زعیم ارشدکالملکھاری

زعیم ارشد کا کالم : کرکٹ کے ستائے لوگ

برصغیر پاک و ہند خصوصاً اور عموماً جنوب مشرقی ایشیاء کے بیشتر ممالک میں کرکٹ انتہائی مقبول کھیل ہے، یہاں کے لوگ اس کھیل کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتے ہیں، لہذا جب کبھی ان ممالک میں کرکٹ کے مقابلے ہوتے ہیں تو لوگ یہ مقابلے اسٹیڈیم جاکر یا ٹی وی پر بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کے اس خطہ کے لوگوں کا کرکٹ سے جذباتی لگاؤ ہے، لہذا جب کبھی ان ممالک میں جن میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلا دیش اور اب افغانستان بھی شامل ہو گیا ہے کرکٹ میچ ہوتے ہیں تو یہاں کی عوام پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے جسے کرکٹ مینیا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ بوڑھے، جوان بچے سب کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اپنی اپنی پسند کی ٹیموں کے رنگین لباس پہنے جاتے ہیں خوب تبصرے ہوتے ہیں، بعض میچز تو مل کر بڑی بڑی اسکرین لگا کر دیکھے جاتے ہیں، غرض خوب ہلا گلا رہتا ہے۔
مگر بڑھتی ہوئی عالمی دہشت گردی نے ہر شہ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، کرکٹ کے دلدادہ لوگوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا جو اب ہو رہا ہے، یعنی اب جس شہر میں کرکٹ کے مقابلے ہو رہے ہوں وہاں کی زندگی بجائے خوشی کی ہلچل کے مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ حفاظتی اقداما ت کے تحت راستے بند ہوجاتے ہیں، شہر میں جگہ جگہ ٹریفک جام ہو جاتی ہے، کہیں بھی آنا جانا جوئے شیر لانے کے برابر ہوجاتا ہے، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ہوپا تا ہے اور ٹریفک میں پھنسے رہنے کی تکلیف الگ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ لوگ بیزار، ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکار اور انتظامی عملہ پریشان ہوتا رہتا ہے۔ جن جن راستوں سے کھلاڑیوں کی آمد و رفت متوقع ہوتی ہے اس کے اردگر د گاڑی چلانا تو دور وہاں پارکنگ تک منع ہوتی ہے۔ اگر ایک ملک کی مہمان ٹیم ہو تو لوگوں کو صبح اور شام کی پریشانی برداشت کرنا ہوتی ہے اور اگر بات ہو ٹورنامنٹ کی تب تو زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے، راستے پورا دن بند رہتے ہیں۔ اسٹیڈیم کے قریبی علاقوں میں ٹریفک کی بندش کی وجہ سے دباؤ اردگرد کے علاقوں کی بیرونی گزرگاہوں اور شاہراہوں پر آجاتا ہے اور جو راستے عام دنوں میں ویران پڑے ہوتے ہیں وہ بھی کرکٹ میچ کے دنوں میں گزرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں، شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے، بیماروں کی ایمبولینس تک ٹریفک میں پھنسی ہوتی ہیں۔ کرکٹ کی ترویج کیلئے عام آدمی اسطرح بڑی قیمت چکاتا ہے، میچ دیکھنے آنے والوں کیلئے بھی ایک کلو میٹر دور پارکنگ بنائی گئی ہوتی ہے، ہزاروں روپے کے ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے والے اپنی گاڑی چھوڑ کر بسوں میں بھر بھر کر اسٹیڈیم تک پہنچتے ہیں، ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ یہ تمام حفاظتی اقدامات کھلاڑیوں اور عوام کی جان کی حفاظت کیلئے کئے گئے ہوتے ہیں مگر پھر بھی بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہوتے ہیں۔
ان حالات میں شہر بھر سے کل ملا کر ایک فیصد لوگ میچ اسٹیڈیم میں جاکر دیکھنا پسند کرتے ہیں باقی 99فی صد بلاوجہ پریشان ہو رہے ہوتے ہیں۔ لہذا عام آدمی چاہتا ہے کہ یہاں میچز نہ ہوں، جیسا دوبئی، شارجہ اور کئی ممالک نے اپنے کرکٹ اسٹیڈیمز شہر سے باہر بنائے ہوئے ہیں اسی طرح ہمیں بھی سوچنا چاہئے اور کوشش کرنا چاہئے کہ عوام کو کم سے کم پریشانی اٹھانا پڑے، اب لوگ جتنا انجوائے نہیں کر پاتے اس سے زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
ملک میں چند دنوں میں ایک بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ کے آغاز کی تیاریاں عروج پر ہیں اور اس کی ضمنی تقاریب کی وجہ سے لوگوں نے پریشان ہونے کی نیٹ پریکٹس شروع کردی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کیلئے کرکٹ ایک بڑی تفریح سے بدل کر ایک بڑی آزمائش بن کر رہ گئی ہے۔ لوگ آنے والے اذیت ناک وقت کے متعلق سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں کہ دفتر کیسے اور کن راستوں سے پہنچا جا سکتا ہے، اسکول کے راستے میں کہاں کہاں بندش ہوگی، ہسپتال جا سکیں یا نہیں۔ مگر ارباب اختیار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کیوں کہ انہیں ان تمام پریشانیوں کا علم ہی نہیں وہ تو ان رکاوٹوں میں سے بھی بیس بیس فالو کارز کے ساتھ زن سے گزر جاتے ہیں، عوام کی فریاد کون سنے گا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker