بنوں: بنوں میں سکیورٹی فورسز نےسی ٹی ڈی کمپاؤنڈ کے اندر موجود دہشتگردوں کو ہلاک کردیا اور کمپاؤنڈ واگزار کرالیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ کے اندر دہشتگردوں کو ہلاک کیے جانے کے بعد اس وقت سرچ آپریشن کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق بنوں میں اسکول بند ہیں اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے جب کہ علاقے میں موبائل فون سروس بھی مکمل طور پر بند ہے۔
قبل ازیں منگل کی صبح سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی جانب سے بنوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مرکز پر قبضے کے 3 روز بعد یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے کر تفتیش کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔
خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے زیر انتظام چلائے جانے والے حراستی مرکز میں33 عسکریت پسند لاک اَپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
آج ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرکز کے آس پاس سے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
ڈان ڈاٹ کام کی جانب سے بھی بنوں میں آپریشن جاری ہونے کی تصدیق کی۔
گزشتہ روز بھی بنوں میں صورتحال کشیدہ رہی، پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے بنوں کینٹ کو گھیرے میں لیے رکھا۔
یہ پیشرفت پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کی لہر کے دوران دیکھنے میں آئی، اتوار کے روز بنوں ڈویژن کے ضلع لکی مروت میں رات گئے ایک پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے میں چار پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہو گئے تھے۔
گزشتہ روز بھی پشاور میں انٹیلی جنس بیورو کے سب انسپکٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب کہ شمالی وزیرستان میں خودکش حملے میں ایک فوجی اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے، دوسری جانب بلوچستان میں گزشتہ روز خضدار میں یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 20 افراد زخمی ہوئے۔
فیس بک کمینٹ

