عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

شیطان کی کھری کھری باتیں!۔۔عطا ء الحق قاسمی

گزشتہ برس رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی مجھے شیطان کا ایس ایم ایس موصول ہوا، میں نے اسے جواب میں لعن طعن کی اور کہا ’’بدبخت تُو تو رمضان میں قید ہو جاتا ہے تو پھر یہ اچانک کہاں سے ٹپک پڑا؟‘‘ جواب آیا ’’شیطان قید ہوتا ہے، اس کے چیلے چانٹے تو قید نہیں ہوتے اور میں شیطان کا ادنیٰ سا چیلا ہوں۔ میں نے پوچھا ’’تم نے مجھے ایس ایم ایس کیوں کیا؟‘‘ جواب ملا ’’ایک تو رمضان کی مبارک دینے کیلئے اور دوسرا یہ پوچھنے کیلئے کہ تمہارا روزہ ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’الحمدللہ روزے سے ہوں!‘‘ بولا ’’میرا بھی روز ہے مگر لگ بہت رہا ہے!‘‘ میں نے کہا ’’شیطان لعین کے چیلے، تُو نے روزہ کیسے رکھ لیا؟‘‘ جواب آیا ’’مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہوں، بس عادت سی ہے‘‘ تب میں نے جانا کہ یہ کوئی آتشیں مخلوق نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ہی طرح کا ایک عام انسان ہے۔ بس اس نے شیطان کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے سو میں نے پوچھا ’’کیا تم سے دوبدو ملاقات ہو سکتی ہے؟‘‘ جواب آیا، کیوں نہیں، کل تمہارے دفتر حاضر ہو جاؤں گا۔اگلے روز وہ میرے دفتر میں بیٹھا تھا، اس کے ساتھ شیاطین کا ایک پورا جلوس تھا۔ شیطان کے جس چیلے سے میری بات ہوئی تھی اس کی داڑھی مونچھ منڈی ہوئی تھی اور اس نے برانڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا، وہ خوبصورت شخص تھا اور اس کا چہرہ پُرنور لگ رہا تھا۔ دیگر افراد میں سے کچھ نے کلف لگے کرتے اور شلواریں پہن رکھی تھیں اور سروں پر ٹوپیاں تھیں اور کچھ قمیص پتلون میں ملبوس تھے، ان میں سے ایک شخص شرعی وضع قطع کا حامل تھا۔ شیطان نے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس کی جعلی ادویات کی فیکٹری ہے۔ دوسرے افراد بھی طرح طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے، ان سب نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ مولانا کے بارے میں شیطان کے چیلے نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے الگ لے جا کر کہا تھا کہ اُسے پتا نہ چلے کہ ہم لوگ شیطان کے چیلے ہیں کیونکہ اس کے بعد انہیں وہ چھوٹ دینے میں مشکل پیش آئے گی جو وہ ہمارے شیطانی کاموں کے ضمن میں ہمیں دیتے ہیں۔ تاہم میں نے اُنہیں یہ ضرور کہا کہ حضرت، یہ سب لوگ جو آپ کے ساتھ آئے ہیں ان سب نے مل کر مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں، آپ کا ان کے ساتھ آنا مجھے بہت عجیب سا لگا ہے‘‘۔ مولانا نے یہ سن کر تبسم کیا اور فرمایا، میں یہ سب کچھ جانتا ہوں لیکن یہ آپ نے تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا ہے۔ آپ کو شاید یہ علم نہیں کہ یہ سب لوگ رمضان المبارک میں پورے روزے رکھتے ہیں۔ پنج وقت نماز اور تراویح پڑھتے ہیں، صدقات، خیرات، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، باقی ان میں جو چھوٹی موٹی کوتاہیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کے صدقے میں ان سے درگزر کرے گا! میں نے عرض کی حضرت یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ انسانوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی عبادت ان کے منہ پہ ماری جائے گی۔ بولے، ہاں یہ تو ہے لیکن یہ لوگ ہیں تو مسلمان، کافر تو نہیں ہیں اور مومن پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔ میں نے عرض کی ’’میں آپ سے متفق ہوں لیکن صرف اس صورت میں ان پر آتشِ دوزخ حرام ہو سکتی ہے اگر یہ سچے دل سے توبہ کریں اور توبہ کے بعد جن کے ساتھ انہوں نے دھوکا کیا ہے اُن سب کے نقصانات کی تلافی کریں اور آئندہ کیلئے ان دھندوں سے باز آجائیں تو اللہ ان کی ماضی کی خطائیں معاف کر سکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا ’’ہاں یہ بات تو صحیح ہے، ایک آدھ دفعہ میں نے یہ بات بتائی تھی لیکن میں زیادہ وقت صرف عبادات کے نتیجے میں ملنے والی جنت کی بشارتیں ہی انہیں سناتا رہا ہوں کہ شاید عبادات کے نتیجے ہی میں یہ اچھے مسلمان بن جائیں!‘‘
شیطان لعین کا چیلا اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہا تھا لیکن گفتگو کے اس موڑ پر وہ خاموش نہ رہ سکا، اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’تم اخبار میں کالم لکھتے ہو! کیا سچ لکھتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی ’’کوشش تو کرتا ہوں‘‘ بولا ’’میں تمہاری کرتوتوں سے واقف ہوں، تم ڈھیر سارے جھوٹ میں ذرا سے سچ کی ملاوٹ کر دیتے ہو اور یہ دس فیصد سچ سو فیصد جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ تم بہترین لوگوں کو بدترین اور بدترین لوگوں کو بہترین ثابت کرنے میں لگے رہتے ہو۔ تم پاکستان کے بھولے بھالے عوام کو اپنے سحر انگیز قلم سے اسی عذاب میں مبتلا رکھنے کی کوشش کرتے ہو، بہروپ تو ہم نے بھی دھارا ہوا ہے لیکن تم ہم سے بڑے بہروپیے ہو کیونکہ لوگ ایک نہ ایک دن ہماری کرتوتوں سے واقف ہو جاتے ہیں جبکہ تمہارے پاس ایسا ہنر ہے جس کے ذریعے تم انہیں ساری عمر بیوقوف بنا سکتے ہو۔ ہم شیاطین کی مجلسِ شوریٰ میں امیر کی کمی تھی، ہم تمہیں اپنا امیر مانتے ہیں اور تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں!
اب پھر رمضان کی آمد آمد ہے، شیطان کا فون آنے والا ہے کہ فلاں تاریخ کو مجلسِ شوریٰ کا اجلاس ہے، جس کی صدارت آپ نے کرنی ہے چنانچہ میں نے امیر جماعت کے طور پر اپنی کارکردگی ثابت کرنے کیلئے اپنے دیگر کولیگز کو بھی راضی کر لیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں شامل ہوں، دیکھتے ہیں ان میں سے اپنی اصلیت ظاہر کرنے کیلئے کون کون راضی ہوتا ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker