مارچ موسم بہار کا مہینہ ہے۔ اِس میں موسم قدرے خوشگوار ہوجاتا ہے اور ہر طرف رنگ برنگے دیدہ ز یب پھول کھل جاتے ہیں۔ لوگ جشنِ بہاراں میں شرکت کرتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔ اِس مرتبہ بہار کے ساتھ ساتھ عید الفطر اور خوشی کا عالمی دن (20 مارچ ) بھی منایا جا رہا ہے۔ گویا عید کی خوشیاں دوبالا ہورہی ہیں۔
2012 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی صحت کے لئے خوشی کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ خوشی کا عالمی دن 20 مارچ 2013 کو منانے کا عندیہ دیا۔ یوں تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی خوش ہیں؟
اگر ہم اپنے گردونواح میں نظر دوڑایئں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ حقیقی خوشی تو کب کی ہمارے معاشرے سے مفقود ہوچکی۔ ایک عجب نفسا نفسی کا عالم ہے جیسے کوئی ریس لگی ہوئی ہو۔ ہر انسان کو اپنی ہی پڑی ہوئی ہے۔زیادہ سے زیادہ دولت کا لالچ، ایک دوسرے سے موازانہ اور سبقت لیجانے کی کوشش، شاید ہم نے اپنے دل کے بہلاوے کی خاطر خوشی کو اپنی منشا کے مطابق عارضی مفہوم دے دیئے ہیں۔کوئی خوشی کو دولت میں تلاش کرتا ہے تو کوئی شہرت یا طاقت یا عہدے میں۔ کسی کو انا کی تسکین کرکہ خوشی ملتی ہے تو کسی کو اپنی جی حضوری کروانے سے۔
اگر خوشی واقعی اِن چیزوں سے حاصل ہوتی تو ڈپریشن اور سٹریس کے باعث خودکشی کرنے والوں میں ایک نمایاں تعداد امیر ، مشہور، کامیاب لوگوں اور بیوروکریٹس کی نہ ہوتی۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ غریب خوش ہے۔ خودکشی تو بے شمار لوگ غربت کی وجہ سے بھی کرتے ہیں مگر شاید غریب کے پاس کھونے کو کم ہوتا ہے۔
آخر خوشی ہے کیا، اِس کی کتنی اقسام ہیں اور حقیقی خوشی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟
خوشی ایک ایسا اندرونی احساس ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ اپنے مقاصد، اہداف یا خواہشوں کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی تکمیل آپ کے کتنا اطمینان اور آسودگی کا سبب ہے۔ فلسفیوں اور نفسیات دانوں نے خوشی کی کئی اقسام وضع کی ہیں جن میں سے دو بہت معروف اقسام ہیڈونک خوشی اور وڈیمونک خوشی ہیں۔
ہیڈونک خوشی میں انسان کو فوری راحت، تسکین، خوشی یا لذت حاصل تو ہوجاتی ہے لیکن اس کا اثر بہت دیرپا نہیں ہوتا۔ اصل میں ایسی خوشی حاصل ہونے پر ۲ ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جنہیں ہم ڈوپامائین اور اینڈورفنز کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ خوشی اور درد سے فوری تسکین کے ہارمونز ہیں۔ لیکن ان سے حاصل ہونے والی خوشی دیرپا نہیں ہوتی، بلکہ جیسے ہی ان ہارمونز کا اثر ختم ہونے لگتا ہے ہیڈونک خوشی بھی ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ جبکہ وڈیمونک خوشی میں انسان دیرپا اور بامقصد خوشی ہوتی ہے جو سیروٹونن اور آکسیٹوسن نامی ہارمونز سے پیدا ہوتی ہے اور یہ دیرپا ہوتی ہے اِس لئے اس کو حقیقی خوشی سمجھا جاتا ہے۔
چند چھوٹے چھوٹے اقدام کرکہ ہم بھی حقیقی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک کہاوت ہے کہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پہ خوش ہے۔ جو کچھ آپ کو لمحہِ موجود میں حاصل ہے اگر آپ اس پہ قناعت کرکے راضی ہوجائیں اور شکر گزاری کریں تو یہ امر دماغ میں سیروٹونن (خوشی کا ایک ہارمون) پیدا کرتا ہے جو دیرپا سکون کا سبب بنتا ہے۔
انسان فطرتا متجسس ہے اور اِسی وجہ سے وہ اکثر اپنی چیزوں کا دوسروں سے موازانہ بھی کرنے لگتا ہے۔ ظاہر ہے سب کی مالی حیثیت ایک جیسی تو نہیں ہوتی تو اِس موازانے سے احساسِ کمتری اور لالچ جیسے منفی احساسات جنم لیتے ہیں جو خوشی کے دشمن ہیں۔ لہذا موازانے کی عادت ترک کردیجئے۔
دیر پا اور حقیقی خوشی اپنے آپ کو کسی بڑے اور کار آمد مقصد سے جوڑنے سے ملتی ہے۔ اپنی زندگی کو بامقصد بنائیں۔ کچھ اہداف مقرر کیجئے اور ان کے لئے محنت کیجئے۔ ان کی تکمیل یقینا آپ کو حقیقی خوشی سے ہم کنار کرے گی۔
کہتے ہیں کہ صحت مند دماغ ایک صحت مند جسم کے اندر ہوتا ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ متوازن غذا، پرسکون نیند اور اپنی عمر کے حساب سے موزوں ورزش نہ صرف آپ کی جسمانی صحت بلکہ ذہنی نشونما کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ ورزش کرنے سے اینڈورفنر ہارمون پیدا ہوتا ہے جو خوشی کا احساس دلاتا ہے۔
خود کو رکھیں اور فراغت کے لمحات میں بھی ایسے صحت مندانہ مشاغل اختیار کریں جن سے آپ کو ذہنی آسودگی اور اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہو۔ ایسے مشاغل کتب بینی، باغبانی، مصوری، شاعری، سیر کرنا، بہترین دوستوں کی سنگت، اچھا کھانا، انٹرنیٹ کا مثبت استعمال اور علم حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

