عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

وفاداروں سے ملئے!۔۔عطا ء الحق قاسمی

جس وضعدار نے لفظ وضعدار ایجاد کیا تھا اس نے کس خوبصورتی سے لفظ ’’دار‘‘ کو ’’وضع دار‘‘ میں شامل کیا، گویا وضعداروہ ہوتا ہے جو ’’چڑھ جا بیٹا سولی پر‘‘ سنے اور اس پر لبیک کہنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے۔ ایک دفعہ شدید گرمی میں میں نے ایک بزرگ کو سوٹ اور ٹائی میں ملبوس دیکھا تو میں نے ایک صاحب سے پوچھا یہ کون ہیں؟ ان صاحب نے کہا یہ وضعدار ہیں صرف نہانے اور سونے سے پہلے سوٹ اتارتے ہیں۔ایک شخص کے بارے میں معلوم ہوا کہ سارے شہر کے مقروض ہیں چنانچہ گھر پہنچنے کے لئے روزانہ مختلف راستے ایجاد کرتے ہیں۔ میں نے ان کے کوائف دریافت کئے تو پتہ چلا کہ یہ بھی وضعدار ہیں۔ وضعداریاں نبھانے کے لئے قرض لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے کچھ وضعدار میں نے اور بھی دیکھے کہ گھر سے چھاچھ پی کر نکلتے ہیں تو تھوڑی سی مونچھوں پر لگا لیتے ہیں، کوئی پوچھے تو رومال سے صاف کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’مکھن کھایا تھا کچھ مونچھوں پر لگا رہ گیا ہوگا‘‘ کئی وضعدار اپنے اچکن کے بٹن نہیں کھولتے کہ نیچے صرف بنیان پہنی ہوتی ہے۔
وضعداروں کو اپنی وضع نبھانے کے لئے اپنے جذبات اور الفاظ پر بھی کنٹرول کرنا پڑتا ہے، کسی پر بہت ناراض ہوں تو کہتے ہیں ’’صاحب! میں آپ کی دوستی کے قابل نہیں!‘‘ لوگ جس شخص کی کنجوسی سے عاجز آئے ہوں اور پورے شہر میں اس پر تھوتھو ہو رہی ہومگر کسی وضعدار کو اس سلسلے میں کچھ کہنا پڑے تو وہ بہت ملائمت سے کہے گا۔ ’’شیخ صاحب قدرے جزرس واقع ہوئے ہیں!‘‘ جب کہ دستور زمانہ تو کچھ اور ہے یعنی یار لوگ تو لفظوں کی سفاکی کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، یعنی اگر کسی بچارے کا پٹرول پمپ لوٹا جائے تو خبر پڑھ کر کہیں گے ’’اچھا تو گویا موصوف کے پاس پٹرول پمپ ہی تھا، کسی کے گھر ڈاکہ پڑ جائے تو کہتے ہیں، چور زیور اور انعامی بانڈز لے گئے اس کا مطلب ہے حضرت نے خاصا مال جمع کیا ہوا تھا۔ حادثے میں کسی کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو کہتے ہیں ’’تھوڑی اَت چکی ہوئی سی‘‘ ان لوگوں کی موجودگی میں وضعداروں کی قدر و قیمت کا احساس کچھ اور زیادہ ہو جاتا ہے۔
مگر وضعداروں کی ایک قسم اس کے علاوہ بھی ہے ۔یہ سیاسی وضعدار ہیں۔ یہ وہ وضع دار ہیں جو صرف وفادار ہیں انہوں نے انگریزوں کے زمانے سے وفا داری کا حلف اٹھایا تھا، آج تک وضعداری نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ ان وفاداروں کا سلوگن:
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
والا مصرعہ ہے۔ ان لوگوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی بھی بعض صورتوں میں پشتنی وفادار ہی کرتے ہیں۔ میں ان سب وفاداروں سے پیار کرتا ہوں، انگریز کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں وہ تو انہیں اپنے ہاتھوں سے نہلاتے ہیں اور اپنے ساتھ سلاتے ہیں۔ وفاداروں میں صرف افراد ہی نہیں ، ادارے بھی شامل ہیں، میں نے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک دوست سے کہا ۔’’ یار تم لوگ صبح سے لے کر رات تک حکومت کے گن گاتے رہتے ہو جب حکومت بدلی تو نئی حکومت تمہیں الٹا لٹکا دے گی!‘‘ دوست نے کہا ’’حکومت بدلے گی تو میں نئی حکومت سے کہوں گا کہ اس نے جو فیصلہ بھی کرنا ہے، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں میرے نئے پروگرام دیکھ کر کرے‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ نئی حکومت بھی میری وفاداری کے بارے میں کسی شبہ میں نہیں رہے گی۔ میرے ایک مدیر دوست سے، جوٹی وی کے وفاداروں میں شامل ہیں ،میں نے کہا کہ ’’ یا حضرت اللہ کا دیا آپ کے پاس سب کچھ ہے اب تو وفاداری چھوڑیئے، کہنے لگےکہ ’’تم جیسے ہرجائی سے اس مسئلے پر بات نہیں ہوسکتی ، کبھی زندگی میں وفاداری کا مزا چکھو، اس کے بعد مجھ سے بات کرنا‘‘۔ میرے ایک دوست کی وفاداری حکومت سے نہیں سگریٹ سے ہے جب ان کی بیوی نے سگریٹ نوشی ترک کرنے پر زیادہ اصرار کیا تو اسے سختی سے ڈانٹ دیا اور کہا بیگم مجھے بے وفائی کا درس نہ دو، تمہاری میری رفاقت کو ابھی صرف دس برس ہوئے ہیں جبکہ سگریٹ سے میری رفاقت پچیس برس پرانی ہے میں اگرپچیس برس پرانی رفاقت چھوڑ سکتا ہوں تو پھر دس برس پرانی رفاقت تو کسی بھی وقت چھوڑی جا سکتی ہے، گویا وفاداری کا دوسرانام کینسر ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker