عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میں تے میرا کورونا و ائرس

گزشتہ ایک برس سے میں کورونا وائرس سے چھپتا پھر رہا تھا۔ ماسک لگا کر پھرتا تھا، جیب میں سینی ٹائزر کی شیشی رکھتا تھا اور ہر وقت ہاتھ دھوتا رہتا تھا۔ اس احتیاط نے مجھے اس موذی وائرس سے ایک سال تک محفوظ رکھا۔ پھر آہستہ آہستہ شاید میری احتیاط میں کوئی کمی آ گئی، میں کبھی ماسک پہنتا کبھی اتار دیتا، سینی ٹائزر کی شیشی بھی جیب میں رکھنی چھوڑ دی، بس دفتر پہنچ کر یا گھر واپس آ کر ہاتھ دھو لیتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ ماہ مجھ میں کورونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، میں نے ٹیسٹ کروایا تو مثبت نکلا۔ میں چونکہ وہمی طبیعت کا آدمی ہوں اس لئے ایک ٹیسٹ پر اعتبار نہیں کیا اور دوسری لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کروا کے دیکھا مگر نتیجہ وہی۔ کورونا مثبت۔ چارو ناچار گھر میں ٹک گیا مگر میرا گھر پر رہنا بھی اس منحوس وائرس کو منظور نہ تھا۔ دو چار دن بعد میری علامات میں شدت آگئی، بخار ہوا، ساتھ کھانسی بھی اور جسم میں درد۔ میرے بیٹوں نے میری حالت دیکھی تو فوراً اسپتال داخل کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب نبیل اعوان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کورونا کا سب سے بہترین علاج میو اسپتال میں ہو رہا ہے، آپ فوراً یہاں آ جائیں، تجربہ کار ڈاکٹرز یہاں کورونا کے علاج پر مامور ہیں۔ نبیل اعوان کوئی روایتی قسم کا بیورو کریٹ نہیں، یہ خود نہ صرف ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے بلکہ لنکنز اِن سے بیرسٹر بھی ہے، اس کے علاوہ بھی نبیل اعوان کے پاس کچھ ڈگریاں ہیں جو مجھے یاد نہیں مگر محض ڈگریاں کسی کی قابلیت کا معیار نہیں ہوتیں، اس نوجوان بیورو کریٹ کا شمار سول سروس کے بہترین افسروں میں ہوتا ہے۔ یہ جس محکمے میں رہا وہاں اپنی محنت، لیاقت اور دیانت سے کام کے جھنڈے گاڑے۔ ایک سال سے یہ کورونا کی وبا ہمارے ملک میں ہے، اس وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارا ملک بھی اس سےمستثنیٰ نہیں مگر ہمارے اوپر خدا کا کوئی خاص فضل رہا کہ ہمیں اس وبا کی شدت کا اس طرح سے سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اللہ کی مہربانی کے ساتھ ساتھ اس میں ہمارے ڈاکٹرز، ہیلتھ ورکرز اور بیورو کریسی کے قابل افسران کا بھی ہاتھ ہے جنہوں نے اس وبا سے نمٹنے کی کامیاب حکمت عملی اپنائی۔ مجھے اس ضمن میں ذاتی تجربہ میو اسپتال میں ہوا جہاں میرا کورونا کا علاج ہوا اور نبیل اعوان کی یہ بات سو فیصد درست ثابت ہوئی کہ اس سے زیادہ بہترین ٹریٹمنٹ کہیں دستیاب نہیں۔ اس نوجوان بیورو کریٹ نے گزشتہ ایک سال میں جس طرح کورونا سے نمٹنے کے اقدامات کیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہیں۔
میو اسپتال میں جب میری حالت سنبھل گئی تو میں گھر واپس آ گیا مگر ڈاکٹرز نے مجھے سختی سے ہدایت کی تھی کہ میں آکسیجن کا سلنڈر اپنے ساتھ رکھوں، اینٹی بائیوٹک کھاتا رہوں اور ساتھ انہوں نے مجھے اسٹیروئیڈ بھی جاری رکھنے کے لئے کہا۔ میری عمر چونکہ اس فروری میں 78برس ہو چکی ہے اور میں اب بھی سگریٹ پیتا ہوں، اس لئے ڈاکٹرز نے مجھے خاص طور پر احتیاط جاری رکھنے کے لئے کہا۔ یہاں مجھے ڈاکٹر مسعود صادق، ڈاکٹر محمود ملک اور ڈاکٹر فرید کا خصوصی طور پر ذکر کرنا ہے جو ہر وقت میری رہنمائی کے لئے فون پر دستیاب رہے۔ ڈاکٹر مسعود صادق چلڈرن اسپتال کے ڈین ہیں اور ایک فرشتہ سیرت انسان ہیں، میں نے ان سے زیادہ نیک طبیعت انسان نہیں دیکھا۔ ایک موقع پر میں نے اسپتال سے بھاگنے کا پروگرام بنایا تو انہوں نے فوراً مجھے فون کر کے کہا کہ میں یہ غلطی ہرگز نہ کروں۔ ڈاکٹر محمود ملک جتنے منجھے ہوئے فزیشن ہیں اتنے ہی عمدہ شاعر بھی ہیں۔ یہ ڈاکٹروں کی اس کھیپ سے تعلق رکھتے ہیں جو مریض دیکھ کر مرض بتا دیتے تھے، اب ایسے ڈاکٹر ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر خاور عباس پلمنولوجسٹ ہیں اور کورونا کے اسپیشلسٹ ہیں، انہوں نے خصوصی توجہ کے ساتھ میرا علاج کیا۔ ڈاکٹر فرید کا زیادہ رابطہ میرے بیٹوں سے رہا، وہ مسلسل میری رپورٹ دیکھ کر علاج کے لئے ہدایات دیتے رہے، ویسے وہ ایک باکمال انسان اور پلاسٹک سرجری کے ماہر ہیں۔
کورونا سے اب میں نجات پا چکا ہوں۔ اس بیماری نے مجھے خاصا تنگ کیا مگر خدا کا شکر ہے کہ میں اس تکلیف سے نہیں گزرا جس سے میرے کچھ احباب کو گزرنا پڑا۔ حالانکہ میں اسموکر ہوں اور مجھے سانس کا مسئلہ بھی رہتا ہے۔ اس کے باوجود میری علامات میں اتنی شدت نہیں آئی جتنی عموماً مجھ ایسے مریض میں آ جاتی ہے۔ آکسیجن لیول بھی 90سے ایک آدھ مرتبہ ہی نیچے گیا مگر میں نے ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق آکسیجن کا استعمال جاری رکھا، اس کی وجہ سے پھیپھڑوں کو کم کام کرنا پڑتا ہے اور یوں بحالیٔ صحت میں مدد ملتی ہے۔ اب تو خیر کورونا کی ویکسین بھی آ چکی ہے اور پاکستان میں ہیلتھ ورکرز کو لگائی جا رہی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس سال کے آخر تک ہم اس وائرس سے نجات پا لیں گے۔ میں ان تمام احباب اور اپنے قارئین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بیماری کے دوران میری صحت یابی کے لئے دعائیں کیں۔ دوا کے ساتھ ساتھ دعا بھی ضروری ہوتی ہے۔
اختتامی بات یہ ہے کہ میو اسپتال میں جب میری حالت سنبھل گئی تو کورونا کو اس کے گھر تک چھوڑنے کے لئے اپنے خاندانی معالج اور صفِ اول کے ڈاکٹر پروفیسر خاور عباس کے زیر نگرانی مزید اقدامات ضروری تھے۔ سو ڈاکٹر صاحب نے اتنی توجہ دی کہ کورونا اگر باقی رہ بھی گیا تھا تو اندر سے باہر نکلنے کا راستہ پوچھتا رہ گیا ہوگا۔ اب اللہ نے ستّے ہی خیراں لکھ دی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker