عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کاکالم:دو درویشوں کی کہانی !

میں آج صبح چھ بجے سے گھر سے نکلا ہوا ہوں اب شام کے چھ بجنے کو ہیں ان بارہ گھنٹوں میں ، میں مسلسل مصروف رہا ہوں ،گھر سے بس اسٹاپ تک کا فاصلہ آدھ گھنٹے کا ہے، رستے میں منیر مل گیا وہ بھی میری طرح ہمیشہ مصروف رہتا ہے اس نے کبھی ایک لمحہ بھی کسی فضول کام میں ضائع نہیں کیا چنانچہ بس اسٹاپ کی طرف روانہ ہونے کی بجائے میں اور منیر ایک بینچ پر بیٹھ گئے اس نے ایک بہت اہم بات مجھے بتانا تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے اس نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ ہر وقت مصروف کیوں رہتا ہے کوئی کام کاج نہیں کرتا ،گھر میں فاقے ہیں بچے آوارہ ہو رہے ہیں، میں نے منیر سے کہا یار یہ تو بہت بری بات ہے یوں ایک دم فتویٰ نہ دے دیا کرو پہلے کسی کنجر کی سن بھی لیا کرتے ہیں۔ قارئین سے معذرت کہ مجھے یہ ناپسندیدہ لفظ یہاں درج کرنا پڑا مگر میری یہ مجبوری ہے کہ وہ اللہ جانے اپنے لئے ہمیشہ یہی لفظ کیوں پسند کرتا ہے ۔بہرحال اس نے اپنی مصروفیت بتائی اور میں اس کی وضاحت سے مطمئن ہوگیا اس نے کہا کہ تم جانتے ہو ملک کتنے بڑے بحران سے گزر رہا ہے ۔مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔سیاست دان ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں میں صبح اٹھتے ہی ٹی وی آن کرتا ہوں تمام خبریں، تمام تجزیئے، سنتا ہوں ٹویٹس پڑھتا ہوں وہی راگ سنتا ہوں جس سے طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے چنانچہ میں استادباگڑ بلے کی طرف جاتا ہوں اور اس سے یہ تمام صورتحال ڈسکس کرتا ہوں۔ استادباگڑ بلا ان سارے مسائل کا ایک حل بتاتا ہے کہ کسی طریقے سے باہر کا ویزا لگوا کر ملک کو خیر باد کہہ دیا جائے ۔اس کے بعد ہم دونوں اٹھ کر وارث روڈ پر بیرون ملک شرطیہ بھجوانے والے چودھری الم غلم کے پاس جاتے ہیں وہ اپنی فیس بتاتا ہے اور ہم اسے کل آنے کا کہہ کر اٹھ آتے ہیں۔اب تم ہی بتاؤ میں وقت کہاں ضائع کرتا ہوں، سارا دن ملک و قوم کی زبوں حالی پر کڑھتا ہوں اور پھر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے باہر جانے کے منصوبے بناتا رہتا ہوں۔
میں نے منیر کی یہ رقت آمیز گفتگو سنی تو افسوس ہوا کہ کیسے اعلیٰ درجے کے انسان کے بارے میں کیسی بدگمانیوں سے کام لیا جاتا ہے میں نے اسے بتایا کہ صرف تمہارے ساتھ ہی یہ سلوک نہیں ہو رہا ہم جیسے مخلص لوگوں کے رہنے کی یہ جگہ ہی نہیں ،تم سے بہتر مجھے کون جانتا ہے کہ میں صبح گھر سے نکلتا ہوں اور جاب کے حصول کے لئے مارا مارا پھرتا ہوں میں نے میٹرک فرسٹ ڈویژن اور ایف اے پتہ نہیں کون سی ڈویژن میں پاس کیا تھا مگر جہاں جاتا ہوں وہاں سے ناں سن کر واپس آ جاتا ہوں، میں نے گھر میں اخبار محض نوکریوں کے اشتہار دیکھنے کے لئے لگوایا ہوا ہے ۔ایک بڑی معروف کمپنی کا اشتہار دیکھا انہیں ایک جنرل مینجر اور آٹھ دس معقول قسم کی ویکینسیوں کے لئے عملے کی ضرورت تھی ۔کمپنی کے مالک کے آفس کے باہر پندرہ بیس امیدواروں کے ساتھ اپنے انٹرویو کے انتظار میں ،میں بھی بیٹھ گیا ہر امیدوار پندرہ بیس منٹ کے انٹرویو سے گزرتا تھا ان میں سے کسی کے چہرے پر رونق اور کسی کے چہرے سے بے رونقی ٹپکتی تھی ۔جب میری باری آئی انہوں نے میری کوالیفکیشن دیکھی تو بہت مرعوب ہوئے کہنے لگے فی الحال آپ کے شایان شان کوئی جاب نہیں ۔مگر جونہی کوئی ویکنسی نکلی ہم آپ کو اطلاع کریں گے ،میں نے انہیں کہا میں درویش صفت آدمی ہوں رزق حلال پر یقین رکھتا ہوں کوئی عہدہ چھوٹا بڑا نہیں ہوتا مجھے ڈپٹی جنرل منیجر بننے میں بھی کوئی عار نہیں ۔کمپنی کا مالک کسی اچھے خاندان سے تھا بولا صاحب آپ کی عظمت کو سلام مگر ہمارا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ آپ ایسی ہستی کو اس کی شایان شان جگہ پر ایڈجسٹ نہ کیا جائے اور میرے ساتھ ایسا ایک دفعہ نہیں بیسیوں بارہوا ،اس دن تو خودکشی کرنے کو جی چاہا جب ایک ہوٹل کے کم ظرف جنرل منیجر نے مجھے ویٹر کی جاب آفر کی اور ایک موٹی توند والے سیٹھ نے اگرچہ مجھے بہت عزت دی بیٹھنے کو کہا ایک لڑکے سے کہا کہ ان کے لئے ایک ٹھنڈا گلاس پانی سامنے کے نلکے سے لیکر آؤ مگر جو آفر کی وہ صبح صبح آکر دکان کھولنے اور جھاڑ پونچھ کرنے کی تھی ۔یار میں زندگی سے تنگ آ گیا ہوں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ایسے سلوک کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
ہم دونوں اپنے حق سے محروم رہنے والے شخص ایک دوسرے سے اپنے دکھ بیان کرنے کے بعد اپنی راہ کو ہولئے۔میں نے منیر کو اپنی منزل نہیں بتائی تھی کہ کہیں وہ لالچ میں آکر میرا حق مارنے کی کوشش نہ کرے ۔میں نے گزشتہ روز اخبار میں ایک بیوہ کا اشتہار دیکھا تھا جس کے کئی پلازے اور کروڑوں روپوں کی دوسری جائیدادیں تھیں۔اسے ایک ہینڈسم شوہر کی تلاش تھی جو اسے سچی محبت دے سکے میں اس ویکنسی کے لئے موزوں ترین شخص تھا کیونکہ ماضی میں کئی ایک کو سچی محبت دے چکا تھا۔ میں اشتہار میں دیئے ہوئے ایڈریس پر پہنچا یہ شادی بیاہ کرانے والا ادارہ تھا میرا ماتھا وہیں ٹھنکا مگر پھر بھی میں نے منیجر سے بات کی کہ آپ میری بات چلائیں ان شااللہ ساری عمر میں انہیں انتہائی خوش رکھوں گا الحمدللہ منیجر بہت خوش اخلاق اور نائس آدمی تھا بولا آپ کو دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ محترمہ جس رشتے کی تلاش میں ہیں وہ انہیں مل گیا ہے ۔ آپ یہ فارم فل کریں اور اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ فیس ادا کر دیں اللہ نے چاہا تو آپ کا کام ہو جائے گا۔میں آپ کو فل سپورٹ کروں گا!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker