عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

خواتین و حضرات، میں انسان ہوں!۔۔عطا ء الحق قاسمی

یہ پھل اور سبزیاں جنہیں میں آج پورے تیقن اور اعتماد کے ساتھ نوشِ جاں کرتا ہوں کہ اُن کے ذائقوں اور اُن کے طریقِ استعمال سے پوری طرح واقف ہو چکا ہوں۔ ایک وقت ہوگا جب انسان پر اُن کی ماہیت پوری طرح واضح نہیں ہو گی اور وہ اُن کے بارے میں خاصی مختلف قسم کی ’’رائے‘‘ رکھتا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ میں آج جو چیزیں جس انداز سے میں استعمال کرتا ہوں، پرانا انسان اُنہیں کسی اور طرح استعمال میں لاتا ہوگا اور پھر مختلف النوع تجربوں کے بعد اُن پھلوں اور سبزیوں کی موجودہ ’’حیثیت‘‘ وجود میں آئی ہوگی۔ یہ خیال یونہی بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں در آیا ہے۔ چنانچہ خاصی بھول بھلیوں میں مبتلا ہو کر رہ گیا ہوں۔ مثلاً میں سوچتا ہوں کہ پرانے انسان نے جب پہلے پہل حلوہ کدو دیکھا ہوگا تو خاصا حیران ہوا ہوگا تاہم مجھے یقینِ واثق ہے کہ آغاز میں اُس نے حلوہ کدو کو بطور سبزی استعمال نہیں کیا ہوگا بلکہ کنبے کے دو افراد اُسے اٹھا کر گھر لے گئے ہوں گے اور پھر بڑی نفاست سے اُس کی قاشیں بنا بنا کر اُنہوں نے بطور پھل اِسے نوشِ جاں فرمایا ہوگا۔ ممکن ہے ایسا کرتے وقت اُس کے کسیلے ذائقے کی وجہ سے کچھ افرادِ خانہ نے برا سا منہ بنایا ہو لیکن اِس سے چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ یار لوگ مالٹوں کی نسل کا ایک پھل ہزاروں سال گزرنے کے بعد آج بھی چٹخارے لے لے کر چوستے ہیں جس کا نام تو ’’میٹھا‘‘ ہے لیکن عالم یہ ہے کہ اُس کے باعث نصف گھنٹے تک منہ کوڑا رہتا ہے۔ حلوہ کدو کو پھل تسلیم کرنے کے بعد یقیناً ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ پکنک وغیرہ کا پروگرام بننے کی صورت میں یار لوگ اُسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کسی ٹھنڈی جھیل میں ڈبو دیتے ہوں گے اور پھر گھنٹے دو گھنٹے بعد چسکے لے لے کر یہ ’’پھل‘‘ کھاتے ہوں گے۔ یہ صورت حال صرف حلوہ کدو ہی کے بارے میں ظہور پذیر نہیں ہوئی ہوگی بلکہ دیگر سبزیاں اور پھل بھی اِس جانگسل مرحلے سے گزرے ہوں گے۔
مثلاً جس پہلے انسان نے پہلی بار کیلا دیکھا ہوگا، اُس کے ذہن میں بھی یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ یہ کوئی کھانے کی چیز ہے، وہ اُسے ’’یکے از مطبوعات ادارہ نباتات‘‘ ہی سمجھا ہوگا اور اَسے چھلکوں سمیت ہی کھایا ہوگا ۔یہ بھید تو کافی عرصے بعد اُس پر آشکار ہوا ہوگا کہ کیلا کھانے سے پہلے اُس کا چھلکا اُتارنا پڑتا ہے اور جب اُس نے پہلی بار چھلکا اُتارا ہوگا تو اللہ کی قدرت پر خاصا حیران ہوا ہوگا۔ یہ صورتحال صرف حلوہ کدو اور کیلے وغیرہ تک ہی محدود نہیں رہی ہوگی بلکہ میرا خیال ہے کہ ناریل کے سلسلے میں تو مزید الجھنیں پیدا ہوئی ہوںگی چنانچہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ایک طویل عرصے تک ناریل کا شمار پھلوں میں ہونے کی بجائے ’’اسلحے‘‘ میں ہوتا ہوگا اور اُن دنوں لڑائی جھگڑے کے دوران بوتلوں کی بجائے ناریل چلتے ہوں گے۔ بہرحال یہ سب چیزیں قیاس ہی کے ضمن میں آتی ہیں ورنہ ممکن ہے کہ انسان حلوہ کدو کو پہلے دن ہی بطور حلوہ کدو، ناریل کو بطور ناریل اور کیلے کو بطور کیلا ہی استعمال کرتا رہا ہو۔ تاہم یہ معاملہ ’’واللہ علم بالصواب‘‘ ہی کے ذیل میں آتا ہے۔چلیں باقی چیزیں تو چھوڑیں، یہ اخروٹ تو ہم اپنے بچپن میں ایک کھیل میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اونچی زمین پر ایک کھتی کھودتے تھے اور اُس کی طرف اخروٹ لڑھکا کر یا تو کوشش کرتے تھے کہ اُن میں سے ایک آدھ کھتی میں ڈالا جائے اور یا پھر کسی دوسرے اخروٹ سے اُن اخروٹوں کو نشانہ بناتے تھے۔ کامیابی پر وہ اخروٹ ہمارے ہو جاتے تھے یعنی ہم نے وہ اِس ’’جوئے‘‘ میں جیتے ہوتے تھے اور یہ جو لیموں ہے، جس کسی نے بھی اِسے کچا چبایا ہوگا، ایک دفعہ تو اُس کی چیخیں نکل گئی ہوں گی۔ اِسی طرح جو بدقسمت سرخ مرچیں منہ میں ڈال بیٹھا ہوگا، اُس وقت تو اُس کے ساتھ جو ہوئی ہوگی، جس کے لئے وہ صبح واش روم گیا ہوگا، کتنے برے لمحات میں اسے نانی یاد آئی ہوگی۔
اِس طرح کی بےشمار مثالیں میرے ذہن میں آ رہی ہیں۔ بینگن، کدو، گرما، سردا اور اِس طرح کی دوسری اشیا جو ہم اِن دنوں بڑے سلیقے سے کھاتے ہیں، اُن دنوں اِن بےچاروں کی کتنی بےقدری ہوتی ہوگی۔ میں بات لمبی نہیں کرنا چاہتا، آپ اب صرف یہ سوچیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے گندم اُگائی، چاول اُگائے، مصالحہ جات اور گھی کی مختلف قسمیں دریافت کیں۔ میں چاہتا تو آپ کو ڈارون کی تھیوری تک لے جاتااور جو انسان کی پیچیدہ پیدائش کے بارے میں آپ کو پوری تفصیل بتاتا مگر میں آپ کا ایمان ’’خراب‘‘ نہیں کرنا چاہتا اور نہ یہاں یہ قصہ درمیان میں ملانا چاہتا ہوں کہ ہماری جیسی کروڑوں بلکہ اربوں، کھربوں دنیائیں اِسی جانور انسان نے ارتقا کے عمل سے گزر کر دریافت کیں! چنانچہ میں یہ سب قضیے یہیں چھوڑتا ہوں اور آخر میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں وقت نے بہت کچھ سکھایا اگر نہیں سکھایا تو ہمیں انسان بننا نہیں سکھایا لیکن میری اور اپنی خود اعتمادی دیکھیں کہ ہم دونوں خود کو انسان سمجھتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)خواتین و حضرات، میں انسان ہوں!۔۔عطا ء الحق قاسمی
یہ پھل اور سبزیاں جنہیں میں آج پورے تیقن اور اعتماد کے ساتھ نوشِ جاں کرتا ہوں کہ اُن کے ذائقوں اور اُن کے طریقِ استعمال سے پوری طرح واقف ہو چکا ہوں۔ ایک وقت ہوگا جب انسان پر اُن کی ماہیت پوری طرح واضح نہیں ہو گی اور وہ اُن کے بارے میں خاصی مختلف قسم کی ’’رائے‘‘ رکھتا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ میں آج جو چیزیں جس انداز سے میں استعمال کرتا ہوں، پرانا انسان اُنہیں کسی اور طرح استعمال میں لاتا ہوگا اور پھر مختلف النوع تجربوں کے بعد اُن پھلوں اور سبزیوں کی موجودہ ’’حیثیت‘‘ وجود میں آئی ہوگی۔ یہ خیال یونہی بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں در آیا ہے۔ چنانچہ خاصی بھول بھلیوں میں مبتلا ہو کر رہ گیا ہوں۔ مثلاً میں سوچتا ہوں کہ پرانے انسان نے جب پہلے پہل حلوہ کدو دیکھا ہوگا تو خاصا حیران ہوا ہوگا تاہم مجھے یقینِ واثق ہے کہ آغاز میں اُس نے حلوہ کدو کو بطور سبزی استعمال نہیں کیا ہوگا بلکہ کنبے کے دو افراد اُسے اٹھا کر گھر لے گئے ہوں گے اور پھر بڑی نفاست سے اُس کی قاشیں بنا بنا کر اُنہوں نے بطور پھل اِسے نوشِ جاں فرمایا ہوگا۔ ممکن ہے ایسا کرتے وقت اُس کے کسیلے ذائقے کی وجہ سے کچھ افرادِ خانہ نے برا سا منہ بنایا ہو لیکن اِس سے چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ یار لوگ مالٹوں کی نسل کا ایک پھل ہزاروں سال گزرنے کے بعد آج بھی چٹخارے لے لے کر چوستے ہیں جس کا نام تو ’’میٹھا‘‘ ہے لیکن عالم یہ ہے کہ اُس کے باعث نصف گھنٹے تک منہ کوڑا رہتا ہے۔ حلوہ کدو کو پھل تسلیم کرنے کے بعد یقیناً ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ پکنک وغیرہ کا پروگرام بننے کی صورت میں یار لوگ اُسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کسی ٹھنڈی جھیل میں ڈبو دیتے ہوں گے اور پھر گھنٹے دو گھنٹے بعد چسکے لے لے کر یہ ’’پھل‘‘ کھاتے ہوں گے۔ یہ صورت حال صرف حلوہ کدو ہی کے بارے میں ظہور پذیر نہیں ہوئی ہوگی بلکہ دیگر سبزیاں اور پھل بھی اِس جانگسل مرحلے سے گزرے ہوں گے۔ مثلاً جس پہلے انسان نے پہلی بار کیلا دیکھا ہوگا، اُس کے ذہن میں بھی یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ یہ کوئی کھانے کی چیز ہے، وہ اُسے ’’یکے از مطبوعات ادارہ نباتات‘‘ ہی سمجھا ہوگا اور اَسے چھلکوں سمیت ہی کھایا ہوگا ۔یہ بھید تو کافی عرصے بعد اُس پر آشکار ہوا ہوگا کہ کیلا کھانے سے پہلے اُس کا چھلکا اُتارنا پڑتا ہے اور جب اُس نے پہلی بار چھلکا اُتارا ہوگا تو اللہ کی قدرت پر خاصا حیران ہوا ہوگا۔ یہ صورتحال صرف حلوہ کدو اور کیلے وغیرہ تک ہی محدود نہیں رہی ہوگی بلکہ میرا خیال ہے کہ ناریل کے سلسلے میں تو مزید الجھنیں پیدا ہوئی ہوںگی چنانچہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ایک طویل عرصے تک ناریل کا شمار پھلوں میں ہونے کی بجائے ’’اسلحے‘‘ میں ہوتا ہوگا اور اُن دنوں لڑائی جھگڑے کے دوران بوتلوں کی بجائے ناریل چلتے ہوںگے۔ بہرحال یہ سب چیزیں قیاس ہی کے ضمن میں آتی ہیں ورنہ ممکن ہے کہ انسان حلوہ کدو کو پہلے دن ہی بطور حلوہ کدو، ناریل کو بطور ناریل اور کیلے کو بطور کیلا ہی استعمال کرتا رہا ہو۔ تاہم یہ معاملہ ’’واللہ علم بالصواب‘‘ ہی کے ذیل میں آتا ہے۔چلیں باقی چیزیں تو چھوڑیں، یہ اخروٹ تو ہم اپنے بچپن میں ایک کھیل میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اونچی زمین پر ایک کھتی کھودتے تھے اور اُس کی طرف اخروٹ لڑھکا کر یا تو کوشش کرتے تھے کہ اُن میں سے ایک آدھ کھتی میں ڈالا جائے اور یا پھر کسی دوسرے اخروٹ سے اُن اخروٹوں کو نشانہ بناتے تھے۔ کامیابی پر وہ اخروٹ ہمارے ہو جاتے تھے یعنی ہم نے وہ اِس ’’جوئے‘‘ میں جیتے ہوتے تھے اور یہ جو لیموں ہے، جس کسی نے بھی اِسے کچا چبایا ہوگا، ایک دفعہ تو اُس کی چیخیں نکل گئی ہوں گی۔ اِسی طرح جو بدقسمت سرخ مرچیں منہ میں ڈال بیٹھا ہوگا، اُس وقت تو اُس کے ساتھ جو ہوئی ہوگی، جس کے لئے وہ صبح واش روم گیا ہوگا، کتنے برے لمحات میں اسے نانی یاد آئی ہوگی۔

اِس طرح کی بےشمار مثالیں میرے ذہن میں آ رہی ہیں۔ بینگن، کدو، گرما، سردا اور اِس طرح کی دوسری اشیا جو ہم اِن دنوں بڑے سلیقے سے کھاتے ہیں، اُن دنوں اِن بےچاروں کی کتنی بےقدری ہوتی ہوگی۔ میں بات لمبی نہیں کرنا چاہتا، آپ اب صرف یہ سوچیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے گندم اُگائی، چاول اُگائے، مصالحہ جات اور گھی کی مختلف قسمیں دریافت کیں۔ میں چاہتا تو آپ کو ڈارون کی تھیوری تک لے جاتااور جو انسان کی پیچیدہ پیدائش کے بارے میں آپ کو پوری تفصیل بتاتا مگر میں آپ کا ایمان ’’خراب‘‘ نہیں کرنا چاہتا اور نہ یہاں یہ قصہ درمیان میں ملانا چاہتا ہوں کہ ہماری جیسی کروڑوں بلکہ اربوں، کھربوں دنیائیں اِسی جانور انسان نے ارتقا کے عمل سے گزر کر دریافت کیں! چنانچہ میں یہ سب قضیے یہیں چھوڑتا ہوں اور آخر میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں وقت نے بہت کچھ سکھایا اگر نہیں سکھایا تو ہمیں انسان بننا نہیں سکھایا لیکن میری اور اپنی خود اعتمادی دیکھیں کہ ہم دونوں خود کو انسان سمجھتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker