ڈاکٹروں ، شاعرو ں اور ادیبوں کا محکمۂ دکانداری : ڈاکٹر علی شاذف کا
جون ایلیا سے ایک واقعہ منسوب ہے کہ ایک دفعہ وہ کسی شہر میں مشاعرہ پڑھنے گئے۔ وہاں کے ایک نامی شاعر ان سے ملنے پہنچ گئے۔ ان صاحب کی کتابوں کی ایک دکان تھی جو خوب چلتی تھی، یعنی وہ کتابوں کی اچھی مارکیٹنگ کرتے تھے۔ انہوں نے جون سے اپنا تعارف کرایا کہ میں شہر کا وہی مشہور شاعر اور ادیب ہوں جو ٹی وی پر آتا ہے۔
جون ایلیا نے ان پر اچٹتی سی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا:
“اچھا، آپ شاعر اور ادیب ہیں؟ لیکن شکل سے تو دکاندار معلوم ہوتے ہیں۔”
پاکستان میں دو طرح کے ہسپتال ہیں۔ ایک سرکاری، جہاں بڑے ڈاکٹر اپنا نام بناتے ہیں اور پھر نجی ہسپتالوں میں جا کر وہی نام بیچتے ہیں۔ یعنی سرکاری ہسپتال ان کے لیے مارکیٹنگ کے اڈے ہوتے ہیں، لیکن وہ اس عمل کو مارکیٹنگ نہیں کہتے۔
دوسری قسم کے ہسپتال مہنگے، اسپیشلائزڈ نجی ادارے ہیں، جو ملک کے بڑے شہروں میں واقع ہیں۔ یہ اپنے ملازم ڈاکٹروں کو بیرونِ ملک سے بلا کر اچھی تنخواہوں پر نوکریاں دیتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی معیار کے ہسپتال ہوتے ہیں اور اعلیٰ ترین اسناد رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خیراتی ادارے بھی کہلاتے ہیں، یعنی نان پرافٹ یا غیر منافع بخش۔ اس کے باوجود یہ اپنے ایک شعبے پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اس شعبے کا نام مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ہوتا ہے، یعنی محکمۂ دکانداری۔ اس کا اردو ترجمہ کچھ مکروہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ترجمہ بہرحال یہی ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صحت کا شعبہ، دونوں طرح کے ہسپتالوں میں، ایک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کاروبار کھلے عام، بغیر کسی روک ٹوک اور کسی شرم و حیا کے کیا جاتا ہے۔ اس کاروبار میں شامل کچھ ڈاکٹر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے مذہبی داڑھیاں رکھتے ہیں، بات بات پر ماشاءاللہ، ان شاءاللہ اور سبحان اللہ کہتے ہیں، اور اپنی کاروباری تقاریر اور اجلاسوں کا آغاز بسم اللہ اور قرآنی آیات کی تلاوت سے کرتے ہیں۔
یہ بغیر کسی مقصد کے، یعنی علم یا آگاہی پھیلانے کے لیے، کوئی تقریر یا اجلاس منعقد نہیں کرتے، کیونکہ علم پھیلانے سے وقت ضائع ہوتا ہے، اور وقت ہی تو پیسہ ہے۔ یعنی ان کے ہر عمل کا مقصد مارکیٹنگ ہوتا ہے۔ اسی کاروبار کی خاطر ہی تو انہوں نے دن رات محنت کر کے ڈاکٹر بننے کا سفر طے کیا تھا، اور اس میں کوئی مضائقہ قطعی نہیں۔
اگر کچھ غیر مذہبی لوگ اسے کاروبار کہہ کر ان پر طعنہ زنی کرتے ہیں تو وہ جاہل ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ اسلام میں کاروبار جائز ہے بلکہ سنت بھی ہے۔ اور پھر اس مارکیٹنگ سے ہزاروں لوگ فیض یاب اور مریض صحت یاب بھی تو ہو رہے ہیں۔
ان لوگوں کے نزدیک سرکار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ سرکار کے ساتھ اشتراک میں پہل کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں نہیں بلکہ خود کو ہی اصل سرکار سمجھتے ہیں۔ جی ہاں، وہی فلم والی "سرکار”، جو امیتابھ بچن اپنی مشہور فلم میں بنے نظر آئے تھے۔
کچھ سرپھرے لوگ انہیں مافیا کہہ کر ان کی توہین کرتے ہیں، حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ مافیا عوام الناس کی کتنی بڑی تعداد کی خدمت کر رہا ہے۔ تو کیا ہوا اگر وہ سال کے کچھ مہینے بیرونِ ملک گزار لیتے ہیں، ان کے خاندان ترقی یافتہ ممالک میں رہائش پذیر ہوتے ہیں، یہ ہر سفر جہاز میں کرتے ہیں، بہترین بنگلوں اور گاڑیوں کے مالک ہوتے ہیں، الغرض شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔
ان کے بارے میں کالم لکھنے والے دراصل ان سے حسد کرتے ہیں۔ وہ اپنی محرومی اور نااہلی کا غصہ ان پر نکالتے ہیں۔ یہ حاسد لوگ اگر اپنی الجھی ہوئی اور بے ترتیب سوچوں کو سنوار لیتے، اور بے مقصد خیالات اور نظریات سے اپنے دماغوں کو نہ بھرتے، تو آج حسد کرنے کے بجائے ان کی طرح امیر ہوتے۔
بے ترتیب سوچوں سے نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کی بے ترتیبی سے منہ موڑ لیا جائے، اس پر کڑھنے اور اسے سنوارنے کی کوشش ترک کر دی جائے، اور وہ کام کیا جائے جس سے خیالات سنورتے ہیں، یعنی مارکیٹنگ۔چاہے وہ سرکاری ہسپتال میں ہو یا نجی ہسپتال میں۔

