Browsing: ڈاکٹر علی شاذف

ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔

ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔