عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

گلّو وہمی!۔۔عطا ء الحق قاسمی

گلو کا اصلی نام ہی لوگ بھول گئے اور یوں اب پورے محلے میں اسے گلو کہہ کر ہی پکارا جاتا تھا۔ اس کی عمر یہی کوئی پینتیس چھتیس سال ہو گی۔ اس نے شادی نہیں کی اس کی وجہ غالباً اس کی وہمی طبیعت تھی۔ اس کی وہمی طبیعت کا یہ عالم تھا کہ ایک روز اسے چھ سات اکٹھی چھینکیں آئیں تو وہ اسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچ گیا اور ڈاکٹروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے لہٰذا اسے فوراً ایڈمٹ کیا جائے۔ اس نے گھر میں ویٹ مشین رکھی ہوئی تھی جس پر صبح اٹھتے ہی وہ اپنا وزن کرتا تھا۔ ایک بار اسے ایک پاؤنڈ وزن کم محسوس ہوا، اس نے ایک ٹی وی چینل پر صحت کے حوالے سے ایک پروگرام دیکھا جس میں ڈاکٹر صاحب ایک خطرناک بیماری کی نشانیوں میں سے ایک نشانی وزن کا یکدم کم ہونا بتا رہے تھے۔ وہ شدید گھبراہٹ کے عالم میں میرے پاس آیا ’’جناب! ایک موذی مرض لاحق ہو گیا ہے۔ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا‘‘ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’’گلو میاں! تمہیں وہ موذی مرض لاحق ہو ہی نہیں سکتا، اس کی وجہ مجھ سے زیادہ تم خود جانتے ہو‘‘ یہ سن کر اس نے بےاختیار اپنے زرد چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر کھسیانا سا ہو کر چلا گیا۔ ایک دن اسے وہم نہیں یقین ہو گیا کہ آئندہ دو چار دنوں میں اس نے فوت ہو جانا ہے۔ دراصل فٹ پاتھ پر بیٹھے ایک نجومی نے اس کا بایاں ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ تم موت کی طرف جا رہے ہو، البتہ دو چار دنوں میں فوت ہونے والی پیشین گوئی اس کے اپنے زرخیز ذہن کی پیداوار تھی، وہ یہ ’’فیصلہ‘‘ کرنے کے بعد کہ اس نے دو چار روز میں فوت ہو جانا ہے میرے پاس آیا، اپنا افسردہ چہرہ میری جانب کیا اور بولا ’’یہ بتائیں اگر میں دو چار دنوں کے اندر مر جاؤں تو لوگ مجھے کن لفظوں میں یاد کریں گے؟ ’’میں نے کہا ایسی فضول باتیں منہ سے نہیں نکالتے‘‘ بولا، آپ مجھے بتائیں کہ آپ مجھے کن لفظوں میں یاد کریں گے؟ میں نے جواب دیا ’’اچھے لفظوں میں کیونکہ تم اچھے آدمی ہو‘‘ بولا، آپ میرے جنازے میں لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ گلو دو دن پہلے میرے پاس آیا چنگا بھلا تھا، اللہ جانے اسے اچانک کیا ہوا؟ میں نے کہا ’’اچھا یار کہہ دوں گا!‘‘ یہ سن کر اسکے چہرے پر خوشی کی ایک لہر سی آئی اور وہ مجھ سے اجازت طلب کر کے رخصت ہو گیا‘‘۔
اسی شام وہ مجھے پان سگریٹ کی دکان پر، اگلی صبح لانڈری والے کے پاس دوپہر کو دودھ دہی کی دکان پر اور شام کو محلے کے لڑکوں کے ساتھ دکھائی دیا۔ اسکا یہ میل جول خلافِ معمول تھا چنانچہ دوسرے دن اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے میں نے اسے محلے کے کریانہ اسٹور پر کھڑے دیکھا تو میں اس کی طرف گیا اور کہا کہ وہ فارغ ہو کر مجھ سے ملے!
تھوڑی دیر بعد وہ میرے ڈرائنگ روم میں تھا۔ میں نے کہا ’’گلو! کیا بات ہے آج کل بہت سوشل ہو گئے ہو؟‘‘ بولا ’’آخری ملاقاتیں کر رہا ہوں‘‘، میں نے پریشان ہو کر پوچھا کیا مطلب؟ بندے کی شکل بری ہو تو اسے بات تو اچھی کرنا چاہئے۔ بولا ’’آپ جو چاہیں کہیں آپ بھی میری یہ آخری ملاقات ہی سمجھیں‘‘۔ میں نے پوچھا تم آخر یہ سب کچھ کیوں کہہ رہے ہو؟ بولا ایک تو مجھے نجومی نے بتایا تھا کہ تم موت کی طرف جا رہے ہو۔ دوسرے محلے والے بھی بتاتے رہتے ہیں کہ تمہارا رنگ پیلا پڑ گیا ہے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئی ہیں، اب آپ ہی بتائیں اسکے بعد میرے زندہ رہنے کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟ میں نے کہا ’’گلو! تمہاری موت کی پیشگوئی کرنیوالا نجومی دو چار دنوں میں خود فوت ہو جائیگا۔ یہ میری پیشگوئی ہے۔ تمہارا رنگ پیلا ضرور ہے، چہرہ بھی کمزور لگتا ہے لیکن یہ خوراک کی کمی کی وجہ سے۔ چند دن خوب کھاؤ پیو، طاقت پکڑو اور اسکے بعد جو تمہاری موت کی منحوس پیشین گوئی کرے اسکا گلا دباؤ! مگر مجھے محسوس ہوا کہ گلو پر میری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تاہم میں نے ہمت نہ ہاری اور کہا دیکھو گلو! یقین ایک ایسی چیز ہے جو حقیقت بن جایا کرتی ہے۔ یقین سے انسان زندہ اور طاقتور ہوتا ہے اور مایوسی صرف انسان کو نہیں قوموں کو بھی موت کی طرف لے جاتی ہے۔ میں جانتا ہوں تمہارے بہت سے مسائل ہیں لیکن ان کا حل مایوسی نہیں بلکہ انکا حل امید اور یقینِ محکم ہے جن کی مدد سے تم ان مسائل پر قابو پاؤگے اور پھر تندرست و توانا ہو کر اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو بھی مایوسی کی دلدل سے نکالو گے۔ پھر میں نے اسے پیار بھرے لہجے میں کہا ’’اب بھاگو یہاں سے اور جینے کی تمنا دل میں لیکر اپنے اردگرد کے افسردہ ماحول کو روشن کر دو‘‘۔ مگر اگلے روز مجھے خبر ملی کہ وہ مر گیا ہے۔ اس نے رات ہی کو گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ صبح وہ اپنے بستر سے زندہ نہیں اٹھے گا۔ اس کے جنازے میں محلے بھر کے لوگ شریک تھے اور اس سے اپنی آخری ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ابھی کل ملاقات ہوئی ہے۔ بھلا چنگا تھا، اللہ جانے اسے کیا ہوا۔ وہ واقعی نہیں جانتے تھے کہ اسے کیا ہوا تھا مگر اس کی موت کا سبب میں جانتا ہوں۔ اسے اپنی موت کا یقین تھا اس نے مرنا ہی تھا اور وہ مر گیا۔ کوئی فرد یا قوم زندہ رہنا چاہتی ہے یا مرنا چاہتی ہے تو اس کا فیصلہ اسکے یقین نے کرنا ہوتا ہے۔ گلو نے اپنا فیصلہ موت کے حق میں سنایا، یہ دراصل اس کے یقین کی موت تھی!
زندگی تے موت جوگیؔ دونویں کوئی چیز نئیں
خیال نال موت اے خیال نال زندگی
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker