عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ہنسنا رونا منع ہے !: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

آج میں آپ کو مولانا رومؒکی ایک ہمہ جہت حکایت سناتا ہوں ۔آج کی سفری سہولتوں سے پہلے لوگ لمبے سفر گھوڑوں وغیرہ پر طے کرتےتھے ۔مختلف مقامات پر سرائے بنی ہوتی تھیں جہاں مسافر آرام بھی کرتےتھے اور وہاں ایک نوٹس چسپاں بھی ہوتا تھا کہ فلاں دن فلاں وقت ایک قافلہ فلاں مقام کی طرف روانہ ہو رہا ہے جو اس قافلے کیساتھ سفر کرنا چاہے وہ مطلع کر دے ۔اس کی ضرورت یوں محسوس ہوتی تھی کہ اس دور میں راستے محفوظ نہیں تھے اور ڈاکو اکا دکا مسافروں کو لوٹ لیتے تھے ایک مسافر کا گھوڑا بہت اعلیٰ نسل کاتھا اس کی طاقت اور تیز رفتاری کی دھومیں تھیں مگر اس میں ایک نقص بھی تھا اور وہ یہ کہ دس پندرہ میل دوڑنے کے بعد وہ رفع حاجت کے بعد رک جاتا اور اس رکنے کا مقصد محض اپنی لید کی ’’کوالٹی ‘‘ چیک کرنا ہوتا تھا اور پھر اگلی منزل کی طرف رواں ہوتا تھا ،جس کے نتیجے میں تیز رفتار کے ساتھ کیا گیا پچھلا سفر ضائع چلا جاتا تھا ۔مسافر نے قافلے کے ایک ساتھی سے جس کا آدھا رستہ اس مسافر کے ساتھ مشترک تھا اس کے بعد اس نے دوسری طرف مڑ جانا تھا ۔گزارش کی کہ وہ اپنا گھوڑا اس کے گھوڑے کے پیچھے لگائے اور جہاں وہ رفع حاجت سونگھنے کے لئے رکے وہ اسے تھپڑ مار کر چلنے پر مجبور کر دے۔ قافلے کا رکن راضی ہو گیا چنانچہ تھپڑمارتے مارتے وہ اسے مشترکہ منزل تک لے آیا ۔مسافر نے اپنے ساتھی کے اس تعاون کا شکریہ ادا کیا اور اپنی منزل کی جانب رواں ہو گیا۔تھوڑی دور چلنے کے بعد گھوڑے نے پیچھے نظر دوڑائی تو اسے تھپڑوالا نظر نہ آیا چنانچہ اس نے واپس اس رستے کی طرف ’’دُرکی ‘‘ لگا دی جو وہ طے کرکے آیا چنانچہ وہ جس سرائے سے چلا تھا وہاں سے دوبارہ دوچار میل چلنے اور رفع حاجت چیک کرنے کے بعد منزل کی طرف روانہ ہوگیا ۔
میں نے مولانا ؒکی یہ حکایت پڑھی تو ہنسی بھی آئی اور رونا بھی آیا ۔ہنسی تو یوں آئی کہ میاں تم نے اپنے لید پر کون سے فرانس کے پرفیوم چھڑکے ہوئے تھے جن کی خوشبو سے مدہوش ہو کر تم اگلے سفر کے لئے تازہ دم ہو جاتے تھے ۔اور رونا اپنی قوم کی قسمت پر آیا کہ خود ہمیں ایسے گھوڑے ملے جو یہ دوچار سال بعد ہمارا سارا ترقی کا سفر خاک میں ملا دیتے ہیں ۔وہ گھوڑے بہت عالی نسل اور طاقتور ہیں وہ میرے سے لکھوا لیں کہ ان کے پسینے سے بھی خوشبو کی لپٹیں آتی ہیں مگر خدا کے لئے یہ سب کچھ چیک کرنے کے لئے ہمارا سفر کھوٹا نہ کیا کریں یہ ایک پاکستانی کی مودبانہ درخواست ہے جسے اپنے عالی نسب اور طاقتور گھوڑوں پر ناز ہے اور جو ہر طرح ان کی خدمت کرتا ہےامید ہے کہ اس کی اس درخواست کو محبت کے پس منظر ہی میں لیا جائے گا۔
اور اب ایک اور حکایت نما مزاح کے انداز میں لکھا یہ (جنرل) شفیق الرحمان درد دل :ایک باغ میں کچھ لوگ پکنک کے لئے آئے ہوئے ہیں دفعتاً ایک بیل بھاگتا بھاگتا آتا ہے جس کے تعاقب میں ایک بوڑھا ہے باغیچے کو دیکھ کر تھکا ہوا بوڑھا ایک طرف بیٹھ کر پسینہ پونچھنے لگتا ہے اور بیل اس کے قطع میں گھاس چرنا شروع کر دیتا ہے لوگوں نے بوڑھے سے علیک سلیک کی کوشش کی لیکن اس نے منہ پھیر لیا پھر کھانے کی دعوت دی اس پر بھی خاموش رہا آخر انہوں نے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے اس نے منہ بسورتے ہوئے جواب دیا کہ اس کی کہانی اس قدر غمناک ہے کہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے ۔
سب نے اصرار کیا تو بوڑھے نے بتایا کہ ایک بادشاہ کے تین بیٹے تھے تینوں وزیر کی حسین وجمیل لڑکی پر عاشق تھے لیکن لڑکی اتنی رحمدل تھی کہ کسی ایک سے شادی کرکے بقیہ دوشہزادوں کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی چنانچہ وہ تینوں لگاتار شادی کے طلب گار رہے اور لڑکی خاموش رہی اتفاق سے تینوں شہزادے وجاہت، تعلیم، توانائی ، شہ سواری اور فنون سپہ گری میں ایک دوسرے کے ہمسر تھے ۔جب انہوں نے کام کاج چھوڑ کر آہ وبکا میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیا تو بادشاہ نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا کہ اب شادی کا فیصلہ فوراً ہو جانا چاہئے لیکن لڑکی بدستور خاموش رہی ادھر شہزادوں کی حالت اور خستہ ہوتی گئی آخر بادشاہ کو طیش آیا اور اس نے وزیر کو خبردار کیا کہ اگر کل شام تک فیصلہ نہ ہوا تو ایک نیا وزیر اس سے چارج لے لے گا۔ وزیر شہزادوں کو شہر سے باہر لے گیا ان کا تحریری اور زبانی امتحان لیا تینوں برابر نکلے پھر نیزہ بازی کرائی چھلانگیں لگوائی ، دریامیں تیرایا سارے جتن کئے لیکن اگلی سہ پہر تک تینوں کے نمبر یکساں تھے کچھ اور ٹیسٹ بھی لئے مگر معاملہ وہی کا وہی جب سورج ڈوبنے لگا تو وزیر بہت گھبرایا پریشانی میں ادھر ادھر دیکھا تو ایک بچھڑا نظر آیا جو گھاس چر رہا تھا وزیر نے بوکھلا کر نعرہ لگایا جو اس بچھڑے کو پکڑے وہ جیت گیا ۔
تینوں شہزادے سرپٹ بھاگے ادھر بچھڑے نے ڈر کر زقند بھری اور تعاقب شروع ہو گیا آگے ایک کھیت تھا جس میں ایک کا پاؤں پھسلا اور وہ پیچھے رہ گیا پھر جنگل آیا اس میں بچھڑے نے دونوں شہزادوں کو خوب چکر دیئے اونچی اونچی جھاڑیوں میں ایک شہزادہ کسی اور رخ میں نکل گیا اور اب ایک شہزادہ رہ گیا جو پوری مستعدی سے تعاقب کر رہا تھا ادھر بچھڑا تھا کہ قریب نہ آنے دیتا تھا وہ دن اور آج کا دن مدتیں گزر چکی ہیں وہ بچھڑا پورا بیل بن چکا ہے اور آپ کےسامنے گھاس چر رہا ہے میری بھی عمر بڑھتی جا رہی ہے لیکن تعاقب جاری ہے۔سب نے دیکھا کہ بیل گھاس چرنے کے بعد تازہ دم ہو کر بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا
اچھا تو خدا حافظ،بوڑھے نے نعرہ لگایا اور بیل کے پیچھے ہو لیا!
کیا یہ ہم پاکستانیوں کی کہانی نہیں ہے ؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker