عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:یک بستی امیروں اور ایک غریبوں کی!

میں اور میرا ساتھی شہر کی ایک ماڈرن بستی میں چہل قدمی کرتے ہوئے دور نکل گئے، یہ امیر ترین لوگوں کی بستی تھی اور یہاں رہنے والے تمام آسائشوں سے بہرہ ور تھے۔ ہمارے قریب سے تھوڑی تھوڑی دیر بعدکوئی چمکیلی کار گزر جاتی، جس میں خوشنما چہرے، خوشنما لبادوں میں ملبوس بیٹھے نظر آتے۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے بنگلے ایستادہ تھے جن کے وسیع و عریض لان میں اودے اودے، نیلے نیلےاور پیلے سبز پتوں والے پھول چہرےاپنی بہاردکھا رہے تھے، یہ خیرہ کن مناظر تھے جنہیں ہماری آنکھیں دیکھ سکتی تھیں ان بنگلوں کے اندر کی دنیا ہم سے اوجھل تھی!
چلتے چلتے غیر ارادی طور پر میں اور میرا ساتھی سڑک کے دائیں ہاتھ ایک ڈھلوان میں اتر گئے اور ہمیں یوں لگا جیسے الف لیلیٰ کے ابوالحسن کو عالیشان محل اور حسین کنیزوں کے جھرمٹ سے اٹھا کر واپس اسی ماحول میں بھیج دیا گیا ہے، جہاں سے اسے لایا گیا تھا، ہمارے سامنے ایک کچی سی گلی تھی، جس کے نکڑ پر کسی بزرگ کا مزار تھا اور یہاں سبز علم لہرا رہے تھے، دائیں جانب ایک چھوٹی سی مسجد تھی اور یہاں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس بچے مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھ رہے تھے۔ یہ گلی ذرا آگے چل کر چوڑی ہوگئی تھی اور اس کے درمیان کنواں تھا۔ ایک عورت کنویں میں سے بو کے کے ذریعے پانی نکال رہی تھی اور دوسری عورت اپنی باری کے انتظار میں بالٹی پاؤں میں رکھے منڈیر پر بیٹھی تھی۔ سامنے والے مزار کے صحن میں ایک سفید ریش بزرگ کبوتروں کو دانہ ڈال رہے تھے اور سینکڑوں کبوتر ان کے گرد جمع تھے۔ مزارکے ذرا ادھر برگد کا ایک پرانا درخت اپنی جڑیں زمین کے اندر اور باہر پھیلائے کھڑا تھا، میں اور میرا ساتھی چلتے چلتے تھک گئے تھے۔ ہم نے برگد کے نیچے رومال بچھایا اور سستانے کے لئے بیٹھ گئے۔
تم چائے پیو گے؟ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا، جس کے چہرے پر تھکن کے آثار کچھ زیادہ نمایاں تھے۔ وہ میرے لئے ان رستوں پر چل نکلا تھا ورنہ وہ ایسی مسافتوں کا عادی نہ تھا!
’’ہاں‘‘ اس نے سر کی ہلکی سی جنبش سے جواب دیا۔ میں اٹھ کر پردیسی ہوٹل کی طرف گیا اور چائے کے دو کپ بنوا کر لے آیا۔ دکان کے مالک نے اپنے دوسرے گاہکوں کے برعکس ہمارے صاف ستھرے کپڑے دیکھ کر نہ صرف یہ کہ الماری سے دو ایسے کپ نکلوا ئے جن کے کنارے ٹوٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ انہیں دھویا بھی بڑے اہتمام سے تھا۔ میں نے برگد کے نیچے پہنچ کر پلیٹ میں گری ہوئی چائے زمین پر انڈیلی اور پھر ایک کپ اپنے ساتھی کو تھما دیا۔ ’’یہاں کتنا سکون ہے‘‘۔ میرے ساتھی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ’’تم دیکھ رہے ہو کہ پاس سے گزرنے والے لوگوں کی نظروں میں کتنی پاکیزگی ہے اور وہ اس طرح سلام کر کے گزر رہے ہیں جیسے برسوں سے ہمارے آشنا ہوں‘‘۔
’’ہاں میں دیکھ رہا ہوں لیکن اپنے بائیں جانب اس بوڑھی عورت کو دیکھو!‘‘ میں نے اس طرف اشارہ کیا جہاں ایک ضعیف عورت پاؤں کے بل بیٹھی پانی ایسے شوربے میں روٹی بھگو کر کھا رہی تھی، اس کے کپڑے تار تار تھے، ’’چچ چچ چچ‘‘ میرے ساتھی نے اپنے دکھ کا اظہار کیا ’’میری جیب میں اس وقت پیسے نہیں ہیں تم فی الحال پانچ سو روپے اسےدے دو‘‘، میں نے آگے بڑھ کر بوڑھی عورت کونوٹ تھمادیا، اس نے خوشی سے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ یہ نوٹ ہاتھوں میں لے لیا اور پھر غور سے اسے دیکھنے لگی اس کے بعد اس کے دو منٹ دعاؤں میں صرف ہوگئے اور پھر اس نے یہ نوٹ دوپٹے کے دامن میں باندھتے ہوئےپوچھا، ’’بیٹے یہ کتنے کا نوٹ ہے؟‘‘ مجھے یوں لگا کسی نے میرا کلیجہ مسل دیا ہو اور میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر واپس برگد کی چھاؤں میں آکر بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ہم دوبارہ چند گز پر واقع جدید طرزکی بستی میں تھے جہاں سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے بنگلے ایستادہ تھے جن کے وسیع و عریض لان میں رنگ برنگ پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ دائیں جانب واقع ایک اسنیک بار کے باہر نئے ماڈل کی کاریں کھڑی تھیں جن میں بیٹھے ہوئے خوش لباس اور خوشنما چہرے آئس کریم کھارہے تھے، وہ بستی میری نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی جہاں ایک مسجد میں بچے لہک لہک کر قرآن مجید پڑھ رہے تھے، مزار پر سبز علم لہرا رہے تھے اور جس کے صحن میں ایک بزرگ کبوتروں کو دانہ ڈال رہے تھے، جہاں کنویں میں سے عورتیں پانی نکال رہی تھیں، جہاں پھٹے پرانے کپڑوں میں ایک ضعیف عورت پانی ایسے شوربے میں باسی روٹی کے لقمے بھگو کر کھا رہی تھی اور جہاں برگد کا ایک درخت تھا جس کے سائے تلے ’’ عجوبہ‘‘ بستیاں دیکھنے کے لئے آنے والے مجھ جیسے لوگ بیٹھتے ہیں اور کچھ دیر سستانے کے بعد واپس اپنی روشن بستیوں کو لوٹ جاتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker