عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

خواہشوں کی قید بامشقت۔۔عطا ء الحق قاسمی

میں بھی اُن لوگوں میں شامل ہوں جو زمین پر پڑے کسی کاغذ کے ٹکڑے پر لکھی عبارت پڑھنا شروع کر دیتے ہیں چنانچہ میں نے زمین پر گرے کاغذ کے ان ٹکڑوں اور گرے پڑے عوام سے گھل مل کر بہت کچھ سیکھا ہے، بس میرا علم اتنا ہی ہے اور اس سے کام چلاتا ہوں۔ گزشتہ روز فیس بک پر ایک تحریر پڑھی، جس پر کسی کا نام نہیں تھا چنانچہ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ایسی چیز خدا کی ملکیت ہوتی ہے اور اسے کسی بھی اچھے مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آپ ذیل میں جو خوبصورت تحریر پڑھنے جا رہے ہیں، یہ فیس بک سے منقول ہے۔ اس میں باتیں تو وہی ہیں جو میں کئی بار اپنے کالموں میں کر چکا ہوں مگر مجھے یہ انداز بہت اچھا لگا۔ سو اب آپ یہ تحریر پڑھیں اور صرف لطف اندوز نہ ہوں بلکہ اس حوالے سے کچھ سوچئے گا ضرور!
خوشی
ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔
دوستوں سے مل کر، عزیز رشتہ داروں سے مل کر۔
نیکی کر کے، کسی کا راستہ صاف کر کے، کسی کی مدد کر کے۔
خربوزہ میٹھا نکل آیا، تربوز لال نکل آیا، آم لیک نہیں ہوا۔
ٹافی کھا لی، سموسے لے آئے، جلیبیاں کھا لیں، باتھ روم میں پانی گرم مل گیا۔
داخلہ مل گیا، پاس ہو گئے، میٹرک کرلیا، ایف اے کرلیا، بی اے کر لیا، ایم اے کرلیا۔
کھانا کھالیا، دعوت کرلی، شادی کرلی، عمرہ اور حج کرلیا۔
چھوٹا سا گھر بنا لیا، امی ابا کیلئے سوٹ لے لیا، بہن کیلئے جیولری لے لی۔
بیوی کیلئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے، اولاد آگئی اولاد بڑی ہوگئی، ان کی شادیاں کر دیں۔
نانے نانیاں بن گئے۔ دادے دادیاں بن گئے۔ سب کچھ آسان تھا اور سب خوش تھے۔
پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی، بچہ کون سے اسکول داخل کرانا ہے، پوزیشن کیا آئے، نمبر کتنے ہیں، جی پی اے کیا ہے۔
لڑکا کرتا کیا ہے، گاڑی کون سی ہے، کتنے کی ہے، تنخواہ کیا ہے۔
کپڑے برانڈڈ چاہئیں یا پھر اس کی کاپی، جھوٹ بولنا پھر اس کا دفاع کرنا، سیاست انڈسٹری بن گئی۔
ہم سے ہمارے دور ہو گئے، شاید ہی ہمارے بچوں کو فوج کے عہدوں کا پتا ہو پر اُن کو ڈی ایچ اے کون کون سے شہر میں ہے، سب پتا ہے۔
گھر کتنے کنال کا ہو، پھر آرچرڈ اسکیمز آگئیں، گھر اوقات سے بڑے ہو گئے اور ہم دور دور ہوگئے۔
ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹی وی، فریج، موبائل سب آگئے، سب کے کریڈٹ کارڈ آگئے
پھر ان کے بل بجلی کا بل، پانی کا بل، گیس کا بل، موبائل کا بل، سروسز کا بل۔
پھر بچوں کی وین، بچوں کی ٹیکسی، بچوں کا ڈرائیور، بچوں کی گاڑی، بچوں کے موبائل، بچوں کے کمپیوٹر، بچوں کے لیپ ٹاپ، بچوں کے ٹیبلٹ، وائی فائی، گاڑیاں، جہاز، فاسٹ فوڈ، باہر کھانے، پارٹیاں، پسند کی شادیاں، دوستیاں، طلاق پھر شادیاں۔
بیوٹی پارلر، جم، پارک، اس سال کہاں جائیں گے، یہ سب ہم نے اختیار کئے اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں۔
کیا آپ کو پتا ہے آپ نے خوشی کو کھو دیا ہے۔ جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا۔ اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ہے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔
اپنی زندگی کو سادہ بنائیے، تعلق بحال کیجئے، دوست بنایئے، دعوت گھر پر کیجئے، بےشک چائے پر بلائیں یا پھر مولی والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجئے۔ دور ہونے والے سب چکر چھوڑ دیجئے، وٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، لنکڈ ان، ٹی وی، خبریں، ڈرامے، میوزک، یہ سب دوری کے راستے ہیں آمنے سامنے بیٹھیے، دل کی بات سنیے اور سنائیے، مسکرائیے۔
یقین کیجئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے بلکہ مفت اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے جس کیلئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں اور پھر حاصل کرتے ہیں۔
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ہے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رہیے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ہو جائے گا۔
بس محسوس کرنے کی بات ہے، چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے۔ ٹوٹ کر گر گیا تو کون سی قیامت آجائے گی۔
ہمسائے کی بیل تو بجائیے۔ ملئے مسکرائیے، بس مسکراہٹ واپس آجائے گی۔
دوستوں سے ملئے، دوستی کی باتیں کیجئے، ان کو دبانے کیلئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ہرگز مت کیجئے۔
پرانے وقت میں جایئے جب ایک ٹافی کے دو حصے کرکے کھاتے تھے، بوتل آدھی آدھی پی ، میلوڈی، آبپارہ، سب اپنی پرانی جگہوں پر بلائیے۔
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔ آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلئے ایک ہی چائے بنتی ہے، ملائی مارکے، چینی ہلکی پتی تیز۔ آؤپھر سے خوش رہنا شروع کرتے ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker