عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

شیطان بہت شیطان ہوتا ہے!۔۔عطا ء الحق قاسمی

میرا ایک دوست ہے جو ہر وقت سائے کی طرح میرے ساتھ رہتا ہے چنانچہ میں اس کے بارے میں سب کچھ جاننے کا دعویٰ کر سکتا ہوں، ویسے بھی وہ بہت بڑبولا قسم کا شخص ہے۔ اپنی اچھائیاں اور برائیاں خود ہی بیان کرتا رہتا ہے۔ اس کے کردار کی سب سے بڑی خوبی اس کی دیانت اور امانت ہے اور میں نے اس حوالے سے اسے بڑی بڑی آزمائشوں میں پورا اترتے دیکھا ہے۔ آج سے سات دہائیاں قبل جب وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور سفید پوش خاندان کا فرد ہونے کے ناتے اسے جیب خرچ برائے نام ملتا تھا ایک دفعہ اسے اسکول سے واپسی پر سڑک کے کنارے ایک سو روپے کا نوٹ پڑا ملا اس زمانے میں سو کا نوٹ بہت بڑی رقم تھی ایک لمحے کے لئے اس کے جی میں آئی کہ وہ اس رقم سے اپنی ساری ناآسودہ خواہشات پوری کرے لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے اس گھٹیا خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا اور گھر پہنچتے ہی یہ سو روپے کا نوٹ اپنے والد صاحب کے سپرد کر دیا۔ والد صاحب تین روز تک مسجد میں اعلان کرواتے رہے کہ اگر کسی کی کچھ رقم گم ہوئی ہو تو وہ ان سے رابطہ کرے لیکن جب کسی نے ان سے رابطہ نہ کیا تو انہوں نے یہ سو روپے مسجد کے فنڈ میں جمع کرا دیئے۔ جب وہ بی اے کا طالب علم تھا، اس کے والد صاحب نے اسی روپے نکلوانے کے لئے اسے سیونگ اکاؤنٹ کی کاپی دے کر ڈاک خانے بھیجا۔ کلرک نے اسے اسی روپے کی بجائے غلطی سے آٹھ سو روپے دے دیئے، کالج کا طالب علم ہونے اور خوشحال خاندان کے لڑکوں سے دوستی کی وجہ سے اب اس کی محرومیوں میں اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ دوستوں کی جوابی خاطر مدارت کر سکتا چنانچہ اس نے پیسے جیب میں ڈالے اور سائیکل کو پیڈل مار کر گھر کی طرف چل دیا گھر کے راستے میں ایک دفعہ پھر اس کے ضمیر نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا اور گھر تک پہنچتے پہنچتے اس کا ضمیر اس کی خواہشات پر پوری طرح غالب آ چکا تھا چنانچہ اس نے گھر کے صحن میں داخل ہوتے ہی والد صاحب کو بتایا کہ کلرک نے اسے غلطی سے اسی کی بجائے آٹھ سو دے دیئے ہیں۔ والد صاحب نے یہ سن کر اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا ’’تو پھر تم یہ دوزخ کی آگ گھر تک لے کر کیوں آئے ہو ابھی جاؤ اور زائد رقم کلرک کو واپس کرو‘‘۔ جب میرے دوست کو اپنی زندگی کی پہلی تنخواہ ملی تو اس وقت بھی تقریباً اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ بینک کے کیشیر نے اسے ساڑھے چار سو کے بجائے ساڑھے چار ہزار روپے ادا کر دیئے اور اس نے اسی وقت اس میں سے اپنے ساڑھے چار سو اٹھائے اور باقی رقم کیشیر کو واپس کر دی۔ زندگی میں ترقی کے مراحل طے کرتے کرتے وہ اس پوزیشن پر آ گیا کہ اگر وہ چاہتا تو بہت تھوڑے عرصے میں کروڑ پتی بن سکتا تھا لیکن اس سے اس کا وہ عہد ٹوٹتا تھا جو اس نے اپنے خدا سے رزق حلال کے سلسلے میں کیا تھا ایک دفعہ اس نے نقد پندرہ لاکھ روپے کی رقم ٹھکرائی، ایک اور موقع پر اس نے ایک ایسا کام کرنے سے انکار کر دیا جو اس کے بہت سے بھائی بند کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ انہوں نے کروڑوں روپے کمائے بلکہ اس کی وجہ سے ان کا سوشل اسٹیٹس بھی بلند ہوا۔ میرے اس دوست کو اللہ تعالیٰ نے عزت، شہرت، مقبولیت سب کچھ عطا کیا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضرورتیں اور سہولتیں بھی اسے حاصل ہیں۔ اسے زندگی پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے اس کی عزت کرتا ہوں۔ مگر اس سلسلے میں مجھے ایک عجیب و غریب الجھن نے گھیر رکھا ہے اور میں یہ تحریر اپنی اسی الجھن کے حل کے لئے لکھ رہا ہوں۔
کچھ عرصہ قبل ہم دونوں دوست آوارہ گردی کے موڈ میں تھے۔ سارا دن بلا مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے رہے، ہم نے ڈنر ایک ہوٹل میں کیا۔ اس کے بعد لکشمی چوک میں جا کر چانپیں بھی کھائیں۔ کشمیری چائے پی اور پھر گاڑی ایک طرف پارک کر کے پیدل چل پڑے۔ اس روز ہمیں پیدل چلنا بہت اچھا لگتا تھا شاید اس لئے کہ بہت عرصے بعد اس کا موقع ملا تھا۔ لکشمی چوک میں بے پناہ رونق تھی۔ مالیشیے، تماش بین، کھابہ گیر، فقیر، نشئی، بے فکرے ہر قسم کے لوگ ریکارڈنگ کے شور شرابے میں اپنے اپنے دھیان میں مگن تھے میں اور میرا دوست ایک مالٹوں کی ریڑھی کے پاس رک گئے۔
کیا خیال ہے مالٹے نہ کھائے جائیں؟
نیکی اور پوچھ پوچھ۔ میں نے کہا اور پھر ہم دونوں مالٹوں پر پل پڑے ریڑھی والا مالٹے چھیل چھیل کر اور کاٹ کاٹ کر پلیٹ میں رکھتا چلا جاتا تھا اور ہم کھاتے چلے جاتے تھے۔ ہم اس روز عجیب طرح کی جنونی کیفیت میں مبتلا تھے۔
بالآخر ہم نے ہاتھ کھینچ لئے۔ میں مالٹے گنتا جا رہا تھا ہم نے بیس مالٹے کھائے تھے۔ میرے دوست نے ریڑھی والے سے پوچھا کتنے پیسے؟ ریڑھی والے نے کہا ’’کتنے مالٹے بنے‘‘ میرے دوست نے ایک لمحے کے توقف کے بعد جواب دیا ’’بارہ‘‘ ریڑھی والے کے چہرے پر شک کی ایک لکیر سی پھیلی لیکن اس نے بغیر کسی تکرار کے بارہ مالٹوں کے پیسے وصول کئے اور اپنی ریڑھی پر بچھی بوری کے نیچے رکھ دیئے۔ میں نے اپنے دوست کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھیں جھکا لیں۔ ہم دونوں خاموشی سے کار تک آئے، رستے میں ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی بس دونوں ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھتے رہے۔
یہ میرے دوست کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے، یہ آپ کی کہانی ہے اور شاید ہر بشر کی کہانی ہے، کبھی وہ ’’لکھ‘‘ کی چوری نہیں کرتا اور کبھی ’’ککھ‘‘ کی چوری پر راغب ہو جاتا ہے۔ انسان کو اپنی پارسائی پر غرور نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہر لمحے شیطان الرجیم کے حملوں سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔
شیطان بہت شیطان ہوتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker