عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ایک حرافہ کا خط : عطا ء الحق قاسمی

پیاری بیٹی!
بہت دنوں سے مجھے ڈراؤنے خواب آرہے ہیں۔ میری مرحومہ خالہ اور میری مرحومہ نانی ہر روز میرے خواب میں آکر کہتی ہیں کہ ہم تمہارے بغیر بہت اداس ہیں، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ عمر کے اس حصے میں تم ویسے بھی تو فارغ ہی بیٹھی ہو، ادھر ہی کیوں نہیں آ جاتیں۔ تمہارے سابقہ آشنا بھی ادھر ہی ہیں، وہ بھی تمہیں یاد کرتے ہیں۔ مجھے یہ خواب تقریباً روزانہ آتا ہے، چنانچہ میں ہر بار ہڑہڑا کر اٹھ بیٹھتی ہوں۔ بیٹی، مجھے لگتا ہے میرے جانے کا وقت آگیا ہے، اوپر سے موا حرام خور رحما مراثی مجھے حوصلہ دینے کے بجانے الٹا جگتیں کرتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم جنتی ہو کیونکہ تم نے آج تک کسی کا دل نہیں توڑا۔ تمہارے دروازے سے کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا بلکہ اگر کوئی دوسرے دروازے کی طرف بھی جارہا ہوتا تھا تم پکار کر اسے اپنی طرف متوجہ کرلیتی تھیں۔ یہ موا اس طرح کی باتیں کرکے مجھے مرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ سب غیبی اشارے ہیں، چنانچہ خود میرا دل بھی ا ب اس دنیا میں نہیں لگتا لہٰذا کوئی پتہ نہیں کہ اگلا سانس بھی آئے کہ نہ آئے، چنانچہ میرے اس خط کو آخری سمجھو اور میں جو کچھ کہنے جارہی ہوں اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔
بیٹی جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم شیخ کفایت اللہ کی بیٹی ہو۔ یہ شیخ کفایت اللہ اب بھی میرے پاس آتا ہے، میرے پاس آنے سے پہلے اس کا دنیا کے کئی ملکوں میں کاروبار تھا۔ اب یہ لوگوں کو سٹے کا نمبر بتاتا ہے، چنانچہ دو چار سو روپے روزانہ آج بھی کمالیتا ہے۔ یہ جب کبھی مجھے ملنے آتا ہے مجھے کھانسی شروع ہوجاتی ہے جس پر یہ سٹپٹا جاتا ہے، چنانچہ اب یہ میرے پاس آنے سے پہلے فون پر پوچھتا ہے کہ تمہاری کھانسی کا کیا حال ہے؟ میں نے شیخ کفایت اللہ کا احوال اس لئے بیان کیا ہے کہ تمہارے پاس کب سے خواجہ ذوالفقار آرہا ہے۔ کیا وہ ابھی تک پوش علاقے ہی میں رہتا ہے یا کسی کچی بستی میں منتقل ہوگیا ہے۔ اس کی لش پش کرتی کار ابھی تک اس کے پاس ہے یا وہ کرائے کے سائیکل پر تمہارے پاس آتا ہے۔ مجھے تمہاری سہیلیوں نے بتایا ہے کہ تم بہت رحمدل ہو، بیٹی ان لوگوں نے ہم پر کون سا رحم کیا ہے کہ ہم ان پر ترس کھائیں۔ مجھے تمہاری طرف سے بہت تشویش رہتی ہے۔ میں نے بہت عرصے سے تمہارا کوئی اسیکنڈل نہیں سنا۔ کیا شوبز رپورٹروں سے تمہارے تعلقات ان دنوں کشیدہ ہیں۔ بیٹی ان لوگوں سے بنا رکھو تاکہ اہم شخصیتوں کے حوالے سے تمہارے اسیکنڈل سامنے آتے رہیں۔ شوبزنس میں’’ان‘‘ رہنے کے لئے یہ سب کچھ کرنا بہت ضروری ہے۔ ان دنوں بازار میں ایسی ویڈیو کیسٹوں کی بھرمار ہے جن میں لاہور اور ملتان کے’’بڑے بازار‘‘ کی لڑکیاں کم از کم سینڈل ضرور پہن کر ڈانس کرتی ہیں۔ میں نے تمہاری کوئی کیسٹ یا سی ڈی نہیں دیکھی، اگر تمہیں قانون کا خوف ہے تو یہ خوف دل سے نکال دو، ہماری حکومت بہت روشن خیال ہے اس روشن خیالی کی قدر کرو۔ یہ لڑکیاں دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹے چھوٹے کرائے کے گھروں سے بڑے بڑے بنگلوں میں منتقل ہوگئی ہیں اور تم ابھی تک ایک کنال کے گھر پر قناعت کئے ہوئے ہو۔
تم نے اس مرتبہ نہ دعا کرائی اور نہ چاول بانٹے مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایسی محفلوں میں جانا بھی چھوڑا ہوا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں ہمارے مہربانوں میں کیسےکیسے حاجی نمازی شامل ہیں۔ وہ دین اور دنیا دونوں ساتھ لے کرچلتے ہیں۔میری طرف قبلہ تشریف لائے تھے، انہوں نے بھی تمہاری شکایت کی ہے۔ تم نے بہت عرصے سے دبئی کا چکر نہیں لگایا۔ کہیں تمہیں چکر وغیرہ تو نہیں آرہے۔ تم سے اس بے احتیاطی کی توقع تو نہیں ہے، مگر پھر بھی مزید احتیاط لازم ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ٹی وی چینلز سے چلنے والے اشتہارات بہت معلوماتی ہیں۔ یہ باقاعدگی سے دیکھا کرو بلکہ کسی قریبی سینٹر میں مشورے کے لئے بھی جاتی رہا کرو۔ ایک بات میں نے یہ بھی کرنا ہے کہ ڈکیٹ قسم کے لوگوں کو عشق کا تاثر بھی نہ دو، وہ اگر جوابی عشق میں مبتلا ہوجائیں تو کاروبار کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں عام عاشق تو کچھ عرصہ ٹھنڈی آہیں بھر کر ٹھنڈا ہوجاتا ہے مگر یہ ڈاکو عشق میں ناکامی پر گولی مار کر اپنی محبوبہ کو ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ کسی ڈاکو عاشق سے کبھی جیولری وغیرہ تحفے میں نہ لو کہ اس کے پکڑے جانے پر زیورات برآمد کرلئے جاتے ہیں اور انہیں وصول کرنے والے پر مقدمہ الگ بنتا ہے جس سے نکلنے کے لئے’’مفت بروں‘‘ کے پاس حاضری دینا پڑتی ہے۔ ڈاکو عاشقوں سے ہمیشہ کیش وصول کرو، تمہیں لین دین کے یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیں، بہت عرصے سے تم کسی ٹی وی ڈرامے میں بھی نظر نہیں آرہیں اور نہ کسی فیشن میگزین کے ٹائٹل پر نظر آتی ہو۔ میں جانتی ہوں ان کاموں سے ملنے والے پیسوں سے تمہاری لپ اسٹک کا خرچ بھی نہیں نکلتا مگر یہ ہمارے بہت بڑے سیل پوائنٹ ہیں اور سیل پروموشن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تم جس فلم میں ہیروئن آرہی تھی وہ ابھی مکمل ہوئی یا نہیں۔ مجھے تو تمہارا پروڈیوسر شکور چودھری فراڈ لگتا ہے۔ مجھ سے ملتان چھوڑا نہیں جاتا ورنہ میں تمہارے پاس ہوتی تو ایسے چکریوں کو دو منٹ میں فارغ کردیتی۔ تمہارا ایک عاشق ظہور چیمہ مجھے بے وقوف قسم کا عاشق صادق لگتا ہے۔ اسے کہو کہ وہ بمبئی کے کسی پروڈیوسر سے بات کرکے تمہیں فلم میں شاہ رخ کے ساتھ ہیروئن لائے، ظہور چیمہ دولت اور حماقت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ فلم پر پیسہ انویسٹ کرسکے۔ گزشتہ ہفتے قبلہ میرے پاس تشریف لائے تھے، میں نے ان کے گھٹنوں کو ازراہ عقیدت ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو کہنے لگے تم عمر میں مجھ سے بڑی ہو، کیوں گنہگار کرتے ہو، حالانکہ ایک وقت تھا کہ وہ میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا کرتے تھے، مجھے زندگی میں یہ دن بھی دیکھنا تھا۔
تمہاری ماں….
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker