ایاز امیرکالملکھاری

ایازامیرکا کالم:دل بھی کیسا چھوٹا پایا

ذہنوں کا محدود ہونا الگ بات ہے۔ خیالات ہی ہم نے کچھ ایسے اپنائے کہ ذہنوں کا تنگ ہونا فطری نتیجہ تھا لیکن ذہنوں کے ساتھ ساتھ دل بھی ہمارا چھوٹا نکلا۔ کسی اور کو برداشت ہم نہ کر سکے۔ بنگالیوں کے ساتھ حکمران طبقات کا رویہ کیسا تھا؟ ہمارے تگڑے لوگ اُن کو برابر کا سمجھتے ہی نہیں تھے۔ انتخابات میں اُن کی اکثریت بھی ہوئی تو اقتدار اُن کے ہاتھ کس نے سونپنا تھا۔ اس عمل کیلئے دل اِتنے کشادہ تھے ہی نہیں۔
اقلیتوں کو ہم برداشت نہ کر سکے۔ تمام بڑے شہروں میں بڑے نازوانداز میں رہنے والی عیسائی کمیونٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ یہ ایسے عیسائی تھے جنہیں گزرے ادوار میں اینگلو انڈین کہا جاتا تھا۔ رنگ اِن کا ہمارے جیسے تھا لیکن کلچر اِن کا کچھ انگریزوں والا تھا۔ جہاں جہاں اِن کی آبادیاں تھیں اُس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بھی ایک نکھار پیدا ہوتا تھا۔ لیکن ماحول ہی ہمارا ایسا بنتا گیا جو اُن لوگوں کیلئے اتنا موافق نہ رہا۔ دھیرے دھیرے وہ یہاں سے کوچ کرتے گئے اور مختلف مغربی ممالک میں آباد ہوئے۔ اِس کی وجہ سے کلچرل لحاظ سے ہم مزید پسماندہ ہو گئے۔
جو کرسچیئن رہ گئے وہ سارے کے سارے نہیں لیکن زیادہ تر مزدور طبقات کے لوگ تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب وہ انگریزی بولنے والے چلے گئے تو جو باقی ماندہ تھے اُن کا خاص خیال رکھا جاتا لیکن کئی حوالوں سے اِن لوگوں کے ساتھ اچھا نہ ہوا۔ بڑی وجہ تو خاص قوانین ہیں جن کی زد میں اِس کمیونٹی کے لوگ آتے رہے ہیں۔ آپ فہرست بنا لیجئے۔ خاص قوانین کی لپیٹ میں جو کرسچیئن کمیونٹی کے لوگ آئے ہیں وہ معاشرے کے اُس حصے سے تعلق رکھتے ہیں جسے صحیح معنوں میں پسا ہوا اور لاچار ہم کہہ سکتے ہیں۔ ہوتا ایسے رہا ہے کہ کسی پہ گستاخی کا الزام لگا تو ایک عجیب جذباتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لاؤڈ سپیکروں پہ اعلانات ہو جاتے ہیں۔ چھوٹا سا مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس دباؤ میں آ جاتی ہے اور پھر بغیر سوچے سمجھے خاص قوانین کے تحت پرچہ درج ہو جاتا ہے اور جو بدبخت اُس کی زد میں آ گیا وہ سالہا سال ایڑیاں کسی جیل میں رگڑتا رہتا ہے۔ ایسے قوانین کے تحت کارروائی ہونی ہو تو سوچ بچار کے ساتھ ہونی چاہئے لیکن گستاخی کا الزام لگا نہیں اور لگتا یوں ہے کہ سوچ بچار کے عمل پہ تالے لگ گئے ہیں۔ ہمارے قانون دانوں کی بھی عجیب کیفیت ہے۔ الزام لگے اور پرچہ درج ہو تو اِن میں سے خاصی بڑی تعداد یہ لازم سمجھتی ہے کہ اُنہیں مکے لہرا کے نعرے مارنے چاہئیں تاکہ جو ماحول پیدا ہوتا ہے اُس میں اضافہ ہو جائے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انصاف دینے والے بھی اِس ماحول کے تناؤ میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
کسی معاشرے میں کشادہ دلی کا ثبوت تو یہ ہونا چاہئے کہ جو سوچ کی استطاعت رکھتے ہیں وہ پسے ہوئے لوگوں کی مدد کو آئیں لیکن جہاں اقلیتوں کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں مصلحت یہی سمجھی جاتی ہے کہ چپ رہیں اور آنکھیں بند کر لی جائیں۔ مکے لہرانے اور نعرے لگانے والوں کا ڈر اِتنا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کے گرد چپ کا تالا لگ جاتا ہے۔ عجیب قوم ہے ہماری۔ ایسے واقعات کی حالیہ تاریخ تو دیکھی جائے۔ کوئی غریب ایسے مقدمے میں پھنس نہیں گیا اور قوم کے پرجوش طبقات جذباتیت کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ کسی کو کوئی ملال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ مردان میں ایک نوجوان گستاخی کے الزام میں کسی پہ چاقو چلا دیتا ہے اور کمرۂ عدالت میں دیگر اضلاع سے کئی وکلا اُس نوجوان کو چومنے کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ کیفیت ہمارے نام نہاد پڑھے لکھوں کی ہے۔
افغانستان کے نام نہاد جہاد کی وجہ سے جن نام نہاد جہادی تنظیموں نے جنم لیا وہ ایک خاص مسلک کی دعوے دار تھیں‘ یعنی نام نہاد افغان جہاد اور اُس سے پیدا ہونے والے شاخسانے ایک ہی مسلکی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اِسی بنا پہ اُن کے دلوں میں دوسرے مسلکوں کیلئے اتنی برداشت نہ پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ بنی ہے کہ کچھ حلقے مخالفانہ کارروائیوںکا شکار رہے۔ مقصدِ پاکستان کچھ اور ہونا چاہئے تھا۔ جہاں اتنی بڑی آبادی مسلمانوں کی ہو وہاں اسلام کے نام پہ تو کوئی جھگڑا ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ معاشرے میں رواداری کی فضا قائم ہوتی۔ یہاں معاملہ ہی الٹ رہا ہے۔ مذہب کے نام پہ تفرقہ بازی، مسلکوں کی آپس میں رقابت، یہ رجحانات ہیں جنہوں نے یہاں فروغ پایا۔
اقلیت کی اصطلاح ہی غلط ہے۔ جو پاکستانی برطانیہ یا امریکہ میں ہیں انہیں اچھا لگے گا کہ انہیں اقلیت ہونے کا لقب دیا جائے؟ امریکہ یا برطانیہ کا جو شہری ہے اُس کا مذہب نہیں دیکھا جاتا۔ وہاں پاکستانیوں یا ہندوستانیوں کو اقلیت کہہ کر نہیں پکارا جاتا۔ ہمارے ہاں یہ عام اصطلاح ہے اور آئے روز سیاسی گفتگو میں ہم اِسے استعمال کرتے ہیں۔ تنازع تو پاکستان میں یہ ہونا چاہئے کہ ہمارا تعلیمی نظام اِتنا پست کیوں ہے۔ جھگڑا یہاں اِس بات پہ ہونا چاہئے کہ سائنس اور ریسرچ کے میدانوں میں ہم اِتنا پیچھے کیوں ہیں۔ لیکن یہاں جھگڑا بالکل فروعی معاملات پہ ہوتا ہے۔ ملک بھاڑ میں جائے کسی کو کوئی پروا نہیں۔ کشکول لئے ہم ساری دنیا میں پھریں‘ وہ سب ٹھیک ہے‘ لیکن بعض معاملات پہ مکے ضرور لہرانے ہیں۔ نوکریوں اور روزگار کیلئے کہاں جانا ہے؟ مغربی ممالک میں، لیکن موقع ملے تو فرطِ جذبات میں گالیاں کس کو دینی ہیں؟ اُنہی ممالک کو جہاں بسنے کیلئے بیشتر پاکستانی بیتاب رہتے ہیں۔ اور تو اور صاحبِ استطاعت لوگوں نے علاج بھی کرانا ہو تو وہیں جانا ہے۔ جائیدادیں وہاں خریدنی ہیں۔ بینک بیلنس وہاں رکھنے ہیں‘ لیکن ساتھ ہی قوم کو بے وقوف بنانے کا عمل جاری رکھنا ہے۔
کچھ اقلیتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ خاص قوانین کی زد میں جو غریب اور لاچار لوگ آئے ہوں اُن کا دھیان کرنا چاہئے۔ حال ہی میں فیصل آباد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں جن دو کرسچیئن نرسوں پہ گستاخی کے مقدمات بنے‘ اُن کا کچھ حال تو پوچھا جائے۔ لیکن ایسا کرنے کیلئے نرم اور کشادہ دل چاہئے۔ فیصل آباد دولت کا مرکز ہے‘ لیکن اُن نرسوں کا خیال کتنے لوگوں کے دلوں میں اُٹھا ہوگا؟ بہرحال اقلیتوں کے ساتھ کچھ اپنے حال پہ بھی رحم کر لیں تو اچھا ہے۔ کیسا معاشرہ ہم نے بنا ڈالا ہے؟ اور المیہ یہ ہے کہ جیسا معاشرہ بنا ہے وہ اِس دھرتی کے باسیوں کے مزاج کے مطابق نہیں۔ یہاں کے لوگ کھلے ڈُلے لوگ ہیں۔ تنگ نظر نہیں، تنگ دل نہیں۔ اس دھرتی کی شاعری اور لٹریچر دیکھ لیں۔ اُن کا پیغام کیا ہے؟ رواداری اور پیار کا۔ ہمارے میلے ٹھیلوں میں جائیں، کیسا ماحول وہاں کا ہوتا ہے؟ پیار محبت کا۔ لیکن نظریات کے نام پہ پتا نہیں کون کون سے خول ہمارے سروں پہ پہنا دیئے گئے۔ کن بحثوں میں ہمیں ڈال دیا گیا اور کن راہوں پہ ملک چل پڑا۔ یہ مسلسل تناؤ اور لڑائی کا سماں۔ یہ جہاد کی باتیں۔ ہمارا کیا تعلق تھا اُس نام نہاد افغان جہاد سے؟ ایران بھی افغانستان کا ہمسایہ ہے۔ اُس نے اپنی زمین کو جہاد کے نام پہ یرغمال نہیں ہونے دیا۔ ہم نے اُس نام نہاد جہاد کو گلے لگا لیا۔
اب تو سنبھل جائیں۔ ایک نارمل ریاست بننے کی کوشش کریں۔ لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ اقلیتوں کی اصطلاح ختم کریں اور تمام پاکستانیوں کو پاکستانی سمجھیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker