ایاز امیرکالملکھاری

ایاز امیرکا کالم:حالاتِ حاضرہ سے بغاوت

کہاں وہ دن جب ہرصبح کم از کم ایک گھنٹہ اخبار بینی پہ لگ جاتا تھااور کہاں اب کی صورتحال کہ روزمرہ کی خبروں سے چِڑ آجاتی ہے۔ شاید ہمارا وقت گزرچکا ہے اور یہ آج کل کا وقت طبیعت پہ بوجھل سا محسوس ہوتا ہے۔جو وجہ بھی ہے‘ دل اب یہ چاہتا ہے کہ جسے حالاتِ حاضرہ کہتے ہیں اُن سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے۔ مسئلہ البتہ یہ ہے کہ کسی اور کام کیلئے فِٹ نہیں۔ دکان یاآڑھت چلا نہیں سکتے‘ کاروبار کی سمجھ نہیں‘ سیاست میں جو جھک مارنی تھی وہ بھی ہو چکی۔رہ سہہ کے صحافت اور تجزیہ نگاری ہی رہ جاتی ہے۔ اللہ کا اتنا کرم ضرور ہے کہ نکمے پن میں بھی مزدوری چل رہی ہے۔ سیاست‘ وکالت اور صحافت میں ریٹائرمنٹ نام کی چیز نہیں ہوتی۔پاؤں اور ٹانگیں ساتھ نہ بھی دیں‘ دال دلیہ کا کام چلتا رہتا ہے۔
اب جو جی چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ کچھ کھیتی باڑی کرتے رہیں اور تاریخ کا مطالعہ کریں۔ایک ماہ پہلے کچھ کتب لاہور سے لائے تھے وہ پڑھی جا رہی ہیں۔ ایک بہت ہی عمدہ کتاب سوویت یونین کے ٹوٹنے پر ہے‘ وہ پڑھ چکے۔ کل ہی چیئرمین ماؤزے تنگ کی ذاتی زندگی پہ ایک کتاب ختم کی۔ یہ اُن کے ذاتی معالج ڈاکٹر لی سوئی لی نے لکھی ہے اور نہایت ہی دلچسپ ہے۔ کچھ تو چیئرمین ماؤ کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلوم تھا لیکن اس کتاب میں خاصی تفصیل ہے۔ اور اب ایک چنگیز خان کی زندگی پہ کتاب شروع کی ہے۔اخبارات پر مجبوراً نظر ڈالنی پڑتی ہے کیونکہ مزدوری کا تقاضا ہے ورنہ یہ مجبوری نہ ہو تو بس جن کتب کا ذکر کیا ہے ایسی کتابیں ہی پڑھتے رہیں۔بہت سے واقعات ہیں جن کے بارے میں خاطر خواہ مطالعہ نہیں ہوا۔ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کا ویسے تو معلوم ہے لیکن دل میں صدمہ موجود ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں کوئی اچھی کتاب نہیں پڑھی۔چنگیز خان والی کتاب ختم ہوتی ہے تو یوگوسلاویہ کی طرف جاتے ہیں۔گِبن کی لازوال کتاب سلطنتِ روم کا زوال کا مطالعہ ہوا ہے لیکن پہلے صفحے سے آخری تک پڑھنا تھوڑا باقی ہے۔ وہ بھی کرتے ہیں۔ ماڈرن جرمنی کے معمار بسمارک کے بارے میں خاصا پڑھا ہے لیکن اُن کے بارے میں مزید کتابوں کی تلاش ہے۔بہت ہی غضب کا انسان تھا اور اُس پہ بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہی تو رونا ہے‘ پڑھنے کو اتنا کچھ ہے لیکن زندگی محدود ہوتی ہے۔ وہ کیا انگریزی کا محاورہ ہے: Art is long but life is short۔
چیئرمین ماؤ کی ذاتی زندگی کے دیگر پہلو تو رہنے دیتے ہیں لیکن ایک نمایاں بات یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی کتاب اُن کے ہاتھ میں ہمیشہ رہتی تھی۔ بستر اُن کا الگ تھلگ ہوتا تھا‘ خاصا بڑے پیمانے کا‘ ایک طرف لیٹتے تھے اور دوسری طرف کتابوں کا انبار ہوتا تھا۔ ذاتی شغل اُن کے دو ہی تھے‘ خوشگوار کمپنی اورکتابیں پڑھنا۔ خوشگوار کمپنی کا کیا معنی‘ سمجھدار لوگ سمجھ گئے ہوں گے۔ہماری ایک ہونہار دوست حافظ آباد کی تھیں جنہوں نے میدانِ ثقافت میں خاصا کام کیا۔ اُن سے کبھی کوئی سوال پوچھتے تو عموماً اُن کا جواب ہوتا ”سمجھیا کرو نا‘‘۔خوشگوار کمپنی بھی سمجھنے والی بات ہے۔
حالات ِ حاضرہ سے اکتاہٹ کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ہم گو ایٹمی قوت ہیں لیکن مقروض ہیں۔مقروض بھی از راہِ احتیاط استعمال کیا ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ معاشی طور پہ ہم دیوالیہ پن کے قریب ہیں۔ ایٹمی قوتوں میں یہ ہمارا ہی اعزاز ہے اور شاید شمالی کوریا کاکہ ایک ہاتھ میں بم اور دوسرے میں کشکول۔ کشکول کا رونا یہ ہے کہ کمبخت بھرتا ہی نہیں۔ہاتھ اِدھراُدھر پھیلانے میں ہم خاصے ماہر ہو چکے ہیں لیکن دینے والے ضرورت سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ قرض کا پہاڑ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ادائیگیاں مشکل ہو گئی ہیں۔ ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ مزید قرض لیے جائیں تاکہ پرانے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیاں ہو سکیں۔لیکن یہ سلسلہ کہاں تک چل سکتا ہے؟سٹیٹ بینک تو آئی ایم ایف کو تقریباً دے چکے ہیں۔ ہمارا سٹیٹ بینک پہ اختیار اب واجبی سا رہ گیا ہے۔ کوئی بات نہیں‘ مجبوری میں بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور ہماری مجبوریاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن کوئی احسان ہم پہ کرے اور جہاں سٹیٹ بینک کو تقریباً اوروں کے نام لکھ دیا ہے‘ تین محکمے ہیں جو ہم سے کوئی مزید لے لے۔ پی آئی اے‘ سٹیل مل اور ریلوے کا نظام۔ ظاہر ہے خاطرخواہ قیمت لگنی چاہئے لیکن کوئی آئے جو یہ تینوں برتن ہم سے خرید کے لے جائے‘ ہم پر بھلا ہوگا۔
بہرحال ثقیل باتوں میں معیشت پہ گفتگو سب سے ثقیل ہے۔ اتنا پتا ہے کہ ہماری عمر میں معیشت مزید ابتری کی طرف جا سکتی ہے‘اس میں بہتری کے امکان خاصے محدود ہیں۔ایسے میں دیوار سے سرپیٹنے کا کیا فائدہ ؟ حیرانی البتہ اس بات پہ ہے کہ اگر معیشت ٹھیک نہیں ہوتی کم از کم وہ تو کیجئے جو آپ کے بس میں ہے۔حضور! معاشرے میں تھوڑی آسانیاں پیدا کریں۔ قومی اکڑکو تھوڑا کم کریں۔ قوم کی اخلاقی اصلاح پہ اتنا زور نہ دیں۔ جتنا اخلاقی معیار قوم کا ہے حالات کو دیکھا جائے تو کافی ہے۔ ہوائی باتیں چھوڑیں‘ کچھ پریکٹیکل کام کریں۔ سیاحت کو فروغ یہاں نہیں مل سکتا۔ اس خام خیالی کو چھوڑ دیں۔ہمارے ہاں وہ ماحول ہی نہیں کہ اہلِ دنیا اتنے بے وقوف ہو جائیں کہ ہماری طرف رخ کریں۔ لیکن ہم جو اس سرزمین پہ بسنے والے ہیں ہمارے لیے تو کچھ آسانیاں پیدا ہوں۔ فضول کے قوانین جن کا کوئی مقصد نہیں سوائے پریشان زندگیوں کو مزید تنگ کرنااُنہیں ختم ہونا چاہئے۔ رونا رونے کے لیے تو بہت کچھ ہے‘ فہرست بنائیں ختم نہ ہو۔ لیکن لوگوں کی زندگیوں میں ہنسی مذاق کی گنجائش تو پیدا کی جائے۔ اس موضوع پہ مزید کیا کہا جائے۔ وہی حافظ آباد والی بات ہے ”سمجھیا کرو نا‘‘۔
جہاد اور اخلاقیات کے نام پہ تباہی پھیلانے والے یہاں بہت کچھ کرچکے ہیں۔ جب اچھے بھلے ملک کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے تو مزید تباہی کیا پھیل سکتی ہے؟ اب ان عناصر سے دست بستہ التماس ہے کہ قوم کے حال پہ رحم کریں‘ جہاد کااتنا شوق ہے تو افغانستان قریب ہے‘ وہاں چلے جائیں۔ہم نے تو جتنا جہاد کرنا تھا کر چکے۔ افغانستان تابع ہو گیا‘ کشمیر بھی فتح ہو گیا۔ ہمارے حال پہ ہمیں اب رہنے دیجئے۔حکمرانی کا البتہ کیا کیا جائے ؟تسبیح پھیرنے سے گھٹنوں میں زورنہیں آتا اور یہاں جو حکمرانی ہے اُس کے گھٹنوں میں پانی تو ہو سکتا ہے کسی قسم کا زور نہیں۔کہیں سے تھوڑا سا دبکا آتا ہے گھٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔حکمرانی پھر منتوں سماجتوں پر آجاتی ہے۔ جب یہ صورتِ حال ہے تو آسانیوں کا تقاضا ہم جیسے مستند گناہگار کس سے کریں؟ غصب کی ہوئی آسانیوں کو بحال کرنے کے لیے بھی ہمت چاہئے۔ہمت نام کی چیز پاکستانی حکمرانی سے کب کی جا چکی۔ ایسے میں بے زاری پیدا نہ ہو تو کیا ہو؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker