ادبسرائیکی وسیبلکھاری

جاوید ایاز خان کا مضمون : بیاض سونی پتی ۔۔ہم نے پھینکا پہلا پتھر آئینوں کے شہر میں (تیسرا حصہ )

( گزشتہ سے پیوستہ )
تقسیم پاک و ہند1947 ء نے انسانی زندگی میں ایک عجیب خلش اور بے چینی کو جنم دیا ۔بدلتے حالا ت اور ہجرت کے دردناک المیے اردو شاعری اورادب پر بھی اثر انداز ہو ئے ان دردناک واقعات وحالات اور المیوں نے جو بے چینی اور بے تابی پیدا کی اس کی کسک ہمارے اصناف ادب نے بھی محسوس کی ۔ ناصر کاظمی کی طرح بیا ض سونی پتی کی شاعری اس سے ناصرف متاثر ہوئی بلکہ اس دکھ کے احساس سے اور بھی نکھر کر سامنے آئی اور یہ اتفاق اپنی جگہ ہے کہ بیاض سونی پتی کی شاعری کا آغاز اور ہجرت کی واردات ایک ساتھ رونما ہوئی جس کا درد ان کی شاعری میں جگہ جگہ نظر آتا ہے ۔ہجرت کسی سر زمین کے چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ ہجرت نے صدیوں پرانے رشتوں کو توڑ کر نئی زندگی اور نئی صورتحال میں جینے کا شعور بھی دیا ۔ بیاض سونی پتی کو اپنے شہر سے بے حد محبت تھی اسلیے ان کے کلا م میں انفرادی غم کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت نمائیاں ہے ۔وہ اپنے شہر سے خاک وخون کے وحشت ناک سیلا ب سے گزرے تھے اس لیے دوستوں اور اپنی سرزمین سے بچھڑنے کا غم ان کے کلام میں سلگتا دکھائی دیتا ہے۔اور غم وغصہ کے ساتھ ساتھ انتقام اور بدلے کا جذبہ بھی نمائیاں نظر آتا ہے ۔جو مزاحمتی شاعری کا خاصا ہے ۔
ُڈالے بیٹھا ہے ڈیرےمہیب سناٹا
کبھی جو رونق محفل تھا اس کے مرقد پر
اپنی سانسوں کی صدا لوٹ کے آجاتی ہے
ایسا سناٹا بھرے شہر میں دیکھا میں نے
ہر دوراہے ہر گلی ہر موڑ پر جلتے رہے
ہم وفا کے شہر میں شام وسحر جلتے رہے
آگ جب بھڑکی تو اہل پر گئے پرواز کر
آشیانوں میں جو تھے بے بال وپر جلتے رہے
تم رہے آتش فشاں انسانیت کی آڑ میں
امن عالم کے لیے دنیا گھر جلتے رہے
حسرت ِبے چارگی کا اک نظارہ ہو گیا
باغباں دیکھا گیا برگ وثمر جلتے رہے
گرم سانسیں نرم رخساروں سے ٹکراتی رہیں
دیپ کچھ عشرت کدوں میں رات بھر جلتے رہے
آج جو حالات کی پھونکوں سے لرزاں ہیں بیاض
آندھیوں میں دیپ وہ ہر گام پر جلتے رہے
معاشرےاور نظام سے بغاوت مزاحمتی شاعری کا ایک خاصا ہے ان کے اشعار میں باغیانہ تیور پوری آب وتاب کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔
اب تو ہونگی بے تحاشا پتھروں کی بارشیں
ہم نے پھینکا پہلا پتھر آئینوں کے شہر میں
تیرہ شبی سے رنگ شفق مانگتے ہیں لوگ
مردوں سے زندگی کی رمق مانگتے ہیں لوگ
انسان کے لہو سے کشیدہ گیا ہو جو
پینے کے واسطے وہ عرق مانگتے ہیں لوگ
کیوں آپ کی جبیں پہ تفکر کے بل پڑے
دنیا میں اپنے جینے کا حق مانگتے ہیں لوگ
اپنے شہر اور وطن کی محبت ہر وقت ان کے دل میں موجزن رہی اور وطن کی یاد میں ان کی بے چینی کا اظہار انکے اشعار میں نظر آیا ۔
راحت جان ِزار سونی پت
میرے دل کا قرار سونی پت
گود میں تیری آنکھ کھولی ہے
کیوں نہ تجھ سے ہو پیار سونی پت
مجھ کو رہ رہ کے یاد آتے ہیں
تیرے لیل و نہار سونی پت
ہائے کیوں تجھ کو چھوڑنے کے بعد
بن گئے گل بھی خار سونی پت
ناز ہے کہ ترے سپوتوں میں
ہے مرا بھی شمار سونی پت
آرزو دل میں یہ مچلتی ہے
جاؤ ں پھر ایک بار سونی پت
بیاض سونی پتی کیونکہ ذاتی زندگی میں تنگدستی ۔نارسائی اور محرومیوں کا شکار رہے ۔ترک وطن کے بعد نئے ماحوال اور نئے لوگوں میں اجنبیت کا احساس ان کے لیے تنہائی اور اداسی کا سبب بن گیا ۔اسلیے درد وغم ۔اداسی و تنہائی ان کی شاعری میں ٹپک ٹپک پڑتی ہے ۔بیاض غزل کی روح سے شناسا ہیں اس لیے اپنی اندرونی کیفیات کو غزل اور شعر کا روپ دینے پر عبور رکھتے ہیں ۔انہوں نے اردو کے پرانے اور جدید شعراء کو ایک طالب علم کی طرح پڑھاتھا ۔اس لیے ان کے کلام پر جہاں پرانے شاعروں کی چھاپ دکھائی دیتی ہے وہاں جدید شعراء کی شاعری کا اثر بھی نظر آتا ہے ۔
ا ژدھا وقت کا منہ کھولے جو آتا ہے بیاضؔ
اس کے سر پر کوئی حالات کا پتھر رکھ دو
سوچ کی ہر تہہ میں موہوم اندیشے بیاض ؔ
خوف انجانا ہے گھر گھر آئینوں کے شہر میں
نہ جانے کیسے گزریں گے شب تنہائی کے لمحے
طبیعت آج تو گھبرا رہی ہے شام سے پہلے
گلستاں میں تبسم کی تمنا بھی نہیں کرتے یہ غنچے آشنا ہوتے اگر انجام سے پہلے
جہاں تک اسلوب کا تعلق ہے بیاض کی شاعری میں سادگی وسلاست ایک اہم جز و ہے ۔وہ سادہ سلیس اور روزمرہ گفتگو کے انداز میں شاعری کرتے ہیں ۔ان کی شاعری میں یہ رنگ میر تقی میرؔ کے مطا لعہ سے آیا محسوس ہوتا ہے۔میر کی طرح باتوں اور گفتگو کا سا انداز اختیار کرنا بیا ؔض کی شاعری کا کمال ہے ۔گفتگو پیچیدہ اور مشکل لفاظی کی متحمل نہیں ہوتی اسلیے گہری گہری کیفیات اور خاموش احساسات کے بیان کےلیے آسان آ سان الفاظ کا استعمال شاعری کی آبرو ہے ۔بیاض سونی پتی نے ہلکی پھلکی اور عام فہم زبان کو استعمال کرکے اپنے کالم کو ایک دل سوز نغمہ بنا دیا ہے۔اور اپنی غزل نظم اور صنف کو
کو ایک نئی منزل سے روشناس کرایا اور لفظ جذبے اور احساس کو شعر کی ایک خوبصورت راہ دکھائی ۔ اندھیرا ہے ایوان ِانسانیت میں
دلوں میں چراغ محبت جلالو
نینوں میں کاجل رہا ، جب تھے ساجن ساتھ
اب نینوں میں اشک ہیں ، سمے سمے کی بات
آتے ہیں پل پل مجھے ، کیوں سمجھانے لوگ یا پگلی میں ساجنا ، یا دیوانے لوگ
اپنے اپنے وقت پر ، ہر کوئی سو جا کس کارن میں نے لیا ، یہ جنگل یہ جوگ
کوئی بھی سمجھا نہیں ، میرے من کا روگ
جو گی تو نے آج پھر چھیڑا غم کا راگ
تیرے بھی من میں جلے میرے غم کی آگ
تشنہ کامی سی تشنہ کامی ہے زندگی خودہی ایک خامی ہے
وعدہ کرکے وفا نہیں کرتا ! یہ بیاض ایک اس میں خامی ہے
جن سے بو ُے خلوص آتی تھی ان پسینوں میں سانپ پلتے ہیں
تم بیاضؔ آج تک نہ جان سکے آستینوں میں سانپ پلتے ہیں
جو میں رک گیا داستاں کہتے کہتے تڑپ کر وہ بولے سناو سناو !
تم ہو جتنے پانی میں ہم جانتے ہیں بیاض ؔ اتنے بڑھ کر نہ باتیں بناو
( جاری ہے )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker