عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ایک تھا بڑا آدمی!۔۔عطا ءالحق قاسمی

قیامت کی طرح بڑے آدمیوں کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں مثلاً بڑا آدمی بڑے لوگوں میں اٹھتا، بیٹھتا اور لیٹتا ہے۔ وہ تقریبات میں صفِ اوّل کی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے، بڑا آدمی جب اپنے رفقاءکے ساتھ کسی اعلیٰ درجے کے ریستوران میں داخل ہوتا ہے تو بیرے اسے جھک کر سلام کرتے ہیں۔ وہ بیروں کو ان کے نام سے پکارتا ہے جس سے اس کے رفقاءکو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے روز و شب یہیں بسر ہوتے ہیں۔ سلام کے لئے بیرے کو ایک بار بھاری ٹپ اور انہیں نام سے پکارنے کے لئے اچھا حافظہ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بڑا آدمی سگریٹ نہیں پائپ پیتا ہے۔ وہ پائپ پیتا کم ہے اسے جلاتا، بجھاتا زیادہ ہے اور گفتگو کے دوران اس کا بیشتر وقت انہی سرگرمیوں میں بسر ہوتا ہے۔ بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ہر جملے کا آغاز انگریزی میں کرتا ہے اور لہجے کو حسبِ توفیق ”آکسن“بنانے کی کوشش کرتا ہے تاہم واضح رہے کہ انگریزی زبان کے قواعد و ضوابط سے بڑے آدمی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
بڑا آدمی ہمیشہ بڑے گھرانے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے تمام عزیز و اقارب کلیدی اسامیوں پر فائز ہوتے ہیں۔ یہ عزیز و اقارب اس نے بڑی محنت سے اپنے شجرہ نسب میں شامل کئے ہوتے ہیں۔ بڑا آدمی کبھی کم گو اور کبھی پ±رگو نظر آتا ہے تاہم اس امر کا فیصلہ اسے خود کرنا ہوتا ہے کہ اسے کس سے تھوڑی اور کس سے زیادہ بات کرنی ہے۔ بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ فنونِ لطیفہ کا سرپرست ہوتا ہے، مصوری سے شعر و ادب تک اس کی چراگاہیں ہیں۔ وہ اپنے کمرے کی کلر اسکیم سے میچ کرتی ہوئی سرورق والی کتابیں خریدتا ہے اور ایک شیلف میں سجاتا ہے۔ وہ تجریدی مصوری سے بھی اپنے گہرے شغف کا اظہار کرتا ہے اور ثبوت کے لئے ایک آدھ تصویر ڈرائنگ روم میں بھی ’ٹانگ‘ دیتا ہے۔ وہ تصویر کے ساتھ مصور کو بھی ’ٹانگنا‘ چاہتا ہے مگر کچھ مجبوریاں آڑے آتی ہیں۔
بڑا آدمی بیٹھے، بٹھائے بڑا آدمی نہیں بن جاتا، اس کے لئے اسے شدید محنت کرنا پڑتی ہے۔ وہ صبح سے لے کر شام تک کام اور شام سے رات گئے تک پارٹیاں کرتا ہے۔ صبح سے شام تک والے کام میں بہت سے کام شامل ہوتے ہیں اور شام سے رات گئے جاری رہنے والی پارٹیوں میں بہت سی ”پارٹیاں“ شریک ہوتی ہیں۔ اس کی عظمت کی ایک وجہ اس کا منکسر المزاج ہونا بھی ہے۔ وہ کبھی اپنے مال و دولت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتا بلکہ ہمیشہ انکسار سے کام لیتے ہوئے بینک سے حاصل شدہ قرضوں کا ذکر کرکے خود کو کروڑروں روپے کا مقروض ظاہر کرتا ہے، کئی بار تو یہ حکایت بیان کرتے وقت اس پر اتنی رقت طاری ہو جاتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو بےخبر رکھتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اس کی جیب میں ایک سو کا نوٹ ڈالنے کو جی چاہتا ہے کہ آج کی شب اس کے گھر میں چولہا جل سکے۔ اس کے بڑا آدمی بننے کے پیچھے ایک عمل یہ بھی کار فرما ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرتبے اور مقام کو بھول کر سب سے خصوصاً انکم ٹیکس، ایکسائز اور آڈٹ والوں سے احسان و محبت کا سلوک کرتا ہے۔ بڑے آدمی کو بڑا آدمی یونہی تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ اس کی پیٹھ پر فلاحی اداروں کے لئے خیراتی رقوم کا بوجھ ہوتا ہے جسے وہ اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ اس کی اطلاع اخبار کے رپورٹر اور فوٹو گرافر کے علاوہ کسی اور کو ہو کہ کہیں اس کی نیکیاں ضائع نہ چلی جائیں۔
بڑے آدمی کی عظمت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹے آدمیوں کو بھی ساتھ رکھتا ہے جن میں وہ بڑا آدمی دکھائی دیتا ہے۔ بڑے آدمی کی یہ تمام خوبیاں اور خصائل اس کی زندگی میں بھی اس کے کام آتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی اس کی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بڑا آدمی مرتا ہے تو اگلے دن خبر آتی ہے کہ اس کے جنازے میں شہر کے تمام بڑے آدمی شریک ہوئے تاہم یہ بڑے آدمی کاروں میں قبرستان پہنچ جاتے ہیں، کندھا دینے والے چار آدمی چھوٹے آدمی ہوتے ہیں۔ چھوٹے آدمی کی یہ بڑی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے کندھے چوڑے ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ بڑے آدمیوں کو کندھا دیتا ہے۔ افسوس بڑے آدمی بھی بالآخر اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور بیس بیس کنالوں والی کوٹھیوں سے نقل مکانی کرکے انہیں بقیہ عمر چھوٹے آدمیوں کے ساتھ دو دو گز والے ”پلاٹ“ کی قبروں میں بسر کرنا پڑتی ہے۔ بڑے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ اس افسوسناک صورتحال پر غور کریں اور یہ اپنے سے بڑے آدمیوں کے نوٹس میں بھی لائیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker