عطاء الحق قاسمیکالملکھاریمزاح

ایک پھدکتا ہوا ننھا منا جہاز اور مسافر ۔۔ عطاء الحق قاسمی

لاہور سے اسلام آباد جانے والی فلائٹ ’’اناؤنس‘‘ ہو گئی چنانچہ ہم دوڑ کر ننھے منے سے ’’اے ٹی آر‘‘ میں جا بیٹھے۔ تھوڑی دیر کے بعد یہ ’’معصوم‘‘ سا جہاز (جو کمپنی نے بنانا بند کر دیا ہے) فضا میں تھا۔ میں نے کھڑکی میں سے نیچے جھانکنے کی کوشش کی مگر نیچے دھند اور گہرے بادل تھے۔ میں نے اپنے دوست کو مخاطب کرکے کہا، اس کی نظریں بھی کھڑکی کی جانب تھیں، ’’نبڑ لاں گے‘‘۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا ’’مگر تم اس اے ٹی آر صاحب کا حلیہ ملاحظہ کر رہے ہو؟‘‘ ’’ہاں! وہ تو میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ میں نے اپنے اردگرد ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا! ’’اے ٹی آر تو مجھے ویسے بھی جہاز نہیں لگتا بلکہ لگتا ہے جیسے جہاز کے بچے نکلوائے ہوئے ہوں‘‘۔
میرے دوست نے حفاظتی پیٹی کھول لی تھی اور اب ٹانگیں پسارنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کوشش کے دوران اس کے گھٹنے بار بار اگلی سیٹ سے جا ٹکراتے تھے۔ ’’اس مسافر کو دیکھ رہے ہو؟‘‘ میرے دوست نے بائیں جانب کی ایک نشست پر براجمان ایک خوفناک سی شکل و صورت کے نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ مجھے ہائی جیکر لگتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ اُٹھ کر کاک پٹ کی طرف جائے گا اور پائلٹ کو طیارے کا رخ کابل کی طرف موڑنے کا کہے گا۔ آہا! میں نے ابھی تک کابل نہیں دیکھا‘‘۔ یہ فقرہ مکمل کرکے ابھی وہ روٹین کا قہقہہ لگانے ہی کو تھا کہ جہاز ایک جھٹکے سے یکدم نیچے کو ہو گیا۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی بات پر بیٹھے بیٹھے دل ڈوب سا جاتا ہے اور پھر وہ مسلسل ڈوبنے لگا۔ ’’تم بھی اپنی حفاظتی پیٹی باندھ لو‘‘۔ میرے ہنسوڑے دوست نے دوبارہ اپنی حفاظتی پیٹی باندھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ اس کی ہنسی غائب ہو گئی تھی اور اس کے ہونٹ ہولے ہولے ہل رہے تھے، غالباً وہ کلمہ طیبہ کا وِرد کر رہا تھا۔ ’’ایسے موسم میں ایئر پاکٹس زیادہ ہوتی ہیں مگر اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘‘۔ میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی جبکہ جہاز کے دیگر مسافروں کی طرح خوف کے مارے میری زبان بھی تالو سے چپک کر رہ گئی تھی اس لئے میں نے حفاظتی پیٹی باندھ لی۔
’’دراصل بات یہ ہے کہ…‘‘ میرے دوست کا فقرہ نامکمل رہ گیا کیونکہ جہاز ایک بار پھر پورے شدومد کے ساتھ ہچکولے کھانے لگا تھا۔ دوست نے اپنا دھیان دوسری طرف مبذول کرنے کیلئے اپنے دونوں ہاتھوں میں اخبار تھام لیا اور اپنے ہونٹ مضبوطی سے سکیڑ لئے۔ میری اپنی حالت غیر ہو رہی تھی۔ جہاز کے دیگر مسافر بھی شدید خوفزدہ نظر آ رہے تھے مگر وہ جو کہا جاتا ہے کہ اسکاؤٹ خطرے میں مسکراتا ہے اور سیٹی بجاتا ہے، سو میں نے خطرہ سامنے پاکر مسکرانے اور سیٹی بجانے کی کوشش کی! میں غالباً ان میں سے اول الذکر کوشش میں کامیاب ہو سکا، کیونکہ میرے سہمے ہوئے دوست نے خشمگیں نظروں سے میری طرف دیکھا اور جھلا کر کہا ’’یہ دانت کیوں نکال رہے ہو؟‘‘ ’’میں خود دانت نہیں نکالوں گا تو تھوڑی دیر بعد ویسے ہی نکل جائیں گے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اپنے دانت آپ نکالے جائیں، تم بھی کوشش کرو‘‘۔ غالباً میری بات میرے دوست کی سمجھ میں آگئی تھی کیونکہ تھوڑی دیر بعد وہ مسکرانے کی منزل طے کر کے قہقہے لگانے کی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ جہاز نے ایک بار پھر غوطہ کھایا۔
’’یار ذرا کھڑکی سے دیکھنا کہ مقامِ فوتیدگی کون سا ہے؟ کہیں سبزۂ نورستہ بھی ہے یا نہیں؟ اور ذرا یہ بھی پتا کرو کہ لحد پر شبنم افشانی وغیرہ کا بندوبست کیا ہے؟‘‘۔ میرے دوست کا چہرہ خوف سے متغیر تھا مگر وہ ہنستا جارہا تھا۔ وہ دو روز قبل ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہوا تھا اور اس کی پیشانی پر چوٹوں کے خاصے واضح نشان تھے۔ وہ انہیں ہاتھ لگا لگا کر دیکھ رہا تھا۔ ’’یہ سب معلوم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔ میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’تمہارے بارے میں تو امدادی کام کرنے والوں میں یہ کنفیوژن پیدا ہو جائے گی کہ اس کی پرانی چوٹیں کون سی ہیں اور نئی کون سی؟‘‘۔ اس پر میرے دوست نے بھرپور قہقہہ لگایا اور اس اثنا میں مَیں نے محسوس کیا کہ دوسرے مسافروں کو ہمارے یہ قہقہے زہر لگ رہے تھے، کیونکہ بہت سی آنکھیں کھا جانے والی نظروں سے ہمیں دیکھ رہی تھیں مگر پھر یہ آنکھیں خودبخود بند ہو گئیں اور ہونٹ ہلنا شروع ہوگئے کیونکہ جہاز ایک بار پھر ہچکولوں کی زد میں تھا۔
’’میں تمہیں ایک بات بتاؤں؟‘‘ میں نے اپنے دوست کو مخاطب کیا ’’میں نے احتیاطاً کلمہ طیبہ کا ورد کر لیا ہے کہ اللہ جانے موقع پر اس کا موقع ملے نہ ملے‘‘۔ جواب میں میرے دوست نے مسکرانے کی کوشش کی مگر اس کی یہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کی دہلیز پار نہ کر سکی، مجھے صرف اس کے لب ہلتے ہوئے محسوس ہوئے۔ دریں اثنا اناؤنسمنٹ بوتھ میں سے ایئر ہوسٹس نے اعلان کیا ’’خواتین و حضرات! ہم تھوڑی دیر بعد اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کا سفر بہت خوشگوار گزرا ہوگا‘‘۔ اس بار ہم دونوں کا قہقہہ خاصا بلند تھا اور اس قہقہے میں غالباً منزلِ مقصود تک پہنچنے کے اعلان کی مسرت بھی شامل تھی۔
ایئر پورٹ پر موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ جہاز کی سیڑھیاں اترنے کے بعد سطح زمین پر قدم رکھتے ہوئے میں نے ایک طویل سانس لیا اور پھر اپنے دوست کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: ’’تم جانتے ہو جہاز کے باقی مسافر کتنے سہمے ہوئے تھے اور اس کے برعکس ہم دونوں کتنے بہادر لگ رہے تھے؟ اس لئے کہ وہ ہم تھے جو اندر سے سب سے زیادہ خوفزدہ تھے۔ سب سے زیادہ خوفزدہ آدمی خود کو سب سے زیادہ بہادر ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے!‘‘

(قند ِمکرر)

( بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker