عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

آپ کے پاس کوئی حل ہے؟ روزنِ دیوار سے / عطاء الحق قاسمی

میری دو خواہشات ایسی ہیں جن کی تکمیل چاہتا ہوں، مگر تکمیل ہوتی نہیں، ایک تو یہ کہ کاش میں داڑھی رکھ سکوں اور وہ اس لئے کہ میرے ابا جی مولانا بہاء الحق قاسمی کی بہت خوبصورت داڑھی تھی جو ان کے سرخ و سپید رنگ اور نہایت خوبصورت آنکھوں والے میرے محبوب والد پر بہت سجتی تھی اور صرف یہ نہیں کہ صرف داڑھی، ان کی عبادات اور مجھ سے بے پناہ شفقت نے میرے والد کو میرا محبوب بنا دیا بلکہ میں نے ساری زندگی ان کے ساتھ گزاری ہے جس کے نتیجے میں مجھے پتہ چلا کہ اولیا اللہ ہوتے کیسے ہیں، ورنہ تو کہانیاں ہی سننے میں آتی تھیں۔ داڑھی سے میری رغبت کی ایک وجہ میرا ایک عزیز ترین دوست محمد عارف بھی تھا جو انتہائی بذلہ سنج ہونے کے باوجود بہت خوبصورت داڑھی کا مالک بھی تھا۔ مجھے دیر سے گھر آنے کی اجازت عارف کی سفارش کی وجہ ہی سے ملتی تھی کہ ابا جی کو یقین ہوتا تھا کہ ان کا بیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے، میرے ابا جی کی نظروں میں میرا یہ قابل اعتماد دوست مجھے سیدھا کوئی فلم دکھانے اور پھر بخیر و عافیت واپسی پر ابا جی کی ’’سپرداری‘‘ میں بھی دے کر جاتا تھا۔ عارف کو صرف فلم دیکھنے کا شوق تھا، بعد میں وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوگیا اور اس نے فلم سے بھی توبہ کرلی۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایک تو داڑھی میں اپنے ابا جی کی شدید محبت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے رکھنا چاہتا تھا اور میں نے ایک دفعہ رکھی بھی، مگر خارش اتنی ہوتی تھی کہ برداشت سے باہر ہو جاتی تھی۔ سو بادل نخواستہ ایک دن اسے خدا حافظ کہنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ابا جی نے سارا دن مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور پاس بھی نہیں بٹھایا۔ بہرحال داڑھی رکھنے کی خواہش بلکہ شدید خواہش ابھی تک دل میں انگڑائیاں لیتی ہے کیونکہ اپنی خوبصورت صبح کا آغاز بالوں کے قتل عام سے کرنا مجھے بہت زہر لگتا ہے، معاشرے میں قتل غارت گری پہلے ہی کیا کم ہے کہ اس میں ایک اور کا اضافہ کردیا جائے؟ داڑھی رکھنے کی ایک خواہش اور بھی ہے جو بہت گھٹیا اور کمینی سی بھی ہے۔ میں نے بعض داڑھی والوں کو نمبر ون فراڈیا پایا ہے، ان میں سے کچھ ایک نے تو اپنی کار وبارگاہ پر ایک تختی بھی لگائی ہوئی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ’’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘‘ جو سراسر توہین رسالت کی ذیل میں آتی ہے اور ان میں سے کچھ بے گناہوں پر توہین رسالت کا الزام لگانے والوں میں بھی شامل ہوتے ہیں، میں انہیں دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ’’یہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، تو کیوں نہ اس بے وجہ کی بدنامی سے بچنے کے لئے داڑھی ہی رکھ لی جائے، ذرا سی خارش ہی تو برداشت کرنی ہے، ایک ’’بڑے مقصد‘‘ کے لئے وہ بھی برداشت کرلیں گے۔ مگر یہ عذر بدتر ازگناہ ہے۔ لہٰذا اسے دفع کریں، بس دعا کریں کہ میں سنت رسولؐ اور اپنے ابا جی کی خوبصورت داڑھی اور ان کے کردار کی پیروی کرسکوں۔
اب اس مسئلے کا ایک حل اور بھی ہے مگر میں جانتا ہوں وہ ناممکن ہے۔ سب مل کر بھی دعا کریں تو یہ دعا پوری نہیں ہوسکتی۔ خواہش یہ ہے جو اقبال نے کسی اور ریفرنس میں کی تھی یعنی دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام ’’تو‘‘ یعنی زمانہ دس بیس ہزار سال واپس چلا جائے۔ جب نہ پانچ بلیڈوں والی سیفٹی ہوتی تھی، نہ خوشبو دار شیونگ فوم ہوتا تھا، اور نہ آفٹر شیو نام کی کوئی چیز تھی، چنانچہ اس دور میں سب کی داڑھی ہوتی تھی، میرے خیال میں پتھر کے اس زمانے میں کلہاڑی نام کی بھی کسی چیز کا وجود نہیں تھا کہ کوئی شوقین مزاج کلہاڑی ہی سے شیو کر لیتا اور نہ ہی یہ کام کسی نوکیلے پتھر سے ممکن تھا چنانچہ ہر کسی کی لمبی لمبی داڑھی ہوتی تھی، اس کی لمبائی میں ممکن ہے اس وقت کوئی کمی آتی جب دو افراد کے درمیان لڑائی کے دوران کسی ایک کے ہاتھ میں دوسرے کی داڑھی آجاتی ہوگی۔ بہرحال اس طرح کے قیاسات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ نہ وہ زمانہ واپس آنا ہے اور نہ میری داڑھی رکھنے کی شدید خواہش پوری ہونی ہے۔ اللہ بھلا کرے میرے بیٹے علی عثمان قاسمی کا جس نے ہمارے خاندان کا فرض کفایہ ایک بالشت بھر داڑھی کی صورت میں ادا کردیا ہے۔
اب آخر میں صرف ایک خواہش اور! میرے سر پر سامنے والے حصے میں الحمد للہ گھنے بال ہیں، چنانچہ فرنٹ ایلی ویشن کے بہتر ہونے کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’بیمار کا حال اچھا ہے‘‘ مگر جب کسی کی نظر سر کے پچھلے حصے کی طرف جاتی ہے تو وہ شرپسند ’’گنجا ای اوئے‘‘ کا نعرہ بلند کردیتا ہے۔ بس یہی ایک پریشانی ہے جس کاحل نظر نہیں آتا۔ ایک دوست سے میں نے اس کا حل پوچھا تو اس نے اگلے دن مجھے تیل کی ایک شیشی لا کر دی جو اس نے خود مختلف محلول سے تیار کی تھی اور کہا کہ صبح اٹھ کر یہ تیل سر پر لگا لیا کرو، ایک ہفتے میں تمہارے سر پر بالوں کا جنگل اُگ آئے گا۔اتفاق سے اسی دن ایک دوست میری طرف تشریف لائے جنہیں دیکھ کر مجھے بہت متلی ہوئی کیونکہ ان کے پورے سر پر سرے سے بال نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ ایک دوست نے مہربانی کی ہے اور یہ تحفہ مجھے دیا ہے، انہوں نے دوست کا نام پوچھا تو میرے نام بتانے پر بولے ’’مجھےبھی اس نے یہ تیل کی شیشی دی تھی، میں نے صبح اٹھتے ہی دونوں مٹھیوں میں تیل بھر کر سر پر چانپی کی تو پیچھے صرف سر رہ گیا تھا، سارے بال میرے ہاتھ میں تھے‘‘
پتہ چلا کہ سر پر بال اگانے والے تیل کی سبیل لگانے والے اس دوست کا خاندان سات پشتوں سے گنجا ہے اور اب اپنے خاندان کی روایت کی پاسداری کے لئے یہ کام صدقہ جاریہ کے طور پر کررہا ہے۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker