Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جنوری 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ
  • پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ : فرید اللہ چودھری ، ذمہ دار صحافت اور فکری عمل کا استعارہ
  • خاران میں مسلح افراد نے تین بینک لوٹ لیے : تھانے پر حملہ ۔۔ 12 شدت پسند مقابلے میں مارے گئے : آئی ایس پی آر
  • ملالہ ہمارا فخر ہے : وجاہت مسعود کا کالم
  • معروف شاعر ، دانش ور ، براڈ کاسٹر منور جمیل قریشی کی چوتھی برسی خاموشی سے گزر گئی
  • توجہ کا باعث بنا عشرت فاطمہ کا پیغام :حقیقت کیا ہے ؟ ۔۔ ۔ نصرت جاوید کا کالم
  • بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا
  • محسن نقوی: رومانوی شاعر اور ذاکر کی ہمہ جہت شخصیت : ڈاکٹر علی شاذف کا اختصاریہ
  • ٹال مٹول ختم ، ملتانی اب ٹال زون کو نہیں ٹال سکیں گے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • سعید مہدی کی گواہی : جب بھٹو نے ضیاء کے نام معافی نامہ لکھنے سے انکار کیا : حامد میر کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»یاسر پیر زادہ کا کالم : مصنوعی ذہانت ابھی پنگھوڑے میں ہے
تازہ ترین

یاسر پیر زادہ کا کالم : مصنوعی ذہانت ابھی پنگھوڑے میں ہے

رضی الدین رضیجنوری 8, 20251 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
columns of yasir pirzada girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

’’مصنوعی ذہانت بمشکل ابھی دس سال کی ہوئی ہے، اور یہ اگلے کئی سو سال بلکہ ہزاروں، لاکھوں سال تک ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہوتی چلی جائے گی، گویا جانداروں کے ارتقاء کی طرح اب ہمیں اِس غیر جاندار مصنوعی ذہانت کے ارتقائی عمل کا سامنا ہے اور یہ فقط آغاز ہے۔ آج کل کی مصنوعی ذہانت ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہے جسے آپ امیبا کہہ سکتے ہیں۔ ذرا اُس وقت کا تصّور کریں جب یہ مصنوعی ذہانت ارتقائی سفر طے کر کے ڈیجیٹل ڈائنوسار میں تبدیل ہو جائے گی، اور اِس بات کا قوی امکان ہے کہ آج کی مصنوعی ذہانت کو ڈیجیٹل ڈائنوسار بننے میں دو ارب سال نہیں بلکہ بیس سال ہی لگیں کیونکہ ڈیجیٹل ارتقاء کی رفتار جانداروں کے ارتقائی عمل سے بالکل مختلف اور بے حد تیز ہوتی ہے۔‘‘ یوال نوحا حراری۔
یوال نوحا حراری کا شمار موجودہ صدی کے چند بڑے دانشوروں میں ہوتا ہے جن کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ تاہم اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کی ہر پیش گوئی ٹھیک ثابت ہو، کووڈ کے دنوں میں اُن سے پوچھا گیا تھا کہ وبا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی تو جواب میں انہوں نے جن تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا وہ رونما نہیں ہوئیں، دنیا تقر یباًویسی ہی ہے جیسی کووڈ سے پہلے تھی، بے انصافی پر کھڑی ہوئی! مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی مسٹر حراری مسلسل پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اگر اِس ٹیکنالوجی کو لگام نہ ڈالی گئی تو اِس کے غلط استعمال سے انسانوں کی آزادی سلب ہو جائے گی۔ دیکھا جائے تو مسٹر حراری کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں، اگر اِن کا تصّور کرنا ہو تو نیٹ فلکس پر بلیک مِرَر دیکھ لیں، اِس سیریز میں مستقبل کی خوفناک تصویر کشی کی گئی ہے، ایسا مستقبل جس میں ٹیکنالوجی انسانوں پر راج کرے گی اور انسان اُس کے سامنے بے بس ہوں گے۔ مثلاًاگر اِنسانوں کے دماغ میں ایسی چِپ لگا دی جائے جس کی مدد سے اُس کی تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے تو کیا ہو گا؟ اگر کسی انسان کے مرنے کے بعد اُسے روبوٹ کی شکل میں یوں ’زندہ‘ کر دیا جائے کہ وہ جیتا جاگتا انسان ہی لگے تو ایسی صورت میں کس نوعیت کی مشکلات درپیش ہوں گی؟ اگر کسی کی بیوی لا علاج مرض کا شکار ہو کر کُومے میں چلی جائے اور سائنس دان شوہر کو پیشکش کریں کہ ہم آپ کے دماغ میں بیوی کا شعور ’امپلانٹ‘ کرکے رکھ دیتے ہیں تاکہ آپ اُس سے بات چیت کر سکیں اورآپ دونوں کا تعلق قائم رہ سکے تو ایسی شدید محبت کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ یہ تمام کہانیاں بظاہر سائنس فکشن ہیں مگر جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے،مستقبل بے حد قریب میں یہ کہانیاں حقیقت بن جائیں گی اور تب ہمیں مسٹر حراری کی پیش گوئیاں یاد آئیں گی۔
آپ میں سے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سائنس نے اتنی ترقی کی بھی تو اُس میں کئی سو سال لگیں گے، اُن کی خدمت میں آج کی خبر پیش ہے۔ خبر کے مطابق امریکہ سے لے کر اٹلی، برطانیہ اور پاکستان تک، خواتین سیاست دان تیزی سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک پورنوگرافی کا شکار ہو رہی ہیں جو بہت خطرناک رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی فوٹو ایپس کی مدد سے، جو سَستے داموں مارکیٹ سے باآسانی مل جاتی ہیں، ڈیجیٹل طور پر خواتین کو برہنہ دکھایا جا سکتا ہے اور یہ سب کچھ عوام میں خواتین کی ساکھ کو داغدار کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں قائم ایک تحقیقی ادارے نے اِس قسم کے ڈیپ فیک مواد کی پڑتال کر کے بتایا ہےکہ اِس میں کانگریس کے 26 اراکین، جن میں سے 25 خواتین ہیں، کو فحش سائٹس پر دکھایا گیا ہے۔
یہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں تصویر کا ایک رُخ ہے، دوسرا رُخ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت میں اپنے طور پر پنپنے کی صلاحیت نہیں ہے، اسے جو کچھ سکھایا جاتا ہے یا فیڈ کیا جاتا ہے یہ اسی کے مطابق کام کرتی ہے، انسانوں کی طرح یہ سوچ بچار نہیں کر سکتی، بظاہر جب یہ ’سوچ‘ رہی ہوتی ہے اُس وقت دراصل یہ اپنا ڈیٹا کھنگال رہی ہوتی ہے تاکہ اُس ڈیٹا میں سے، جو انسانوں کا ہی مرتب کردہ ہے، آپ کو تسلی بخش جواب دے سکے۔ گویا مصنوعی ذہانت روز مرہ کے دفتری امور نمٹانے میں تو مدد کر سکتی ہے یا وہ کام بھی سر انجام دے سکتی ہے جس کیلئے ملازمین کی فوج ظفر موج رکھنا پڑتی ہے مگر یہ اُس پائے کا اعلیٰ تخلیقی کام نہیں کر سکتی جس پر صرف انسانوں کی اجارہ داری ہے۔ مثلاًمیں نے ابھی چیٹ جی پی ٹی کو کہا کہ غالب کے انداز میں کوئی شعر کہہ کر دکھاؤ تو جواب آیا: ’’کہاں سے لاؤں وہ دل کی تڑپ، وہ شوقِ نظر، جو ہر سخن میں ہو تازہ وہی اثر پیدا کرے۔‘‘ بے شک یہ ایک بیکار شعر ہے مگر جیسا کہ مسٹر حراری نے کہا کہ یہ تو محض ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ آپ چیٹ جی پی ٹی کو سکھا دیں کہ نہیں بی بی یہ غالب کا رنگ نہیں اور شعر بھی تم نے فضول سا ہی بنایا ہے تو وہ دوبارہ کوشش کرے گی، آپ اُس کی تصحیح کرتے جائیں وہ شکریہ ادا کرکے ہر مرتبہ ایک نیا شعر تخلیق کرکے آپ کے سامنے رکھ دے گی اور اُس وقت تک یہ کام کرتی رہے گی جب تک آپ تھک نہیں جائیں گے یا مطمئن نہیں ہو جائیں گے۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج میں کس کے ساتھ ہوں، یوال نوحا حراری کی پیش گوئی سے متفق ہوں یا اُس نقطہ نظر کا حامی ہوں کہ مصنوعی ذہانت انسانی مدد کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ تو گزارش ہے کہ آج اِس فقیر کی رائے بی بی سی کے اُس مبصر جیسی ہے جو غیر جانبداری برقرار رکھنے کے چکر میں neither this nor that قسم کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں کسی بھی قسم کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، 1959ء میں جب انسان نے چاند کو مُسَخّر کیا تھا تو اُس وقت کے اخبارات میں یہ پیش گوئیاں شائع ہوئی تھیں کہ اب فقط چند سال کی بات ہے کہ انسان اپنے نظام شمسی کی سیر کو نکلا کرے گا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اِس کے برعکس جس ایجاد نے دنیا کا نقشہ اور انسان کا رہن سہن تبدیل کرکے رکھ دیا اُس کے بارے میں کسی اخبار نے کبھی پیش گوئی نہیں کی اور وہ ایجاد تھی انٹرنیٹ۔ سو، یہ بتانا مشکل ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں کیا گُل کھلائے گی مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ خود انسان ہوگا جو اپنی تباہی اور ہلاکت کا باعث بنے گا۔ خسارا ہر صورت انسان کا ہی ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

کالم گردوپیش یاسر پیر زادہ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعمران خان کی ہاؤس اریسٹ آفراسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی طرف سے محسن نقوی نے کی: شیر افضل کا دعویٰ
Next Article نصرت جاوید کا کالم : افغانستان میرے ذہن پر کیوں سوار ہے
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

ملالہ ہمارا فخر ہے : وجاہت مسعود کا کالم

جنوری 17, 2026

آتش فشاں کے دہانے پر ایران ،رضا شاہ اور فرح دیبا کا تذکرہ : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

جنوری 13, 2026

امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم

جنوری 13, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ جنوری 17, 2026
  • پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ : فرید اللہ چودھری ، ذمہ دار صحافت اور فکری عمل کا استعارہ جنوری 17, 2026
  • خاران میں مسلح افراد نے تین بینک لوٹ لیے : تھانے پر حملہ ۔۔ 12 شدت پسند مقابلے میں مارے گئے : آئی ایس پی آر جنوری 17, 2026
  • ملالہ ہمارا فخر ہے : وجاہت مسعود کا کالم جنوری 17, 2026
  • معروف شاعر ، دانش ور ، براڈ کاسٹر منور جمیل قریشی کی چوتھی برسی خاموشی سے گزر گئی جنوری 17, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.