اسلام آباد : سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کے شیڈول کی منظوری دے دی ہے۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق وفاقی بجٹ 2025ـ 26 منگل 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا اس دوران قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بحث کے لیے وقت دیا جائے گا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مطابق وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون کو سمیٹی جائے گی جبکہ 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا۔اعلامیے کے مطابق 23 جون کو قومی اسمبلی میں 2025- 26 کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی، 24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز،گرانٹس،کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی جبکہ 27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے شیڈول سیشن میں کسی قسم کی تبدیلی سپیکر کے اجازت سے ممکن ہوگی۔
دریں اثناء اقتصادی سروے 25-2024 کل پیر کے روز یعنی نو جون کو پیش کیا جائے گا۔ پاکستان کا اقتصادی سروے برائے مالی سال 25-2024 ایک اہم پری بجٹ دستاویز ہے جو قومی معیشت کے بارے میں حکومت کے جائزے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔اکنامک سروے پیر 9 جون کی سہ پہر کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کی جانب ست اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اقتصادی جائزہ پیش کریں گے۔اقتصادی سروے سالانہ وفاقی بجٹ سے قبل جاری کیا جانے والی ایک اہم دستاویز ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کی سماجی و اقتصادی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔
اکنامک سروے زراعت، مینوفیکچرنگ، صنعت، خدمات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، کیپٹل مارکیٹ، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور مواصلات سمیت دیگر بڑے شعبوں میں رجحانات، کامیابیوں اور چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔مزید برآں سروے سماجی تحفظ کے پروگراموں، ماحولیاتی پائیداری اور بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالے گا۔ یہ دستاویز اہم اقتصادی اشاریوں جیسا کہ مہنگائی، تجارت اور ادائیگیوں کے توازن، قرضہ جات، آبادی میں اضافہ، روزگار کی سطح اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالہ سے تازہ ترین اعدادوشمار بھی پیش کرے گی۔
اقتصادی اشاریوں کے جامع اعدادوشمار کے تحت اقتصادی سروے کا مقصد نئے مالی سال کے آغاز میں عوامی بحث اور پالیسی کی منصوبہ بندی سے آگاہی فراہم کرنا بھی ہے۔اینول پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کے مطابق، جس کی سفارشات کی قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے توثیق کی تھی، مالی سال 25- 2024 کے لیے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

