Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, جون 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پیٹرول 4 اور ڈیزل اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا
  • ایران ہٹ دھرمی کی بجائے ہوشمندی سے کام لے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • آزاد کشمیر لانگ مارچ کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ : ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی
  • ”ہائی برڈ "حکومتی بندوبست اب قابلِ عمل نہیں رہا : نصرت جاوید کا کالم
  • مری حادثہ: والدہ، اہلیہ اورپانچ بچے مجھے تنہا چھوڑ گئے ۔۔ سوتری وٹ ملتان کا کاشف علی غم سے نڈھال
  • مظفر آباد میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں 20 شہادتوں کی تصدیق
  • آزاد کشمیر میں ہڑتال اور بداعتمادی کی فضا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مری حادثہ، ملتان سوگوار : ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کی میتیں ناقابلِ شناخت
  • ڈاکٹر علی شاذف : زمانے کی دھول میں چھپا سچ : محمد عمران کا کتاب کالم
  • رات گئے شدید حملوں کے بعد ایران کے خلاف امریکی جوابی کارروائیاں ختم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»حامد میر کا کالم : تم بھی جیل جاؤ گے
تازہ ترین

حامد میر کا کالم : تم بھی جیل جاؤ گے

ایڈیٹرجنوری 23, 202527 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سوال کیا گیا کہ پاکستانی میڈیا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں کے بیانات اور انٹرویوز ٹی وی چینلز پر دھڑا دھڑ نشر ہو رہے ہیں پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں آئین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا؟ سوال سن کر میں مسکرا دیا اور کشمیری چائے کا گھونٹ لیکر سوال پوچھنے والے سے عرض کیا کہ آپ کو بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ آئین پر کتنا عملدرآمد ہو رہا ہے لیکن آپ عمران خان سے اپنی اندھی نفرت کی وجہ سے کچھ نہیں مانیں گے اس لئے آپ کے ساتھ بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سن کر میرے سامنے بیٹھا ہوا پرانا دوست بھی مسکرا دیا، اس نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور صوفے کے ساتھ کمر لگا کر طنزیہ لہجے میں کہا چلو میں تو عمران خان سے اندھی نفرت کرتا ہوں کیونکہ اس نے بطور وزیر اعظم میرے خلاف جھوٹے مقدمے بنوائے لیکن یہ بتائو کہ تم اس کے بے تیغ سپاہی کیوں بن گئے ہو؟ کیا تم بھول گئے کہ جب وہ وزیر اعظم تھا تو تم پر پابندی لگی، ایف بی آر نے تمہیں جھوٹے نوٹس دیئے اور عمران خان تمہارے اثاثوں کی تحقیقات کراتا رہا۔
تم اپنے خلاف مقدمات کے دفاع کیلئے کبھی گوجرانوالہ، کبھی گلگت اور کبھی کراچی میں وکیل ڈھونڈتے پھرتے تھے آج وہی عمران خان مکافات عمل کا شکار ہے تو تمہیں آئین یاد آگیا ہے۔ اگر خدانخواستہ عمران خان دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو وہ پہلے سے زیادہ غیر آئینی اقدامات کرے گا پھر تم کیا کرو گے؟ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ حکومت کا منظور نظر بننا سب سے آسان کام ہے لیکن حکومت پر تنقید کرنا اور آپ جیسے پرانے دوستوں کو اپنا دشمن بنانا ایک مشکل کام ہے۔ مجھے یہ مشکل کام کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن میں ابھی تک ایک صحافی ہوں۔ مجھے صحافت کو سیڑھی بنا کر کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں لینا پلیز میری تنقید برداشت کر لیا کرو اور یقین رکھو کہ اگر عمران خان دوبارہ حکومت میں آ گیا اور اس نے وہی کام شروع کر دیئے جو آپ کی حکومت کر رہی ہے تو میں تنقید سے باز نہیں آئوں گا۔ یہ سن کر دوست آگے کو جھکا اور راز دارانہ لہجے میں پوچھنے لگا کہ کیا واقعی عمران خان جیل سے باہر آنے والا ہے؟ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے اپنے خوفزدہ دوست سے کہا کہ جناب آپ بھی تو جیل گئے تھے۔ اگر آپ جیل سے باہر آ سکتے ہیں تو عمران خان بھی آ سکتا ہے لیکن میرا مسئلہ عمران خان نہیں میرا مسئلہ پاکستان ہے اور پاکستان کا آئین ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں پاکستان چھوڑ کر کہیں اور نہ جائوں تو اس ملک کو آئین کے مطابق چلائیں ورنہ یہ ملک آپ سے نہیں چلے گا اور اگر آپ کو میرے الفاظ پر کوئی شک ہے تو بھیس بدل کر میرے ساتھ اسلام آباد، راولپنڈی یا لاہور کے کسی بازار میں چلو اور سنو عوام اس حکومت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہ سن کر دوست نے ڈائیلاگ مارا ’’ہم نے ریاست کی خاطر اپنی سیاست قربان کر دی‘‘ میں نے اپنے دوست کی اس خود فریبی کا بھانڈا پھوڑنے کیلئے اسے کہا کہ اگر تمہاری قربانی کا ریاست کو کوئی فائدہ ہوا ہوتا تو مان لیتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں یا آپ عصر کے بعد پشاور سے کوہاٹ، بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان نہیں جا سکتے آپ نے ریاست کیلئے نہیں صرف اور صرف اقتدار کیلئے قربانی دی ہے اور اقتدار بھی اختیار کے بغیر لے لیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے باوجود سیاسی استحکام کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ایک طرف صحافیوں کو صحافیوں سے اور سیاست دانوں کو سیاست دانوں سے لڑایا جا رہا ہے دوسری طرف جج بھی ساتھی ججوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ پارلیمینٹ ایک مذاق بن چکی ہے جس میں صرف ہلڑ بازی ہوتی ہے اور بغیر بحث کے قوانین منظور کر لئے جاتے ہیں یہی قوانین کل کو آپ کے خلاف استعمال کئے جائیں گے۔ دوست نے پوچھا کون سے قوانین؟ اسے بتایا کہ جس طرح تحریک انصاف کے دور حکومت میں بغیر بحث و مباحثے کے ایک ایک گھنٹے میں درجنوں قوانین منظور کرائے جاتے تھے اسی طرح موجودہ دور حکومت میں پارلیمینٹ نے قوانین کی منظور ی گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں کرانی شروع کر دی ہے۔ پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024ء کی مثال لے لیں۔ یہ قانون بغیر بحث کے سینٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیا یہ قانون ناصرف 1973ء کے آئین بلکہ کئی عالمی قوانین کےبھی خلاف ہے اس قانون کے تحت اسلام آباد میں پرامن اجتماع کا حق ختم کر دیا گیا جو آئین پاکستان کی دفعہ 16اور یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی دفعہ 20کے خلاف ہے۔ پہلے ہی پی پی سی 1860ء سی پی سی 1898ء،پولیس آرڈر 2002ایم پی او 1960ء اور انٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997ء میں پرامن اجتماع پر پابندیاں لگانے کے اختیارات حکومت کے پاس موجود تھے لیکن اس نئے قانون کے تحت حکومت نے اسلام آباد کے موضع سنگجانی تک ہر اجتماع اور مظاہرے کو محدود کرنے کا اختیار حاصل کر لیا ہے۔ اسی قسم کا قانون آزاد کشمیر میں نافد کیا گیا لیکن کشمیریوں نے عوامی طاقت کے ذریعہ یہ قانون واپس کرا دیا۔
اسلام آباد والوں کو اس قانون کا پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ اس پر بحث ہی نہ کی گئی میں نے اپنے دوست کو خبردار کیا کہ آپ نے ایک سال سے پاکستان میں ایکس پر پابندی لگا رکھی ہے، پنجاب میں ہتک عزت کے نام پر میڈیا کی آزادی سلب کرنے کا قانون صوبائی اسمبلی میں بحث کے بغیر منظور کرایا۔ اب آپ پرامن سیاسی اجتماع کا حق سلب کرنے جا رہے ہیں یہ نو آبادیاتی سوچ پاکستان کو مضبوط نہیں کمزور کریگی۔ کشمیریوں نے اس سوچ کے خلاف بغاوت کر دی ہے اب بلوچ اور پشتون نوجوان بھی اس سوچ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کر کے آپ اس سوچ کو کنٹرول نہیں کر سکتے ایک ادارے کو مضبوط بنانے کیلئے باقی اداروں کو کمزور کرنے کی پالیسی ریاست کی رٹ کو صرف اسلام آباد تک محدود کر دیگی کیونکہ سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کو قبول کرنا ہمارے ڈی این اے میں نہیں ہے۔ یہ سن کر میرے دوست نے پوچھا کہ یہ ڈی این اے کہاں سے آ گیا؟ میں نے اسے بتایا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے رولٹ ایکٹ کی منظوری کے خلاف متحدہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ رولٹ ایکٹ ویسا ہی قانون تھا جیسا قانون آپ نے ہم پر نافذ کیا۔ ہماری لڑائی کسی سیاست دان کو جیل سے نکالنے کیلئے نہیں ہے، ہم قائد اعظمؒ کی سوچ اور آئین پاکستان کو ہوس اقتدار کے پجاریوں کے شکنجے سے آزادی دلانا چاہتے ہیں۔ میری بات نے دوست کو غصہ دلا دیا اس نے غصے پر قابو پاتے ہوئے ناصحانہ انداز میں کہا کہ اپنے آپ کو بدلو ورنہ تم بھی جیل جائو گے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

حامد میر کالم گردوپیش
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبلوچستان: گوادر میں کتابوں کا سٹال لگانے پر گرفتار طلبا کی ضمانت منظور
Next Article نصرت جاوید کا کالم : صیہونی میڈیا سے مغلوب ہوئی امریکی اشرافیہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

”ہائی برڈ "حکومتی بندوبست اب قابلِ عمل نہیں رہا : نصرت جاوید کا کالم

جون 12, 2026

ڈکار مینیجمنٹ فورس اور بریتھ ریگولیشن اتھارٹی :شہزاد عمران خان کا کالم

جون 9, 2026

عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت

جون 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پیٹرول 4 اور ڈیزل اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا جون 13, 2026
  • ایران ہٹ دھرمی کی بجائے ہوشمندی سے کام لے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 12, 2026
  • آزاد کشمیر لانگ مارچ کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ : ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی جون 12, 2026
  • ”ہائی برڈ "حکومتی بندوبست اب قابلِ عمل نہیں رہا : نصرت جاوید کا کالم جون 12, 2026
  • مری حادثہ: والدہ، اہلیہ اورپانچ بچے مجھے تنہا چھوڑ گئے ۔۔ سوتری وٹ ملتان کا کاشف علی غم سے نڈھال جون 12, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.