عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

حفیظ صاحب!۔۔عطا ء الحق قاسمی(2)

(گزشتہ سے پیوستہ)
حفیظ صاحب شعر کی فنی نزاکتوں کا کس درجہ خیال رکھتے تھے، اس کا اندازہ مجھے اس روز ہوا جب میں نے ان کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
یہ شعر سن کر کہنے لگے یہ کس کا شعر ہے؟ میں نے کہا آپ کا ہے اور کس کا ہے؟ بولے میں ’’کھا کے کمیں‘‘ ایسی بدذوقی کا مظاہرہ کیسے کر سکتا ہوں؟ میرے شعر میں تو یہ مصرع ’’دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف‘‘ ہے، ’’دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ‘‘ کی طرف نہیں ہے۔
حفیظ صاحب کو میں نے اور میری نسل کے دوسرے لوگوں نے جس زمانے میں بہت قریب سے دیکھا وہ اِن کی صحت اور ذہنی اضمحلال کا زمانہ ہے مگر اس کے باوجود دورانِ گفتگو اِن کے جملے کی دھار کند نہیں ہوئی تھی۔ وہ بے تکلف محفلوں میں اپنے ساتھیوں پر چبھتے ہوئے جملے لڑھکاتے بھی تھے اور مخالف سمت سے آنے والے جملوں کو ’’ڈی فیوز‘‘ کرنا بھی جانتے تھے، ایک دفعہ میرے گھر پر منعقدہ ایک محفل میں حفیظ صاحب تشریف لائے، یہاں سینئر ادیبوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ امجد اسلام امجدؔ، دلدار پرویز بھٹی اور خالد احمد بھی موجود تھے۔ اور اس روز یہ سبھی دوست شرارت کے موڈ میں تھے چنانچہ انہوں نے حفیظ صاحب کے ساتھ ’’لاڈیاں‘‘ شروع کر دیں، ان دوستوں کی طرف سے کچھ تیز جملے بھی سرزد ہو گئے مگر حفیظ صاحب نہ برا ماننا جانتے تھے اور نہ ہتھیار ڈالنا ان کی سرشت میں تھا چنانچہ انہوں نے جوابی حملے کر کے ’’دشمن‘‘ کے حملوں کا منہ پھیر دیا، ایک بار کراچی میں پیاسی یونین کا مشاعرہ تھا۔ دس بیس ہزار سامعین تھے، حفیظ صاحب نے مجمع دیکھا تو سلام سنانے سے پہلے جہادِ کشمیر کا ذکر بھی ضروری سمجھا اور کہا کہ میں نے بذاتِ خود اس جہاد میں حصہ لیا ہے۔ چنانچہ میری بائیں ٹانگ میں بارہ گولیاں لگیں۔ میں ان کے ساتھ ہی تو بیٹھا تھا۔ میری ہنسی نکلی تو ظاہر ہے بآسانی ان کے کانوں تک پہنچ گئی۔ مشاعرے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر پہنچے تو حفیظ صاحب نے میری کلائی مضبوطی سے پکڑ لی (ان کی یہ پکڑ بہت شدید نوعیت کی ہوتی تھی) اور کہا ’’تم ہنسے کیوں تھے؟‘‘ میں نے کہا ’’حفیظ صاحب ٹانگ چھوٹی اور گولیاں زیادہ تھیں، آئندہ تھوڑی سی کم کر لیا کریں‘‘ جس پر ہنستے ہنستے انہوں نے مجھے جلی کٹی سنائیں۔
حفیظ صاحب جب بستر مرگ پر تھے، میں ان کی عیادت کے لئے گیا اور سخت حیرت ہوئی کہ حسب معمول انہوں نے میری کلائی پکڑ کر بات شروع کی تو کلائی پر ان کی گرفت اتنی ہی مضبوط تھی، جتنی صحت کے عالم میں ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے قبول کیا۔ آخر میں ان کی ایک ایسی عادت جو مجھے بے حد پسند تھی وہ سرکاری محفلوں میں نشستوں کے پروٹوکول کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر ہمیشہ پچھلی صف میں جا بیٹھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعر کا پروٹوکول سرکاری عہدیداروں سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایک ریٹائرڈ جنرل کو بڑھاپے میں شادی کی سوجھی، حفیظ صاحب کو ’’حکم‘‘ بھجوایا گیا کہ ان جنرل صاحب کی شادی کا سہرا لکھو، حفیظ صاحب نے کہا میں سہرا لکھنے والے شاعروں میں سے نہیں ہوں۔ جب حکم میں بہت سختی آئی تو حفیظ صاحب سہرا لکھ کر پہنچ گئے۔ ولیمے میں جنرل ایوب خان اور دوسرے جرنیل بھی موجود تھے۔ حفیظ صاحب کو سہرا پڑھنے کی دعوت دی گئی تو وہ اپنی سیٹ سے اٹھے اور مائیک پر جا کر دُلہا میاں کا مزاحیہ بلکہ استہزائیہ سہرا پڑھنا شروع کر دیا، تیسرے چوتھے شعر پر ہی صاحبانِ اقتدار میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، چنانچہ دو سیکنڈ لیفٹیننٹ اٹھے اور حفیظ صاحب کو ڈولی ڈنڈا کرتے ہوئے ایوانِ صدر کے تالاب میں پھینک دیا۔ حفیظ ہوشیار پوری نے اس واقعہ کی تاریخ حفیظ صاحب ہی کے اس شعر سے نکالی
جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں
وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں
اب آخر میں جمشید ؔمسرو رکی ایک غزل
لپکی ہے ان پہ آگ کوئی آسمان سے
یا تھک کے گر رہے ہیں پرندے اُڑان سے
خوفِ سفر سے خلقِ خدا تختہ بند ہے
ملنے نکل پڑا ہوں کسی بادبان سے
دھونے سے داغ دُھلنے لگے ہیں تو ٹھیک ہے
میں بھی خرید لاؤں گا دریا دُکان سے
جانوں پہ کوئی قرض تھا واجب کہ روز و شب
دُنیا کے لوگ جانے لگے اپنی جان سے
پیسہ تو بچ گیا ہے مگر جاں ادا ہوئی
پھر جس طرح سے شہر گیا اپنی جان سے
دہشت سرائے مرگ سے لوٹ آئے لوگ کیا
آتی ہیں کچھ صدائیں قریبی مکان سے
جمشیدؔ اس سے ساری زمیں لال ہو گئی
جانے لہو اُبلنے لگا کس چٹان سے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker