عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

روٹی تو بہرطور کما کھائے مچھندر!۔۔عطا ء الحق قاسمی

ہماری قوم کھانے پینے کی بہت شوقین ہے۔ ہم لوگ صبح سے کھانا شروع کرتے ہیں اور رات گئے تک کھاتے چلے جاتے ہیں۔ خصوصاً پنجاب میں تو یہ ’’رواج‘‘ بہت عام ہے۔ آگے پنجاب میں بھی تین شہر ایسے ہیں جہاں لوگوں نے کھانے میں اسپیشلائز کیا ہوا ہے اور یہ شہر لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد ہیں۔ ان شہروں میں صبح کے وقت سری پائے، حلوہ پوری، ہریسہ، لسی اور کلچوں کی دکانوں کے گرد خلق خدا یوں جمع ہوتی ہے جیسے لنگر تقسیم ہو رہا ہو۔ دوپہر کو نان چنے کی دکانیں کھڑکی توڑ رش لے رہی ہوتی ہیں۔ سہ پہر کو فالودہ، کچوریاں اور تخم ملنگاں کے شربت کی شامت آ جاتی ہے۔ رات کو کڑاہی گوشت، تکوں، چرغوں، کبابوں اور چینی کھانوں کی کم بختی آتی ہے۔ پان، سگریٹ اور مشروبات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔


ہمارے ہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوش خوراک ہی نہیں، بسیار خور بھی واقع ہوئی ہے چنانچہ لاہور کے جن ریستورانوں میں بوفے شروع کیا گیا تھا ان میں سے کئی ریستوران بند ہو چکے ہیں۔ گوجرانوالہ سے آنے والی بارات میں عموماً تین چار دیگیں کم پڑ جاتی ہیں۔ میں ایک ایسے صاحب کو بھی جانتا ہوں جو اپنے دو آبائی مکان بیچ کر اس کے سری پائے کھا بیٹھے ہیں۔ وی وی آئی پی شادی کی دعوت میں بھی اعلیٰ ترین طبقوں کے لوگ کھانے کے اعلان کو اعلانِ جنگ سمجھ کر کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور چنگیز خاں کی طرح پلیٹوں میں کھوپڑیوں کے مینار بنا دیتے ہیں۔ ان دنوں ہر موقع پر وڈیو فلم بنانے کا رواج عام ہو گیا ہے حتیٰ کہ دُلہا دلہن کے حجلہ عروسی میں داخل ہونے تک کی فلم تیار کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ہم لوگوں کے حوصلے تو اس سے بھی زیادہ ہیں مگر بزرگ آڑے آجاتے ہیں تاہم اس وڈیو فلم کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ حلق میں اٹکے ہوئے لقمے، لقموں سے پھولے ہوئے گال اور ماتھے پر آیا ہوا پسینہ تک فلم کے فیتے پر منتقل ہو جاتا ہے اور یوں آنے والی نسلوں کے لئے قوموں کے عروج و زوال کے مسئلے کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے۔
کھانے پینے کے معاملے میں ہم لوگ خوش خور یا بسیار خور ہی نہیں، بڑے صلح کل بھی واقع ہوئے ہیں چنانچہ اور تو اور ہم نے بعض علماء کو دیکھا ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے لیکن ساتھ مل کر کھاتے ہیں۔ ہم ایسے کئی صحافیوں کو جانتے ہیں جو صرف دسترخوان پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ مختلف نظریات کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب کھانے کا وقت آتا ہے، دونوں اپنے اپنے طریقوں سے کھاتے ہیں، ایک دائیں ہاتھ سے لقمہ اٹھاتا ہے اور دوسرا بائیں ہاتھ سے۔ دراصل نظریاتی لڑائیاں نظریات کے خلاف ہوتی ہیں، پیٹ کے خلاف نہیں۔ پیٹ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھیں کسی کا پیٹ اگر کم ظرف ہے تو وہ ’’سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا‘‘ کے مصداق آپے سے باہر ہوتا نظر آتا ہے۔ جس کھانے والے کا پیٹ اعلیٰ ظرف ہے وہ اپنے پیٹ کو انکم ٹیکس کی طرح چھپانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ایک غریب آدمی اس مہنگائی کے دور میں بچت کیسے کر سکتا ہے وہ اگر اپنی عزت بچانے میں کامیاب ہو جائے تو یہی اس کی بچت ہے۔


کھانے پینے کے سلسلے میں ایک اہم بات میں نے یہ بھی بتانی ہے کہ ہمارے ہاں ’’ہر وقت انتخاب‘‘ کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہر وقت انتخاب کا یہ مطالبہ جمہوری ہونے کے علاوہ کھانے کی منصفانہ تقسیم کی ذیل میں بھی آتا ہے یعنی ’’کھانا‘‘ بذریعہ روٹین ہونا چاہئے۔ بسا اوقات اس معاملے میں ڈنڈی بھی ماری جاتی ہے جس پر دوسرا فریق ڈنڈا اٹھا لیتا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی حزبِ اختلاف میں ہو یا حزبِ اقتدار میں، سب کو اپنی اپنی باری پر کھانا چاہئے۔ ایک بوڑھا شخص بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیوی بیٹھی تھی مگر وہ کھانے کے بجائے اس کا منہ تک رہی تھی۔ ایک شخص نے بوڑھے سے کہا تمہیں شرم آنی چاہئے، تم اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ کر کھا رہے ہو اور تم نے اسے صلح تک نہیں ماری۔ بوڑھے نے کہا کہ معاملہ یہ ہے نہیں جو تم سمجھے ہو بلکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہم دونوں کے پاس صرف ایک بتیسی ہے اور میری بیوی میری بتیسی کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔ میرے خیال میں کھانے پینے کے ضمن میں باہمی تعاون کی یہ بہترین مثال ہے چنانچہ اگر کبھی ہمارے ہاں الیکشن میں تاخیر ہو جائے تو دوسرے فریق کو بدگمانی سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ یہی سوچنا چاہئے کہ بتیسی فارغ نہیں ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker