عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میں بڑا آدمی ہوں؟

میں نہ بڑا آدمی ہوں اور نہ ان معنوں میں بڑا آدمی بننے کا کوئی ارادہ ہے کہ بچپن کا کوئی لنگوٹیا حالات کی ستم ظریفی کے باعث اگر کبھی سرراہے لنگوٹی ہی میں پھرتا مل جائے تو آنکھیں سکیڑ کر اور پیشانی پر گہری سوچ کی لکیریں بکھیر کر میں اس سے کہوں کہ آپ کو کہیں دیکھا تو ضرور ہے لیکن یہ یاد نہیں پڑتا کہ کہاں دیکھا ہے اور وہ ستم ظریف جواب میں ایسے رازہائے سربستہ سے پردہ اٹھائے کہ اسے پہچانے بغیر بات نہ بنے۔ لیکن قارئین کرام میرے ساتھ یہ سانحہ بارہا گزر چکا ہے مگر چونکہ میں بڑا آدمی نہیں بلکہ صرف حافظے کی کمزوری کا شکار ہوں بدقسمتی یہ کہ اخبار میں اور ہر قسم کی کمزوریوں کے علاج کی نوید نظر آتی ہے لیکن حافظے کی کمزوری کا ذکر کہیں نظر نہیں آتا، لہٰذا میرے ساتھ یہ ہاتھ بھی ہوتا رہا ہے کہ اس طرح کے موقع پر بڑے تپاک سے اپنے کسی بزعم خویش ’’دوست‘‘ کو گلے لگایا، حال احوال پوچھا، ادھر ادھر کی گپیں ہانکیں لیکن اس دوران مسلسل سوچتا رہا کہ یہ برادر مجھے جانتے کیسے ہیں اور یہ کہ ملاقات کہاں ہوئی تھی؟ کسی ریستوران میں، نہیں سینما میں، نہیں کسی دوست کے گھر؟ نہیں خواب میں؟ ان کی بڑی بڑی مونچھوں پر نگاہ اٹھتی ہے اور ذہن کہتا ہے ہرگز نہیں، تو پھر کہاں؟ لیکن اس تمام شش و پنج اور ذہنی کشمکش کے باوجود اپنے اس ’’عزیز‘‘ پر یہ ظاہر ہونے نہیں دیا جاتا کہ اس کا ملنسار دوست اپنے اور اس کے درمیان رابطہ کی کڑیاں تلاش کر رہا ہے۔ اس تمام گرمجوشی کا بھانڈا پھوٹنے کا امکان تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اس کا نام ذہن میں نہیں آتا اور ’’دوستانہ بے تکلفی‘‘ کے اس ماحول میں اس کے شانوں پر دوہتڑ مار کر کبھی اسے بادشاہو، کبھی یار اور کبھی حضرت کہہ کر پکارتا ہوں اور گھوم پھر کر پوچھتا ہوں ’’ہور کی حال اے‘‘ مگر داد دیجئے میری ثابت قدمی، تحقیق و تجسس کے جذبے اور تکنیک کی کہ بالآخر میں اس کے بارے میں کافی کچھ جان لیتا ہوں۔ گفتگو کا خاکہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔
’’اور کیا حال ہے ؟
خدا کا شکر ہے، جی رہا ہوں۔
ابھی تک وہیں کام کر رہے ہو۔
اور کہاں جانا ہے، نوکری تو ایک پرائیویٹ فرم میں بھی مل رہی تھی، تنخواہ بھی زیادہ تھی لیکن ایکسائز کی نوکری چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ تمہیں تو پتہ ہی ہے۔ ہی ہی ہی‘‘
اطمینان کا گہرا سانس کم از کم ایک کڑی تو ملی۔
’’اور کیا حال ہے۔
خدا کا شکر ہے۔ جی رہا ہوں۔
بڑے بھائی کیسے ہیں؟
بالکل ٹھیک ہیں، جس روز تمہیں دفتر میں مل کر آئے بڑی تعریف کر رہے تھے، بتا رہے تھے کہ تم انہیں بڑے تپاک سے ملے اور ان کا کام بھی کر دیا۔
اچھا وہ (ٹھیک ہی کہتے ہوں گے)
اور؟
بس گزر رہی ہے۔
ابا جی کیسے ہیں؟
ابا جی، وہ تو ﷲ کو پیار ے ہو گئے۔ پرسوں ان کی تیسری برسی تھی‘‘۔
اس موقع پر سمجھ نہیں آتا کہ لا حول ولا پڑھا جائے یا انا للہ۔ میں چہرے پر بے پناہ غم کی پرچھائیاں پھیلا کر اظہار تعزیت کے بعد کہتا ہوں فاتحہ خوانی کے لئے کسی روز حاضر ہوں گا، رہائش گاہ وہیں ہے نا؟
ہاں یار! لیکن سمن آباد سے اب جی اچاٹ ہو گیا ہے۔
اور اگر دفتر میں آنا ہو تو وہاں کس نام سے تمہارے بارے میں پوچھا جائے۔
وہاں بھی سبھی افتخار ہی کہتے ہیں۔
اچھا تو افتخار پیارے! پھر تمہیں دفتر ہی میں ملوں گا اور یوں اپنے اس ’’عزیز دوست‘‘ کو بادشاہو اور حضرت وغیرہ سے لے کر افتخار تک پکارنے کا مرحلہ بخیر و عافیت طے ہو جاتا ہے لیکن ان کے نام، کام اور رہائش کے بارے میں جان لینے کے باوجود ان سے ’’دوستی‘‘ کا حدود اربعہ ذہن میں نہیں آتا۔
اور اب تو بچپن کے کچھ دوستوں، جو بزرگ بلکہ بے حد بزرگ ہو چکے ہیں، سے ملاقات پر گفتگو کچھ اس طرح کی ہوتی ہے۔
السلام علیکم، کیسے حال ہیں؟
وعلیکم السلام، لیکن تم نے ابھی کیا کہا؟
کچھ نہیں، بس تمہارا حال پوچھا تھا۔
اچھا چھا، سناؤ کیسے آنا ہوا۔
وہ تمہارے دوست میرزا صاحب ہیں نا، ان سے ایک کام آن پڑا ہے۔
ارے بھائی اتنی تیزی سے بات نہ کرو، حافظہ قدرے کمزور ہے، بھول جاتا ہوں ہاں تو ذرا رک رک کر بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو؟
تمہارے دوست
ٹھیک ہے
میرزا سے
سمجھ گیا ہوں
ایک ضروری کام
ٹھیک ہے، آگے چلو
پڑ گیا ہے۔
یہ پڑ گیا ہے تو سمجھ گیا ہوں لیکن اس سے پہلے تم نے کیا کہا تھا ذرا پھر سے بتانا کیا پڑ گیا ہے۔
قارئین کرام! میرا حافظہ ضرور کمزور ہے لیکن اس وقت آپ مجھے صرف دروغ گو ہی سمجھیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker