عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

پطرس بخاری کی سائیکل کے بعد ایک اور سائیکل!: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

میں آج آپ کو ایک بہت درد بھری داستان سنانا چاہتاہوں۔ اگر آپ رونے دھونے کے شوقین ہیں تو میری یہ تحریر ضرور پڑھیں۔ دراصل سائیکل کے ساتھ میرا رشتہ بہت پرانا ہے لیکن اس کے ساتھ میری کوئی خوشگوار یاد وابستہ نہیں ہے۔ چنانچہ مجھے افسوس ہے کہ میں صبح صبح یہ ناخوشگوار یادیں اپنے قارئین کے ساتھ Share کررہا ہوں۔ میرے لئے وہ دن بہت یادگار تھا جس دن میں نے سائیکل خریدی۔ میں اس روزبہت خوش تھا میں نے یہ سائیکل ایک کباڑیے سے خریدی تھی وہ اس کے بہت قصیدے پڑھتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس پر بڑے بڑے جرنیل سالہا سال سواری کر چکے ہیں بلکہ یہ سائیکل گزشتہ کئی برس سے خود اس کے استعمال میں بھی رہی ہے۔ و ہ اس دیرینہ تعلق کی بنا پر اسے بیچنا تو نہیں چاہتا تھا مگر یہ اس کی مجبوری تھی کہ اس کا کام ہی خرید و فروخت تھا۔ میں سائیکل جو کباڑیے کی جان کا ٹکڑا تھا اپنے گھر لے کر آیا تو اس پر جمی ہوئی مٹی کو صاف کرنے اور اسے چمکانے کی پوری کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ سائیکل پر تہہ در تہہ جمی میل برقرار رہنے کے باوجود میرے دل میں اس کے لئے کوئی میل نہ آیا کہ یہ میری زندگی کی پہلی سواری تھی۔ چنانچہ میں اسے ایسی حالت میں تھامے شاداں و فرحاں گھر سے باہر نکل آیا۔
میں نے سوچا مجھے سب سے پہلے اپنی اس خوشی میں اپنے بچپن کے دوست شیدے خرادیئے کو شریک کرنا چاہئے چنانچہ میں نے سائیکل کا رخ اس کے گھر کی طرف موڑ دیا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ سائیکل میرے لئے صرف سواری کا کام نہیں دے گی بلکہ ایکسر سائز کے کام بھی آئے گی کیونکہ معمولی سی ناہموار سڑک پر بھی اس کے جھٹکے اتنے زور دار تھے کہ چشم زدن میں پاؤں سے سفر کر کے دماغ تک جا پہنچتے تھے۔ میں ایک سست الوجود شخص ہوں اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے باوجود کسی ورزش پر آمادہ نہ ہوسکا۔ چنانچہ میں نے اس سائیکل کو اس کی اس خوبی کی بنا پر نعمت خداوندی تصور کیا اور اس ٹو ان ون کے مزے لینے کے لئے مزید زور زور سے پیڈل مارنا شروع کردیئے۔ شیدے خرادیئے کا گھر صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گیا تھا کہ اچانک میں نے ایک عجیب و غریب تبدیلی محسوس کی مجھے لگا جیسے کوئی میری دھوتی نیچے سے کھینچ رہا ہے۔ میں نے اردگرد بلکہ اوپر نیچے ہر جگہ نظر ڈالی مگر مجھے کوئی فرد بشریہ نامعقول حرکت کرتا دکھائی نہ دیا۔ میں کہ جنوں بھوتوں پر قوی ایمان رکھتا تھا اور ٹونے ٹوٹکوں کا قائل ہوں۔ مجھے یقین ہوگیا کہ میرے کسی حاسد سے میری خوشی دیکھی نہیں گئی اور یہ ننگ قوم شخص اپنے کسی زیر اثر بھوت یا کسی دوسرے عامل کے ذریعے مجھے بھی ننگ قوم ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ میں نے دفع بلا کے لئے آیات کا ورد شروع کردیا مگر میں نے محسوس کیا کہ دشمن کی کارروائی اخلاق اور خطرے کے مقام تک پہنچ گئی ہے وہ تو خدا کا شکر ہے کہ میری نظر شیدے خرادیئے پر جا پڑی جو اپنےگھر کے باہر ٹہل رہا تھا۔ میں نے وہیں پائوں زمین پر گاڑ کر سائیکل کو بریک لگائی۔ کباڑیے نے مجھے بتایا تھا کہ اس سائیکل کی بریک کے لئے کمپنی نے یہی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔ اس دوران شیدا میرے قریب پہنچ چکا تھا اور مجھ سے معانقہ کرنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے خوفزدہ آواز میں بتایا کہ کوئی بھوت میری دھوتی کو نیچے کی طرف کھینچ رہا ہے چنانچہ میں نے اسے کہا کہ وہ پہلے کسی عامل کو بلائے۔ شیدا ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا چنانچہ اس نے میری بات پر توجہ دینے کے بجائے سائیکل کا جائزہ لیا پھر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ میں یہ بھوت ابھی نکالتا ہوں یہ کہتے ہوئے اس نے سائیکل کا پیڈل الٹا گھمانا شروع کیا اس عمل کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ دشمن اپنی چال میں ناکام ہورہا ہے اور میری دھوتی کشش ثقل سے نکل آئی ہے۔ میں آج تک شیدے کو صرف خرادیا سمجھتا تھا مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا سائنسدان بھی ہے۔ مگر اس نے مجھے یہ بتا کر اپنی عزت خود ہی خاک میں ملا دی کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا صرف دھوتی کا کنارہ سائیکل کے چین میں پھنس گیا تھا۔ ویسے وہ صحیح کہتا تھا کہ دھوتی کا جو حصہ چین میں پھنسا تھا اس کا کچومر یوں نکلا ہوا تھا جیسے کسی مضبوط دانتوں والے نے اسے بہت بری طرح چبایا ہو۔
اگلے روز مجھے ایک ضروری کام کے لئے باہر جانا تھا مگر میں نے محسوس کیا کہ گزشتہ روز کی تھکن سے سائیکل کا جسم چُور چُور ہے۔ چنانچہ میں نے پہلے کپڑے سے اس کے سارے جسم کی مالش کی اور پھر اسے ایک دن آرام کے لئے گھر چھوڑ کر پیدل گھر سے نکل پڑا۔ میں نے گھر والوں کو سختی سے تاکید کی کہ وہ اس پری وش کے آرام میں خلل نہ ڈالیں اور بچوں کواس کی پہنچ سے دور رکھیں کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ محلے کے بچے اسے تنگ کریں گے اس خدشہ کی وجہ سے یہ تھی کہ جس روز میں سائیکل کو لے کر گھر آیا تھا بچے اس انمول سواری کو بہت حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اس سواری کی نوعیت کے حوالے سے آپس میں شرطیں لگا رہے تھے ان میں سے ایک بچہ بضد تھا کہ یہ چاند گاڑی ہے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ بچہ شرط جیت گیا تھا۔ بہرحال میں شام کو گھر لوٹا تو میں نے دیکھا کہ سائیکل کا سانس پھولا ہوا تھا۔ معلوم کیا تو پتا چلا کہ بچے سارا دن اس کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے رہے ہیں۔ میں بچوں پر ناراض تھا اور گھر والے سائیکل سے نالاں تھے ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی چھیڑ چھاڑ کے دوران اس عفیفہ نے اتنا واویلا کیا کہ اس کی مسلسل چوں چاں سے گھر والے قیلولہ نہ کرسکے۔ یہ ایک ناخوشگوار واقعہ تھا مگر میں صبر کے علاوہ کیا کرسکتا تھا۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس جان جگر کو ہر دم اپنے ساتھ رکھوں گا تاکہ اسے کسی بھی طرف سے کوئی ایذا نہ پہنچے۔ سوا اس کے بعد میں نے اسے اس کے آخری سانس تک اپنے ساتھ رکھا مگر ہر روز کوئی نہ کوئی انوکھا واقعہ ضرور ہوا مثلاً ایک دن گھر سے باہر قدم رکھتے ہی میں نے محسوس کیا کہ اس کے دونوں ٹائروں میں ہوا نہیں ہے۔ میں ان میں ہوا بھرانے کے لئے سائیکلوں کی ایک دکان پر لے گیا مگر اس بدبخت دکان دار نے معائنے کے بعد بتایا کہ اس کے دونوں ٹائروں کے تمام پنکچر اکھڑے ہوئے ہیں اور یوں تقریباً انیس پنکچر دوبارہ لگوانا پڑیں گے۔ ان کا خرچہ لگ بھگ سائیکل کی قیمت کے برابر تھا۔ اسی طرح ایک روز بھولا ڈنگر میرے ساتھ اس کے کیریئر پر بیٹھ گیا وہ ابھی تک اسپتال میں ہے کیونکہ اس کے بیٹھتے ہی کیریئر بھی بیٹھ گیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک دن چلتے چلتے اس کا ہینڈل خود بخود اس گلی کی طرف مڑ گیا جدھر کا رخ کرنے پر ایک مہ پارہ کے بھائیوں نے مجھے سختی سے منع کیا تھا۔ سو اس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا۔ میں ابھی تک ڈبل اینٹ گرم کر کے اس سے اپنے دکھتے بدن کو سینکنے میں مشغول ہوں۔ میں یہ سب کچھ برداشت کررہا تھا مگر ایک روز میں اس فیصلے پر پہنچا کہ اس کے وصال سے ہجر بہتر ہے۔ ہوا یوں کہ گھر سے نکلتے ہی ایک جگہ معمولی سی چڑھائی آئی مجھے ظاہر ہے اس کے لئے اپنی اضافی طاقت استعمال کرنا تھی چنانچہ میں نے ابھی دو تین بھرپور پیڈل مارے تھے کہ میں نے محسوس کیا کہ پیڈل کام نہیں کررہے وہ بس گھومتے جارہے ہیں مگر سفر طے نہیں ہورہا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ صورتحال اس وقت پیش آتی ہے جب کسی سائیکل کے کتے فیل ہو جاتے ہیں۔ سو سائیکل کے کتے فیل ہو گئے تھے اور اب وہ چڑھائی چڑھنے کے بجائے سرپٹ پیچھے کو بھاگتی جارہی تھی۔ میرے ساتھ جو ہوا سو ہوا مگر میں اس دن سے سوچ رہا ہوں کہ کہیں ہماری قوم کے بھی کتے فیل تو نہیں ہوگئے کہ ہم آگے کے بجائے تیزی سے مسلسل پیچھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker