اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

وبائی موسم کے پُرسے۔۔ہے خبر گرم/اظہر سلیم مجوکہ

کبھی دسمبر وچھوڑے کا موسم ہوتا تھا اور سال کے اختتام پر مرتب ہونے والے گوشوارے میں کئی خسارے شامل ہوتے تھے لیکن اس بار تو سال 2020ءنے بہت سوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ملک میں کورونا کی وبا نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے اور اب بھی یہ عفریت ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ خلقِ خدا اس کے جانے کیلئے شب و روز دعائیں مانگ رہی ہے لیکن یہ وبا ہے کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہی بلکہ صورت حال ”ہر روز نیا دکھ ہر روز زخم تازہ “والی بنتی جا رہی ہے۔
پہلے پہل ہماری پاکستانی قوم نے کورونا کو مذاق سمجھتے ہوئے اس سے خوب اٹکھیلیاں کیں اور اس کا خوب مذاق اڑایا لیکن جب کورونا نے لوگوں سے مذاق کرنا شروع کیا تو پھر لوگوں نے اس کی اصلیت تسلیم کرنا شروع کی۔ اب ہر شخص یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ ان کی فیملی اور دوستوں کے حلقے میں کوئی نہ کوئی اس موذی وبا کا شکار ہے۔ ویسے بھی سوشل میڈیا پر کورونا پوری طرح چھایا نظر آتا ہے جب بھی فیس بک کھلتی ہے کسی نہ کسی کے راہی ملک عدم ہونے کی افسوسناک اطلاع ملتی ہے اب تو تعزیتی الفاظ لکھتے لکھتے ہاتھ بھی دکھنے لگے ہیں لیکن یہ دکھ کے لمحات طویل ہی ہوتے جا رہے ہیں۔
قومی سطح پر مفتی محمد نعیم، علامہ طالب جوہری، ڈاکٹر مغیث الدین ،منور حسن اور طارق عزیز کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں ہے ابھی تو جون کے مہینے میں جدائی کے صدمے سے دوچار کرنے والوں کا پرسہ باقی ہے۔ اپنے شہر ملتان میں کتنی ہی زندہ دل شخصیات شہر کو اداس کر گئی ہیں ماحول کو سوگوار کر گئی ہیں۔ استاد محترم اور سرائیکی وسیب کے دانشور پروفیسر شوکت مغل جو وسیب کا مان تھے، شیخ طاہر رشید جو اپنے والد شیخ رشید احمد کی طرف وضعدار شخصیت کے مالک تھے ان سے بہت پہلے مسجد نبوی کے دروازے کے پاس ہونے والی ملاقات کی یادیں اب تک ذہن پر نقش ہیں۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی پارٹی کو جنوبی پنجاب میں فعال رکھنے والے حکیم محمود خان بھی مرنجاں مرج شخصیت کے مالک تھے۔ پی پی کے جیالے اور مخلص رہنما صفدر عباس کھاکھی سے کالج کے زمانے کی سیاست سے تعلق رہا۔ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی بات کرنے والے ملک بشیر احمد بھی اسی جون میں جدا ہونے والوں میں شامل ہیں۔ عاطف خان مزاری ، سلیم شہزاد دیروی بھی سرائیکی وسیب کا مان تھے۔ ظہور دھریجہ نے وبائی موسم کے باوجود ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ریفرنس کا انعقاد کیا۔ سماجی فاصلے کی پابندی اور کورونا کے خوف نے دائمی جدا ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت سے بھی عزیز و اقارب اور دوست احباب کو روک رکھا ہے۔ اور یوں یہ وبا کے دن محبت اور خلوص کے جذبوں کا بھی قتل عام کر رہے ہیں اور لوگ اب تعزیت بھی آن لائن کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اندھیر نگری میں چشم بینا رکھنے والے اور بینائی رکھنے والوں سے زیادہ نابینا افراد کیلئے کام کرنے والے قائم خان کرمانی اور قاضی نوید ممتاز بھی انہی دنوں جان کی بازی ہار گئے۔ نیب کی ادبی بیٹھک میں قاضی نوید ممتاز نے بہت خوبصورت گفتگو کی اور اشعار بھی سنائے تھے۔ جنوبی پنجاب میں جماعت اسلامی کے اہم رہنما عزیز لطیف اور ڈاکٹر نوید صادق کے بہنوئی عبدالوحید اور محمود احمد اعوان کی موت پر بھی شہر افسردہ ہے۔ اب تو ہر لمحہ دل کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کس عزیز یا دوست کی دائمی جدائی کی خبر سننے کو ملے گی۔ خالہ زاد بھائی کاشف اعجاز اور کالج کے زمانے کے دوست خالد فرید (خالد ملتانی) بھی ان دنوں داغ مفارقت دے گئے ہیں وہ سرطان کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ ۔ شاعر دوست سہیل عابدی کی بھابھی اور دیرینہ دوست حسنین اصغر تبسم کی اہلیہ کی وفات کا پرسہ بھی ابھی باقی ہے۔ جبکہ ہر دلعزیز قانون دان اور رکن پنجاب بار کونسل خانیوال جاوید ہاشمی میں جون میں وچھوڑے کا دکھ دینے والوں میں شامل ہیں۔ خدا کرے کہ ان راہی ملک عدم ہونے والوں کی رب کریم مغفرت کرے لواحقین کو صبر و جمیل عطا کرے اور اب اس وبائی موسم اور تعزیتی پُرسوں کی اذیت سے نجات ملے۔ (آمین)
ہماری بھی دعا ہے کہ ”اے خدا خیر کی خبروں کے اجالے رکھنا“ کہ اب کسی میں بھی مزید دکھ اور غم سہنے کی سکت نہیں ہے۔ اللہ کرے کہ ہر شہر کے مکین اس بلا اور وبا سے بچے رہیں جو اس مہلک وبا کا شکار ہیں وہ اس سے جلد صحت یاب ہوں اور زندگی کے چمن میں پھر سے ہنستے کھیلتے نظر آئیں۔ اللہ کریم سبھی بیماروں کو شفاءکاملہ عطا کرے اور اس وبا کے موسم سے سبھی کو نجات دے۔
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزرنے کی مجال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker