Browsing: عالمی خبریں

اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم وہ ’محفوظ‘ ہیں۔
یوسف پزشکیان کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ انھیں بھی ایسی ’اطلاعات ملی ہیں‘ کہ نئے رہبرِ اعلیٰ زخمی ہیں۔
’میں نے متعدد دوستوں سے پوچھا جن کے رابطے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ: ’خدا کے فضل سے، وہ محفوظ ہیں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی نے خبر دی تھی کہ نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے صحافی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے امریکی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات درست ہیں؟
جس پر امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں یا نہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ مجتبی خامنہ ای عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور صدر ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں۔

انھیں منتخب کرنے والے 88 رکنی علما کے ادارے کے لیے یہ دراصل بقا کی لڑائی ہے۔
وہ اپنے والد تک رسائی دلانے کے لیے جانے جاتے تھے اس لیے وہ لازماً نظام کے اندر ہونے والے بہت سے معاملات سے بخوبی واقف ہوں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای بنیادی طور پر دفتر میں موجود شخصیت تھے۔ چاہے وہ پہلے اُس کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے مگر اب وہی میز کے پیچھے موجود ہیں۔

تہران صوبے کے مغرب میں واقع کاراج سے 30 سال کے ایک شخص نے بتایا: ’یہ ایک سرخ روشنی سے شروع ہوا جس نے ہر چیز کو روشن کر دیا۔ اس کے بعد ایک دھماکے کی لہر آئی جس نے دروازے ہلا کر رکھ دیے۔ پھر آسمان دوبارہ روشن ہوا اور ایک بہت بڑا سرخ رنگ کا بادل نمودار ہوا۔‘
ایک 20 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ پورا شہر دھوئیں میں چھپ گیا تھا۔ ’آپ جلنے کی بو محسوس کر سکتے ہیں۔‘