اختصارئےشہزاد عمران خانلکھاری

کورونا سے مرنے کے چیدہ چیدہ فوائد ۔۔ شہزاد عمران خان

وزیراعظم پاکستان عمران خان بہت درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔پوری دنیا میں پھیلی وباءسے جہاں دنیا کے دیگر ممالک پریشان دکھائی دے رہے ہیں وہاں پاکستانی عوام اور بہادر وزیراعظم اس وباءسے کم خوفزدہ ہیں۔ اس لیے ملک میں پہلے لاک ڈاﺅن کی مخالفت کی گئی۔ پھرہر صوبے نے اپنی مرضی کے مطابق اگلے روز لاک ڈاﺅن کااعلان کردیا اور بیشترکاروبار ،سکول، کالج، مدرسے، ہسپتال غرض چند اشیائے ضروری کے علاوہ تمام کاروبار بند کرادیئے گئے۔ پھربھی وزیراعظم پاکستان فرماتے رہے کہ ان کاملک بہت غریب ہے یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں وہ کیسے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرلیں گے۔ اس لئے لاک ڈاﺅن کرنا مشکل ہے اوروہ عوام کو ہربارٹی وی پر آکرکہتے رہے کہ عوام آپ نے گھبرانا نہیں ہے آ پ کاوزیراعظم آپ کے ساتھ ہے۔
اپنی ایک تقریر میں انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں اور اپنی عوام سے امداد کی اپیل کردی اور ساتھ ہی فرمادیا کہ انہیں مانگنے کابڑاتجربہ ہے وہ جس سے بھی سوال کرتے ہیں وہ کچھ نہ کچھ ضرور دے کرجاتا ہے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ۔انہیں امید ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اتنی رقم اکٹھی کرلیں گے کہ اس مشکل وقت سے نکلنے میں مددگار ثابت ہوسکے گی۔درد دل رکھنے والے وزیراعظم عمران خان کو غریبوں کا زیادہ احساس ہے ان کاکہنا ہے کہ وہ اگر لاک ڈاﺅن میں نرمی نہیں کریں گے۔تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے ۔گھربیٹھے لوگ اگر بھوک سے مرنا شروع ہوگئے تو بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں مثلاً اگرکوئی بھوک سے مرگیا تو لوگ وہاں اکٹھے ہوکر افسوس کرنے آئیں گے اور کافی اخراجات اس کے کفن ودفن اور دیگر معاملات پربھی ہوں گے ۔اس کے برعکس لاک ڈاﺅن میں نرمی کی صورت میں عوام گھروں سے باہرنکلیں گے خدانخواستہ کورونا کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ممکن ہے کہ وہ کورونا سے متاثر ہو جائیں اور ٹھیک دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں دیگر کئی لوگوں کوبھی اس موذی وباءسے متاثر کریں اور جب عوام اس مرض میں مبتلا ہو کرمرنا شروع ہوں گے توفائدہ ہی فائدہ ہو گا۔ لواحقین کوکفن دفن اور دیگراخراجات سے چھٹکارا مل جائے گا ۔اس طرح خاطرہ خواہ بچت ہوسکتی ہے لازمی بات ہے انسان زندہ ہوگا تو بھوک اور دیگر ضروریات ہوں گی جب مرجائے گا توہر ضرورت ختم ہوجائے گی ۔لاہور میں ڈاکٹر اشرف نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آنے والا وقت کورونا کے حوالے سے بہت مشکل اور کٹھن ہوگا حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاﺅن کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور لاک ڈاﺅن پرسختی سے عملدرآمد کروائے جس طرز پر سعودی عرب اور ترکی میں لاک ڈاﺅن ہوا۔اس طرز پر پالیسی پر عمل کیا جائے بصورت دیگر حالات انتہائی خراب ہونے کاخدشہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کی تعداد ہزاروں میں بلکہ لاکھوں میں ہوگئی مگر کیونکہ ٹیسٹ کی رفتار بہت کم ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی درست تعداد کااندازہ لگنا مشکل ہے۔ان کاکہنا ہے کہ یہ ایسی وباءہے جس سے صرف احتیاط سے ہی بچا جاسکتا ہے اب تک نہ توکوئی دوا ایجاد ہوئی ہے اورمستقبل قریب میں دو ایجاد ہونے کاکوئی علم نہیں۔وزیراعظم کوچاہیے کہ وہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر وہ فیصلے کریں جس سے انسانی زندگیاں بچائی جاسکیں بصورت دیگر جانی نقصان ہونے کی صورت میں عوام کوزیادہ پریشانیوں کاسامنا پڑسکتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker