قیصر عباس صابرکالملکھاری

بار کونسلز ، تانگہ ایسوسی ایشن اور غیرت کا لاک ڈاؤن۔۔صدائے عدل/قیصر عباس صابر

پوری دنیا لاک ڈاؤن میں کیا گئی کہ کچھ اداروں کی غیرت بھی غیر اعلانیہ طور پر بے حسی کے تابوت میں مدفون سرد مہری کے بے آباد قبرستان میں جا سوئی۔وکلا جو “لارڈز کے پیشے “کے نام کا بھرم رکھتے رکھتے کھائی میں گرنے کے قریب ہیں اپنی بار کونسلوں کی بلا وجہ چپ پر حیران ہیں۔
وہ بار کونسلز جو حقوق کی علمبرداری کی قسمیں اٹھاتے نہیں تھکتیں اب ذاتی مفادات کے پنجرے سے باہر نہیں نکل رہیں۔پہلی بار وکلا پر وقت آن پڑا ہے تو لیڈرز پیٹھ دکھاتے نظر آئے،ان سے تو انجمن تاجران ،تانگہ ایسوسی ایشنز، گدا گران یونینز، تنظیم خاکروبان شہر ، ایوان صنعت و تجارت اور گور کنوں کی تنظیمیں بہتر ہیں جو اپنے ممبران کیلئے ریلیف لینے کے لئے کوشاں ہیں۔
چند نامور وکلا کو چھوڑ کر اکثریت کا حال اونٹ کے بچے کی مانند ہے جسے نہ ذبح کیا جا سکتا ہے اور نہ اس پر وزن لادا جا سکتا ہے۔نہ وہ بھیک مانگ سکتے ہیں اور نہ قطار میں کھڑے ہو کر راشن لے سکتے ہیں۔کالے کوٹ کے رکھوالے سرکاری امداد کے بارہ ہزار کے حصول سے بھی باہر ہیں۔جج صاحبان اپنی تنخواہوں کے ساتھ کرونا کا خوابیدہ عرصہ بادشاہوں کی طرح گزار رہے ہیں اور وکلا خالی جیب عدلیہ کی آزادی کے کھوکھلے نعرے کی گونج میں مست دھمال ڈالتے ہیں۔وکلا لیڈرز بھنگ پی کر اجلاس اجلاس کی شطرنج کی بے ترتیب چالیں بھی بھول چکے ہیں۔
جب ہر ادارہ اپنے ساتھیوں کے لئے مشکل وقت کا کچھ زاد سفر حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے تو ایسے وقت میں بار کونسلز دو دو ہزار فی کس کا زہریلا سپرے کرنے کی نوید سنا رہی ہیں۔ ہمہ وقت حکومتوں کی ترجمانی اور معاونت کرنے والی لیڈرشپ نہ جانے کیوں اپنے تہی دست ساتھیوں کو بے نوائی کے اجڑے دیار میں چھوڑ کرخود آئیندہ الیکشن کی تیاری میں مصروف ہیں۔اپنا ساتھی نہ بھی سمجھیں صرف ووٹر سمجھ کر ان کی چارہ گری کریں کہ یہی وہ ووٹرز ہوتے ہیں جو آپ کی عزت و منزلت کا سبب بنتے ہیں انہیں کی پاسداری کیلئے آپ کو پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز میں بھیجا جاتا ہے مگر آپ وہاں جاکر اپنی ذرا سی بلند بامی دیکھ کر ماضی قریب کی وہ چلہ کشی بھول جاتے ہیں جو اپنے جونئیرز کے ساتھ کاٹی ہوتی ہے۔
اپنے نوجوان ساتھیوں اور کلرکوں کو بھی بھول چکے ہو جن کے شب و روز آپ کی دستگیری کے سبب گزرتے تھے.اک مدت ہونے کو ہے کہ وہ اپنے بچوں سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور خود کو کوستے ہیں کہ کیوں بے حس شعبے کا انتخاب کیا؟
یاد رکھنا وبائیں بار بار نہیں آیا کرتیں اور یہ بھی یاد رکھنا آپ کی بے اعتنائی آپ کو ہمیشہ کیلئے گمنامی کے بہاؤ میں غرق کردے گی اور پھر سیاسی بانکپن ڈھونڈتے رہ جاؤ گے۔یہ بھی یاد رکھنا یہ غیور طبقہ کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے گا ان کے پیٹ خالی مگر وجود میں خودداری کی حرارت موجود رہے گی۔ انہیں عزت نفس کے تمام اسلوب نبھانے آتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے ان کی دہلیز پر ان کا حق پہنچا دیا جائے تو بہتر ہے۔
بار رہنما جو ہزاروں وکلا کا سودا مرکزی منڈی میں کروڑوں میں کر آتے ہیں اب کہاں روپوش ہیں سب سے بڑے اور مہلک کرونا وائرس تو وہ خود ہیں جو مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے سیلف آئی سولیشن میں جا چکے ہیں۔کیا آپ تب آؤ گے جب کفن کا اہتمام کرنا ہوگا؟
بارز کے صوبائی دفاتر میں جو فنڈز موجود ہیں کیا وہ صرف نمائشی ہیں؟ کیا حکومت کے پاس تعلیم یافتہ طبقے کیلئے کچھ نہیں بچا؟کیا اپنا حق لینے کیلئے پھر سے کفن اوڑھ کر سڑکوں کی خاک اڑانی ہوگی؟
اس سے پہلے کہ وقت کا پہیہ گھوم کر گردش افلاک تک جا پہنچے اپنے ضمیر پر پڑے بے حسی کے لاک ڈاؤن توڑ کر نوجوان وکلا کا بھرم بچانا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker