تجزیےعلی نقویلکھاری

ریاستی بونے اور بیانیے کا بحران ۔۔ علی نقوی

چیف جسٹس گلزار احمد نے جس طرح کی زبان حکومت، وزیراعظم اور کابینہ کے بارے میں استعمال کی وہ افسوس ناک ہے، ایک مدت سے پڑھے لکھے لوگ اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا سیکھنا چاہیے، اگر ہم غور کریں تو ایک مدت سے ریاست کے بنیادی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ہر بار غیر آئینی قدم کی حمایت میں سامنے آ جاتی ہے… چاہے وہ مارشل لاز ہوں، عدالتی قتل ہوں یاغیر آئینی اقدام کی عدالتی توثیق ہو عوام کی ایک بڑی تعداد ہر بار موجود ہوتی ہے جو ان اعمال کی پُر زور حمایت کرتی ہے، جس جس سیاسی، سماجی یا مذہبی طبقے کو وہ غیر آئینی قدم وقتی طور پر سوٹ کرتا ہو تو اسکے پیروکار اسکی حمایت میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں اور مخالفین پر بنا سوچے سمجھے بے سروپا تنقید کرتے ہیں، اداروں کے اس ٹکراؤ نے جہاں اور بھی بہت سارے مسائل کو جنم دیا وہاں میری رائے میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کی سمت کا تعین تا حال ستر تیہتر سال گزارنے کے باوجود نہ ہو سکا اور اس کے نتیجے میں بیانیے کا شدید بحران پیدا ہوا جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی ریاستی ادارے کا سربراہ چاہے وہ وزیراعظم ہو، آرمی چیف ہو یا چیف جسٹس، شاید ہی ایسا گزرا ہو کہ جو غیر متنازعہ رہ سکا ہو۔
جس جس کو طاقت اور اختیارات ملے اس اس نے دوسرے ادارے کے معاملات میں حد درجہ دخل اندازی کی اگر کسی وزیراعظم کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو اسکی پہلی خواہش یہی رہی کہ وہ فوج، بیورو کریسی اور عدلیہ کو اپنی انگلی کے اشارے پر نچائے نہ صرف یہ بلکہ اپنی برتری ثابت کر کے اسکا اعلان بھی کرے….. اس مخاصمت نے ہمیں یہاں پہنچایا کہ آج کوئی بھی ادارہ مضبوط نہیں ہے، کسی بھی ادارے کو اسکی اصل روح کے تحت کام کرنا نہیں آتا، یہی سبب ہے کہ یہاں نہ آئین محترم ہے، نہ قانون کا کوئی احترام ہے نہ ہی کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے پر لوگوں کو اعتماد ہے..
میں بھٹو صاحب کو پسند کرتا ہوں لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ بھٹو ضیاء الحق کی تحقیر کر کے خوشی محسوس کیا کرتے تھے اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بھٹو ضیا کو
My Monkey General کہہ کر مخاطب کرتے تھے، کیا میاں نواز شریف اپنی طاقت اور شہرت کی بلندی پر امیر المومنین نہیں بننا چاہتے تھے؟؟ کیا عمران خان دھرنے کے دنوں میں یہ کہتے نہیں پائے گئے کہ جرنیلوں کے پاؤں نہیں ہوتے ہم اگر اسلام آباد میں دو لاکھ بندے لے آئے تو جنرل کا پیشاب نکل جائے گا، ہم میں سے جس جس نے بھی کبھی کسی سینیئر سیاست دان، بیورو کریٹ، جج یا فوجی افسر کے ساتھ وقت گزارا ہو وہ جانتا ہے کہ ہمارے حکامِ بالا اپنے ہم منسبوں اور دوسرے ادارے کے سربراہان سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔
میں یہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں کسی بھی ادارے کا سربراہ ایسا نہیں جو کسی دوسرے ریاستی ادارے کے سربراہ کے متعلق اچھی رائے رکھتا ہو، یہ بات مشکل ہے لیکن کہہ رہا ہوں… لوگوں کو یہ گمان ہے کہ عمران خان نہ تو باجوہ صاحب سے خوش ہیں نہ باجوہ صاحب ان سے اسی طرح یہ دونوں حضرات نہ جسٹس گلزار سے خوش ہیں نہ جسٹس صاحب ان دونوں سے ۔اس بات کے ثبوت کے لیے کسی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت ہی نہیں یہ ملک جس طرح چل رہا ہے اور جو اس مملکت کی معاملات ہیں وہی اسکی گواہی ہیں اگر ہم صرف سیاست تک محدود ہو کر بھی دیکھیں تو اس جان لیوا بیماری کرونا کے زمانے میں بھی سندھ اور وفاق آمنے سامنے ہیں، کے پی کے کی گورنمنٹ میں اندر سے دراڑ ہے، پنجاب درد زہ میں مبتلا ہے نجانے وہاں سے کیا برآمد ہوگا… اور بیچارے بلوچستان کا تو ذکر ہی کیا؟؟
ہم نوجوانوں کو یہ لگتا ہے کہ اس ملک کا ڈی این اے ہی کرپٹ ہو گیا ہے ہم لوگوں کو درپیش سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حق حکمرانی کس کے پاس ہونا چاہیے؟؟ اس ملک کا آئین پارلیمنٹ کو سپریم کہتا ہے لیکن آپ ذرا عام شہریوں سے پوچھیں تو آپکو کم از کم اسی فیصد لوگ یہ کہتے ملیں گے کہ فوج بہتر ہے مثلاً آپ کتنے ہی ایسے لوگوں سے ملے ہوں گے کہ جو آج بھی پرویز مشرف کے گن گاتے نہیں تھکتے لیکن اگر پرویز مشرف ایک سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑیں جوکہ انہوں نے لڑا تو انکو ووٹ کوئی نہیں دیتا؟؟
یہاں تقریباً نوے پچانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں اور اسی پچاسی فیصد ان میں سے مذہبی ہیں لیکن مذہبی جماعتیں یہاں آج تک حکومت نہیں بنا سکیں؟؟ پیپلزپارٹی جو کہ ایک “سینٹر آف دی لیفٹ” کی پارٹی سمجھی جاتی ہے وہ یہاں دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور سندھ کے شہری علاقوں کی نسبت سندھ کے دیہی علاقوں میں اپنا مضبوط ہولڈ رکھتی ہے جبکہ سندھ ولیوں کی سر زمین ہے، کراچی جو کہ اس ملک کا سب سے ماڈرن اور فیشن و شوبز انڈسٹری کا گڑھ ہے ایم کیو ایم سے پہلے یہاں سب سے زیادہ ووٹ بینک جماعت اسلامی کا تھا…
یہ اس معاشرے کے متصادم پہلوؤں کی چند مثالیں ہیں جو میری رائے میں اس لیے وجود میں آئے کہ ہمارا بیانیے کا کرائسس شدید ہے..
مثلاً ضیا الحق آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اسلامی شعار میں ڈھال لیں اسلام کی خوب ترویج کی جاتی ہے ٹی وی ڈراموں کی ہیروئینوں پر بھی دوپٹہ سر پر لینا لازمی قرار دیا جاتا ہے وہ رخصت ہوتے ہیں دس سال بعد مشرف آتے ہیں اور Enlightened Moderation کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے اور معاملہ دوپٹے والی ہیروئینوں سے سیدھا جاکر بیگم نوازش علی کے آدھے پیٹ والے بلاؤز پر جا کر رکتا ہے، چائنیز مساج پارلر لال مسجد کی خواتین کو نکل کر بند کرانے پڑتے ہیں، میرے شریر دماغ میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہمارے مقتدر حلقوں پر مسلط دماغی بونے صرف یہ بتا دیں کہ ہمیں کس طرح رہنا ہے؟؟ تاکہ ایک بار میں اپنی زندگی ترتیب دے لوں اور زندگی میں آگے بڑھوں لیکن شاید لارجر ایجنڈا یہی ہے کہ میں کسی ایک طرف نہ جا سکوں اور بے چین رہوں..
اس بیانیے کے کرائسس نے نہ یہاں کوئی ادارہ مضبوط ہونے دیا نہ ہی ہم کوئی واضح پالیسی وضع کر سکے ہر پانچ دس سال بعد ہماری ریاست کا بنیادی ڈھانچہ اور اسکی سمت ہی تبدل جاتی ہے اور اسکی وجہ ہمارے اداروں کا آپسی ٹکراؤ ہے جو ایک ساتھ تو چھوڑیے ایک دوسرے چلنے دینا ہی نہیں چاہتے ابھی ہم نے دیکھا کہ افتخار چوہدری کس طرح برطرف ہوئے اور پھر کس طرح انکی بحالی کی ایک بوگس تحریک چلی وہ بحال بھی ہوئے لیکن کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں؟؟ جب وہ برطرف تھے تو ایسا لگتا تھا کہ اگر یہ بحال ہوگئے تو یہ ملک سنور جائے گا لیکن کیا ایسا ہوا؟؟ ثاقب نثار صاحب کے تو کیا ہی کہنے کہاں گیا وہ ڈیم فنڈ کہ جب اس کا اجرا ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ بس ایک آدھی ٹینکی ہی پانی کی بچی ہے اب کیا ہوا، کیا پانی پورا ہو گیا؟ ثاقب نثار کہ جو عدالتوں میں گھس کر ججوں کی بے عزتی کیا کرتے تھے؟ حسین نقی جیسے قد آور لوگوں کے نام تحقیر سے بلاتے تھے آج کہاں ہیں اور انکی اور انکے بیانیے کی آج کیا عزت اور وقعت ہے؟ کہتے ہیں جج نہیں انکے فیصلے بولتے ہیں تو آج ثاقب نثار کا کیا ہوا وہ فیصلہ کہ جب انہوں نے الیکشن سے چار دن پہلے ہفتے کی رات کو گیارہ بجے حنیف عباسی کو صرف اس لیے نا اہل قرار دیا کہ شیخ رشید کے جیتنے کی راہ ہموار کی جا سکے مجھے آپکو اور آنے والے بچے کو کیا بتاتا ہے؟ کیا یہ فیصلہ انکو مولوی انوار اور جسٹس نسیم کے ساتھ جا کھڑا نہیں کرتا؟ تاریخ اپنا بیانیہ خود بناتی ہے اور کسی طاقت یا طاقت ور کے اثر کو قبول نہیں کرتی نہ جانے ریاست کی گردن پر ستر سال سے مسلط بونوں کو اور کتنی مثالیں درکار ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ کسی ظالم کے ہاتھوں یا فاقے سے مرنا تاریخ کے ہاتھوں مرنے سے ہزار گناہ بہتر ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker