ادا کیا کیونکہ اب اندرونی عناصر کو شہہ دینے والا کوئی نہ تھا۔
قوم نے بڑے اطمینان کے ساتھ سینیٹ کے الیکشن کا مرحلہ سر کیا، اب اگلے عام انتخابات کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں مگر دشمن نے کسی کونے کھدرے سے اپنے وجود کااحساس دلانے کی کوشش کی ہے ۔ توقع رکھنی چاہئے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گی اور رہے سہے عناصر کی بیخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی ، انشا اللہ !
قائد اعظم کا فرمان ہے کہ زندہ قومیں آزمائش کی گھڑی میں گھبرایا نہیں کرتیں ، ہم اپنے ہوش و حواس قائم رکھ کر ہی اس امتحان سے سرخرو ہو سکتے ہیں۔رائے ونڈ کی دہشت گردی نے ہمیں ایک واضح پیغام دیا ہے جسے سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیئے کہ ہمیں اندرونی خلفشار اور انتشار سے بچنا ہو گا، ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے سے گریز کرنا ہو گا، یہ جو جوتا چلانے کا شوق چل نکلا ہے،قوم کے سبھی طبقات نے اس کی مذمت کی ہے۔ اس روش پر قابو پانے کے لئے سیاسی اور مذہبی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو صبر و تحمل سے کام لینے کا درس دیں اور رواداری ،برداشت، بردباری سے کام لینے کی ہدایت کی جائے۔ سیاست اور مذہب میں اختلاف رائے تو ہو سکتا ہے مگر اسے دشمنی کی حد تک نہیں لے جانا چاہئے۔
بحیثیت قوم ہمیں ایک نکتہ ذہن نشین کر لینا چایئے کہ جب ہمارے چاروں طرف دشمن ہی دشمن موجود ہیں اور وہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تو کم از کم ہمیں خود تو خونریزی کے اس کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔دشمن ہمیں صاف نظر آ رہے ہیں ، ان کی فوجوں کی فوجیں ہماری سرحدوں پر صف بندی کر چکی ہیں، ان کے گماشتے اور تربیت یافتہ ایجنٹ بھی ہمیشہ دہشت گردی کی حرکتیں کرتے رہے ہیں ، ہماری مسلح افواج نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اندرون ملک موجود دہشت گردوں کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔اس جنگ میں فوج کے آٹھ ہزار افسرا ور جوان شہید ہوئے اور قوم نے بھی ایک لاکھ شہادتوں کا نذرانہ دیا مگر اس جدو جہد نے پاکستان کا اقوام عالم میںنام اونچا کر دیا کہ ہم واحد ملک ہیں جس نے دہشت گردی کی جنگ جیتی ہے ورنہ عالمی افواج کبھی عراق ، کبھی شام ، کبھی لیبیا، کبی سوڈان ،کبھی یمن اور کبھی افغانستان میں بھٹکتی پھرتی ہیں اور اور کسی ایک جگہ بھی انہیں قیام امن میں کامیابی نہیں ملی۔ شام کی خانہ جنگی کو چار سال مکمل ہو گئے اور چار لاکھ انسان اس میں لقمہ اجل بن گئے، امریکی اور روسی طیاروں تک نے شام میں وحشانیہ بمباری کی اور خون کی ندیاں بہائیں ، اس کے مقابلے میں پاکستان نے بہت کم نقصان کے ساتھ ایک بڑی جنگ جیت لی ہے۔
حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم مسلسل اور مکمل چوکسی کا مظاہرہ کریں اور مطمئن ہو کر بیٹھ نہ جائیں کیونکہ ہمیں ایک عیار دشمن سے پالا پڑ گیا ہے۔ہمیں ان اسباب پر بھی غو ر کرنا ہو گا کہ افغانستان کے ہمسائے میں ایران بھی پر امن ہے، وسط ایشیا کے ممالک بھی چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور بھارت کو بھی افغان جنگ سے کوئی خراش تک نہیں آئی مگر ہم لہو لہو کیوں ہو گئے، اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہیے اور اس کی افواج اللہ کے فضل سے ناقابل تسخیر ہیں، ہمارے دشمن اس طاقت سے خار کھاتے ہیں اور ہمیں نہتا کرنا چاہتے ہیں، ہمارا خون بہا بہا کر ہمیں کمزور ، بے بس اورمایوس کرنا چاہتے ہیں، رائے ونڈ کے خونیں المئے کا واضح پیغام یہی ہے۔
مگر قوم نے بھی اپنے دشمن کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہماری بہادر افواج کی طرح اب ہماری پولیس بھی جوانمردی اور قربانی دینے میں پیش پیش ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے، پولیس کے شہیدوں کے جنازے سرکاری اعزاز کے ساتھ پڑھائے گئے اور ان شہیدوں کو عزت و احترام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، ایک شہید سپاہی کے بیٹے نے بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بڑا ہو کر پولیس میں بھرتی ہو گا اور وطن کی حفاظت کے لئے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ جس قوم میں بچوں کا ولولہ یہ ہو، اسے کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا۔
(بشکریہ :روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker