ایاز امیرکالملکھاری

ایازامیرکاکالم:ہندوستان سے نہ دوستی نہ دشمنی

پاکستان اور ہندوستان ہمسائیگی کے تقاضے ہی پورے کر لیں توبڑی بات ہے۔ دونوں ممالک کے آپس کے تعلقات عقل سے یکسر عاری ہیں۔ قوموں کے درمیان مسائل ہوتے ہیں، جنگوں کی تاریخ ہوتی ہے، لیکن بیشتر ایسے روٹھ کے بیٹھ نہیں جاتے جیساکہ ہمارا معمول بن چکا ہے۔ امریکہ اور روس کے مابین کیا کم مسائل ہیں؟ لیکن مسئلوں کے ہوتے ہوئے بھی کسی نہ کسی سطح پہ میل جول رہتا ہے۔ امریکہ اور چین میں کشیدگی ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان مسائل ہیں‘ لیکن باہمی تجارت بھی چلتی ہے اور لوگوں کا آنا جانا بھی رہتا ہے۔ لیکن ہمارے انداز نرالے ہیں کوئی بات چیت نہیں۔ میل جول نہیں۔ آنا جانا مشکل۔ تجارت بہت کم ۔ لیکن فضول بیانات کی بھرمار۔
ہم دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ایک دوسرے کو ایک بار کیا کئی مرتبہ تباہ کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی ایک نہ ختم ہونے والی اسلحے کی دوڑ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف سے دفاعی ماہرین کا کچھ نہ پوچھئے۔ وہ ایک اور دنیا میں رہتے ہیں اور ان سے گفتگو کی جائے تو تاثر یہی ملتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکتے۔ اتنا لمبا بارڈر ہے ہمارا لیکن ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر بحیرہ عرب کے پانیوں تک دو تین ہی ایسی جگہیں ہیں جہاں پہ بارڈر عبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو واہگہ اٹاری کا کراسنگ پوائنٹ ہے اور دوسرا کشمیر میں مظفرآباد سری نگر آنے جانے کا راستہ۔ ویزہ لینا ویسے ہی بہت مشکل ہو گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا تو آنا جانا رہتا ہے لیکن عوام کی سطح پہ ایک دوسرے کے بارے میں مکمل نا آشنائی ہے۔ تاریخ ایک، بہت حد تک کلچر مشترک ہے، زبانیں ایک دوسرے کی ہم سمجھ اور بول سکتے ہیں لیکن دشمنی کی دیواریں ہیں جن کی اونچائی پہاڑوں سے زیادہ ہے۔
کون کہہ رہا ہے کہ ہم بغل گیر ہو جائیں یا مسائل اگر ہیں تو انہیں بھول جائیں؟ لیکن مسائل کے ہوتے ہوئے بھی ایک سطح تک باہمی تعلق قائم رہ سکتا ہے۔ رقابت کے باوجود چین اور ہندوستان کی باہمی تجارت سو بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ اور چین میں طاقت کا مقابلہ چل رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں۔ چین تائیوان کی آزادی کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کی طے شدہ پالیسی ہے کہ جس دن تائیوان نے اعلانِ آزادی کیا جنگ چھڑ جائے گی‘ لیکن اِن سب چیزوں کے باوجود چین اور تائیوان میں تجارت جاری رہتی ہے اور تائیوان کے سرمایہ داروں نے چین میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے حالات باقی دنیا سے بالکل الگ ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو دشمن کہتے ہیں اور تعلقات نہ ہونے پہ فخر کرتے ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ ضرور ہے لیکن اس حوالے سے یہ یاد رہے کہ اس مسئلے نے جلد حل نہیں ہونا۔ ہمیں کشمیر پہ بات چیت کی کوشش ضرور کرنی چاہئے لیکن ہندوستان نے ہماری مرضی کا فیصلہ نہیں کرنا۔ کشمیر کو حاصل کرنے کیلئے ہم نے جنگ کا راستہ بھی اپنایا۔ اُس میں ہم ناکام رہے اور جب میدان جنگ میں ناکامی مقدر بنے تو یہ پرلے درجے کی احمقانہ سوچ ہے کہ وہ جو ہم جنگ سے حاصل نہ کر سکے وہ مذاکرات کی میز پہ حاصل کر لیں گے‘ لہٰذا ہمارے سامنے درپیش چیلنج یہ ہے کہ اگر ہندوستان کے ساتھ ہمسائیگی کے تعلقات کو ہم سود مند سمجھتے ہیں تو اِس ضمن میں پیش رفت مسئلہ کشمیر کے باوجود کرنا پڑے گی۔ یعنی مسئلہ کشمیر سلگتا رہے گا جب ہندوستان سے تعلقات کی بہتری کی امید باندھی ہو گی۔ اس کے برعکس اگر ہمارا نقطہ نظر یہ رہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے کے بغیر ہندوستان سے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے تو پھر یہ ایک لمبا سفر ہی رہے گا۔
کچھ تو ہم دنیا کی تاریخ پڑھ لیں۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمنی دو حصوں میں بٹ گیا تھا، مغربی اور مشرقی جرمنی۔ مغربی جرمنی امریکہ کے قریب تھا اور مشرقی جرمنی میں روسی افواج تعینات تھیں۔ یعنی ایسا لگتا تھا کہ یہ تقسیم پتھر پہ ایک لکیر ہے اور کبھی نہ مٹ سکے گی‘ لیکن پھر بھی وِلی برانٹ (Willy Brandt) جب جرمنی کے چانسلر ہوئے تو انہوں نے مشرقی جرمنی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کوششیں شروع کیں کہ جرمنی کے دونوں حصوں کے آپس کے تعلقات میں تھوڑی گرم جوشی پیدا ہو۔ وِلی برانٹ بہت بڑے آدمی تھے اور سچ تو یہ ہے کہ اُن کی دور اندیشی اور وسعتِ نظر کسی چھوٹے آدمی کا کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ تب کس کو معلوم تھا کہ سوویت یونین پہ زوال آئے گا اور مشرقی جرمنی اپنے فیصلے کر سکے گا؟ لیکن جب تاریخ نے ایک کروٹ لی تو ایسا ہی ہوا اور یورپ میں حالات ایسے پیدا ہوئے کہ مشرقی جرمنی اپنا علیحدہ وجود تَرک کر کے مغربی جرمنی میں مدغم ہو گیا۔ آج کے برصغیر کا المیہ ہے کہ دور کی سوچ رکھنے والے بڑے لوگ یہاں تقریباً ناپید ہیں۔ جب باہمی نفرتوں کا اظہار دونوں اطراف سے ہوتا ہے تو دونوں اطراف کے لوگ بہت چھوٹے لگتے ہیں۔
ہندوستان کے گناہوں کی فہرست بہت طویل ہو گی لیکن ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔ یہ بات مکمل درست نہیں ہے کہ کشمیر ہی ہمارے درمیان ایک مسئلہ ہے جس کے حل ہوتے ہی ہم شیر و شکر ہو جائیں گے۔ پاکستان موومنٹ کے دوران تو کشمیر کا کبھی ذکر ہی نہ ہوتا تھا۔ حیدر آباد دکن اور جوناگڑھ مناوادر کا مستقبل بانیان پاکستان کے ذہنوں پہ سوار تھا لیکن کشمیر کا ذکر آپ کو کہیں نہ ملے گا۔ کشمیرکی وجہ سے ہندوستان تقسیم نہیں ہوا۔ بانیانِ پاکستان کی یہ سوچ تھی کہ مسلمان ہندوؤں کے تسلط کے نیچے نہیں رہ سکتے اور اِسی لئے ایک علیحدہ مملکت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ کشمیر کا تنازعہ اگرچہ 1947ء میں کھڑا ہو گیا تھا لیکن ہندوستان دشمنی کی بنیاد کشمیر نہ تھا۔ دشمنی کی بنیاد تو یہ تھی کہ ہندوستانی ہمارے الگ وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتے اور موقع اُن کے ہاتھ آیا تو وہ ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کریں گے۔ سندھیوں، بلوچوں اور بنگالیوں کی یہ سوچ نہ تھی۔ ہندوستان اُن کے لئے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہ تھا لیکن ہم جو مغربی پاکستان کے شمال میں رہنے والے تھے ہمارے اکابرین کے تصورات نے ہندوستان دشمنی کی بنیاد ڈالی۔ اور چونکہ نئی ریاست میں بھاری ہاتھ ہمارے اکابرین کا تھا تو اُنہی کی سوچ ریاست کی سوچ بن گئی۔ مسئلہ کشمیر نے اس سوچ کو تقویت دی لیکن سوچ کی بنیاد کشمیر نہ تھا۔
البتہ عداوت کے باوجود شروع کے سالوں میں پاکستان اور ہندوستان میں میل جول کا ایک ماحول چلتا رہا۔ آنا جانا اتنا دشوار نہ تھا۔ روایتی بیانات ضرور دیئے جاتے تھے لیکن دشمنی کی آگ اتنی تیز نہ تھی۔ کئی موقعوں پہ ایسا ہوا کہ پاکستانی ہائی کمیشن دہلی میں کوئی تقریب ہوئی اور ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو وہاں آگئے۔ اور تو اور 1955ء میں ہندوستان کی ریپبلک ڈے کی پریڈ‘ جو 26 جنوری کو ہوتی ہے‘ کے مہمان خصوصی پاکستان کے تب کے گورنر جنرل غلام محمد تھے۔ آج کے ماحول میں کتنا مشکل لگتا ہے اس بات پہ یقین کرنا لیکن ایسا ہوا تھا۔ مسئلہ کشمیر پہ بات چیت ہوتی تھی۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ سورن سنگھ اور پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے مابین مذاکرات کے کئی دور چلے۔
ستیاناس1965ء کی جنگ نے کیا۔ بغیر سوچے یہ جنگ شروع کی گئی اور اس کے نتیجے میں دشمنی کے شعلے ایسے بھڑکے کہ آج تک تھمنے کا نام نہیں لیتے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker