اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

اظہر سلیم مجوکہ کا کالم : میں‌اک بجٹ سے جو بچ کے نکلا تو میں نے دیکھا

مشکل ترین حالات میں حکومت نے مشکل ترین بجٹ پیش کر کے عوام کو طفل تسلی بھی دے ڈالی ہے کہ غریب کا ہر صورت خیال رکھا جائے گا بجٹ میں پہلی بار سپر ٹیکس بھی متعارف کرا دیا گیا ہے اور حسب روایت ابھی تک کسی طبقے کی طرف سے بجٹ کو خوشگوار اور عوام دوست قرار نہیں دیا جا رہا آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا شکنجہ بھی صرف بیچاری عوام کی گردن میں فٹ آتا ہے اور ہمیشہ کی طرح سے بڑے بڑے مگرمچھ اس میں سے نکل جاتے ہیں۔
منصوبہ بندی کے امور کے ماہر احسن اقبال نے عوام کو چائے کم پینے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود عوام کے سڑکوں پر نہ نکلنے کا شکوہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک روٹی چار بھائیوں میں تقسیم کرنے کا سنہری مشورہ دیا ہے اور ایک بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک اور بجٹ پیش کر کے عوام کیلئے اس شعر کی تفسیر بھی پیش کر دی ہے کہ
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بیچاری عوام تو ایک عرصے سے پرزور نئے تماشے نئے سانحے دیکھتے ہوئے نئے زخموں سے دوچار ہو رہی ہے۔ بجٹ میں عوام کو ا تنے سبز باغ دکھائیں اور اس کی جس زاویے سے تشریح کریں بجٹ کا یہ سارا میلہ بیچارے غریب عوام کا کمبل چرانے کیلئے اور آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کو سود در سود وصولی کا لالچ ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنی راجدھانی کے قائم رکھنے کی فکر ہے ایسے میں عوام بیچاری تماشائی بنی کسی معجزے کی منظر ہے جواب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
ایک خبر کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ گدھوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد سنجیدہ طبقوں کیلئے یقینا باعث تشویش ہے۔ بیچارا گدھا نہ تو احتجاج کرتا ہے اور نہ ہی اپنے مالک کے رویے پر شکوہ کناں ہوتا ہے اس پر جتنا بوجھ لادا جائے وہ سر جھکائے اسے اٹھائے رکھتا ہے اور سوائے ڈھینچوں ڈھینچوں کے کوئی صدائے احتجاج بلند کرتا نظر نہیں آتا ان سارے حالات میں عوام کی طرف سے بھی کچھ ایسے ہی صوتی اثرات سنائی اور دکھائی دے رہے ہیں۔
منصوبہ بندی کے ماہر احسن اقبال کے مشورے پر عوام نے تو خیر کیا کان دھرنے تھے ہائر ایجوکیشن کمشن نے تمام جامعات کو چائے کی بجائے لسی اور دیگر مشروبات استعمال کرنے کا حکم نامہ ضرور جاری کر دیا ہے۔ حالانکہ انہیں جامعات کی تعلیمی اور انتظامی صورت حال کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنا چاہیں کاش ہمارے منصوبہ ساز ان کاغذی منصوبوں کی بجائے مراعات یافتہ طبقوں کے اللّے تللّوں پر پابندی لگاتے ان کی مراعات واپس لیتے پروٹوکول کی لعنت کو ختم کرنے بے جا اسراف کا رونا روتے ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کیلئے کوئی م¶ثر قانون سازی ہوتی تو شاید اس غریب ملک کی فاقہ مستی کا خاتمہ ہو سکتا۔ اپنے دور اقتدار میں آنے سے قبل احسن اقبال نے ایک مرتبہ راقم سے پون گھنٹہ ٹیلی فونک گفتگومیں ملکی مسائل پر کچھ ایسی سیر حاصل اور مدلل گفتگو کی تھی کہ میں اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ احسن اقبال جیسے لوگ اقتدارمیں آکر ہمارے ملک کی کایا پلٹ دیں گے لیکن شومئی قسمت اقتدار میں آ کر بھی ہمارے یہ منصوبہ ساز کچھ بھی نہیں کر سکتے اور ایسے مشوروں پر اکتفا کرتے ہیں جو ملک کی نیک نامی کی بجائے جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں اب تو اپنے خطاب عالیہ میں انہوں نے کرپشن کے حوالے سے بھی متنازعہ بیان دے دیا ہے حالیہ ضمنی اور بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کے واقعات الیکشن کمشن کی کارکردگی کے لئے بھی سوالیہ نشان ہیں آ نے والے انتخابات میں صاف اور شفاف انتخابات ہی ملکی حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں ہمارے وزیراعظم بھی شعر و شاعری کے دلدادہ ہیں اکثر حبیب جالب اور فراز کے شعروں کا حوالہ بھی دیتے ہیں اب بھی انہوں نے ان مشکلات کے باوجود جلد وقت اچھا آنے کی نوید بھی دی ہے غالباً ان کے پیش نظر ناصر کاظمی کا یہی شعر ہو گا کہ
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
کاش اس کم وقت اور مختصر زندگی میں ہمارے حکمران عوام کیلئے طویل مدتی منصوبوں کی بجائے فوری ریلیف کا کوئی انتظام و اہتمام کریں تو بات بن سکتی ہے کیونکہ
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
خاک ہو جائیں ہم تم کو خبر ہونے تک

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker