عظیم انقلابی اور فلسفی کامریڈ کارل مارکس نے کہا تھا کہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ متوسط طبقہ ہوتا ہے جس کی نظریں آسمان پر اور پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں ۔آج میں اس طبقے کے ایک نمائندہ قبیلے کی بات کروں گا جنہیں ہمارے پاکستانی معاشرے میں مسیحا، کریم آف دی نیشن یا شعبہ طب کے ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔ یہ ڈاکٹر کئی قسم کے ہوتے ہیں مثلاً ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس، عطائی، حکیم، دیہات میں طبی مشق کرنے والے کسی ہسپتال کے وارڈ بوائے، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ اور بنیادی مراکز صحت کے چوکیدار وغیرہ۔ ان سب کی عملی زندگیوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا. یہ سب ایک ہی جیسی پریکٹس کرتے ہیں اور اس بنیاد پر ان کی آپس میں مقابلے بازی بھی چلتی رہتی ہے جس میں کسی ڈگری کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میرے پیٹی بند بھائیوں یعنی ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے پاس بنیادی طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک جنرل پریکٹس یعنی کلینک، ہٹی، دکان یا نجی ہسپتال کھولنا یا بڑا ڈاکٹر، اسپیشلسٹ یا کنسلٹنٹ بننا۔ متوسط طبقے کے ڈاکٹر کی دکان چل جائے تو بلے بلے، نہیں، تو وہ دوسرا راستہ منتخب کرتا ہے۔ کچھ ہوشیار ڈاکٹر پہلے ہی منصوبہ بندی کر لیتے ہیں کہ مستقبل میں انہیں کیا کرنا ہے. نسبتاً امیر ڈاکٹر جن کے والدین ان کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں یو ایس ایم ایل ای کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے ناپسندیدہ کافر ملک امریکہ جا کر "کیریر” بنا سکیں، کچھ انگلستان یا آئرلینڈ جانے کے لیے پلیب یا آئی ایم سی کرتے ہیں، کچھ کینیڈا اور کچھ آسٹریلیا جانے کے لیے ان ممالک کے امتحانات دیتے ہیں. جو ڈاکٹر ان کوششوں میں ناکام ہو جاتے ہیں یا وہ جو خاندان کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے وہ ایک مشکل ترین راستے کا انتخاب کرتے ہیں جسے ایف سی پی ایس یا فیلو آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کہا جاتا ہے۔
ایف سی پی ایس کے امتحانات اس ملک کا ایک بڑا سرمایہ دار مافیا منعقد کرتا ہے جسے سی پی ایس پی یا کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کہا جاتا ہے۔ اس مافیا کی کمائی کے ذرائع ورکشاپس، ریسرچ اور امتحانات کے نام پر متوسط طبقے کے ڈاکٹروں سے بڑی بڑی فیسیں بٹورنا ہے۔ یہ مافیا ظاہر کرتا ہے کہ وہ زمینی حالات سے بےخبر ہے اور اپنے معیار کو عالمی سطح یعنی نام نہاد ترقی یافتہ سرمایہ دار ریاستوں کے برابر قرار دیتا ہے۔ ڈاکٹروں کی اکثریت طبی تحقیق سے نابلد ہوتی ہے اس لیے ان کے طبی مقالے بار بار مسترد کیے جاتے ہیں اور اس بنیاد پر وہ اپنی تربیت مکمل ہونے کے بعد بھی کئی برس تک امتحانات میں شرکت سے محروم رکھے جاتے ہیں۔ اس مافیا کے منظور شدہ ہسپتالوں میں سے کسی بھی ہسپتال میں طبی تحقیق کا کوئی شعبہ باقاعدہ طور پر موجود ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی ہو بھی تو وہ خود تحقیق کے طریقوں سے عدم واقفیت کی وجہ سے نیز کوئی مالی فائدہ نہ ہونے کے باعث ان مڈل کلاسیوں کو تربیت دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ سی پی ایس پی مافیا ایک تین دن کی ریسرچ ورکشاپ کروا کر اپنے اس فرض سے بری الذمہ ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تربیت لینے والے خشکے ڈاکٹر طبی تحقیق کے ماہر بن چکے ہیں. (خشکا پاکستان کے ان میڈیکل اسٹوڈنٹس کو کہا جاتا ہے جو کتابی کیڑے یا اعلیٰ قسم کے رٹے باز ہوتے ہیں جو کہ عموماً یہ سب ہوتے ہیں۔)
ایف سی پی ایس کے زیر تربیت طلباء کے اوپر سی پی ایس پی مافیا اپنا ایک عہدیدار مسلط کرتا ہے جسے سی پی ایس پی سپروائزر کہا جاتا ہے ۔یہ شخص خود ایف سی پی ایس پاس یا کسی اعلیٰ بیرونی ڈگری کا مالک ہوتا ہے۔ اس کا کام ان مڈل کلاسیوں کو رگڑا لگانا یا ان سے گدھوں کی طرح کام لینا ہوتا ہے۔ کچھ طلباء چالاک ہوتے ہیں اور خوشا مد کے بل بوتے پر ان بھائی لوگوں کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جب ڈانز کا دست شفقت ان کے سروں پر آتا ہے تو ان کے تحقیقی پرچے جلدی منظور ہو جاتے ہیں اور امتحانات بھی ان مالکان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پہلی یا دوسری کوشش میں پاس ہو جاتے ہیں۔
وہ مڈل کلاسیے جن کے امتحانات دیر سے پاس ہوتے ہیں یا کبھی پاس نہیں ہوتے ایسے نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جن سے وہ خود بھی واقف نہیں ہوتے۔ ایسے ڈاکٹروں کی نفسیاتی مدد کے لیے کوئی ادارہ سنجیدہ نہیں ہوتا جس کے نتائج خود ان ڈاکٹروں، ان کے خاندانوں اور اس پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
جن ڈاکٹروں کے ایف سی پی ایس کے امتحانات پاس ہو جاتے ہیں وہ ایک عام ڈاکٹر سے ایلیٹ ڈاکٹروں کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ چند سالوں بعد سی پی ایس پی کے سرمایہ دار مافیا کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ایف سی پی ایس کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے لیے پاکستان جیسا ملک ایک جنت ہے۔ ان کے لیے علاج کے نام پر کمائی کے بہت سے راستے کھل جاتے ہیں۔ یہ لوگ سرکاری ہسپتالوں میں سینیر رجسٹرار اور پھر بتدریج اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے عہدے حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ ان اداروں کو اپنی خدمات فراہم کرنا قطعی طور پر پسند نہیں کرتے. ان کی توجہ کا اصل مرکز ان کے نجی کلینک ہوتے ہیں جو یہ شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں بناتے ہیں۔ ان نجی ہسپتالوں کے مالکان بڑے سرمایہ دار، ریٹائرڈ جرنیل یا بیوروکریٹ ہوتے ہیں ۔ان ہسپتالوں کا کام ان ایف سی پی ایس اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی مدد سے متوسط اور غریب طبقے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہوتا ہے ۔ان نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی فیسیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ اگر کوئی مریض یہاں داخل ہو جائے تو اس کو کنگال کر کے ڈسچارج کیا جاتا ہے ۔جو مریض یہ خرچ برداشت نہ کرنے کی شکایت کرتے ہیں انہیں ماہر ڈاکٹروں کے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ نجی ہسپتال کبھی نہیں چاہتے کہ ان کی ساکھ متاثر ہو اس لیے بہت پیچیدہ امراض جیسے سرطان کے مریض یا ایسے مریض جو قریب المرگ ہوں، کبھی داخل نہیں کرتے۔ کسی مریض کا نجی ہسپتال میں وفات پا جانا ان ہسپتالوں کے لیے ایک بدنما داغ کی طرح ہوتا ہے ۔ایسے مریضوں کو بھی متعلقہ ایف سی پی ایس کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں یہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال تربیت حاصل کرنے والے طلباء کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور غریب اور مفلس طبقے کے مریضوں پر وہ اپنے تجربات کرتے رہتے ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا مرنا بہت عام سی بات ہوتی ہے اور اس سے کسی کی عزت پر کوئی حرف بھی نہیں آتا۔ نچلا طبقہ ان اموات کو اللہ کی مرضی سمجھ کر چپ چاپ وہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کے لواحقین احتجاج کریں تو ان پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی غنڈہ گرد تنظیمیں ان کی چھترول اور بعد ازاں ان واقعات پر احتجاج کے نام پر ہسپتال بند کر کے ہڑتالیں کرنے کے لیے موجود ہوتی ہیں۔ ان تنظیموں کے غنڈے رہنماؤں کی اکثریت بھی بعد میں سی پی ایس پی مافیا کا حصہ بن جاتی ہے۔
ایف سی پی ایس کنسلٹنٹ مافیا کا ایک بڑا تعلق ایک اور سرمایہ دار گروہ سے ہوتا ہے ۔ جی ہاں، دواؤں کا دھندا کرنے والی فارماسوٹیکل کمپنیاں۔ یہ کمپنیاں ڈاکٹروں کے ساتھ اپنی دوائیں لکھوانے کے لیے باقاعدہ معاہدے کرتی ہیں جن کے مطابق ان ڈاکٹروں کو گاڑیاں، ائرکنڈیشنر، مہنگے موبائلز اور نئے ماڈل کے ٹی وی وغیرہ تحائف میں دینے کے علاوہ کیش تک بھی رشوت کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان میں یا بیرون ملک سیر و سیاحت اور عمرے، حج وغیرہ کروانے کے لیے بھی بھیجا جاتا ہے۔
ان تمام ماہر ڈاکٹروں میں ایک چیز جو مشترک ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب عبادت گزار، متقی اور پرہیزگار ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد کی داڑھیاں ہوتی ہیں اور شلواریں یہ ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے معاشرے میں یہ بلند و بالا مقام رکھتے ہیں اور ہردلعزیز بھی ہوتے ہیں ۔ یہ بہت امیر اس لیے ہوتے ہیں کہ ان پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے۔ یہ اپنے بنگلوں پر ماشاءاللہ ضرور لکھواتے ہیں تاکہ کسی کی نظر نہ لگے اور ان کی کمائی میں مزید برکت ہو۔
آخر میں میں کچھ ایسے ڈاکٹروں کے نام لینا چاہتا تھا لیکن میں نے سوچا کہ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں، چند لوگوں کا نام لینے سے باقی خود کو پاکیزہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ مڈل کلاسیا، فیشنی سرخا، انتہائی سطحی سوچ رکھنے والا اور موقع پرست ڈاکٹر اپنے کسی پیٹی بند بھائی کا نام نہیں لے گا۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ بائیں بازو کی جماعتیں کسی احتجاج میں اس طبقے کی حمایت مت کیا کریں کیونکہ یہ وہی طبقہ ہے جس کے بارے میں عظیم انقلابی اور فلسفی کامریڈ کارل مارکس نے کہا تھا کہ انقلاب کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی طبقہ ہوتا ہے۔ اس کے پاؤں کیچڑ میں اور نظریں آسمان پر ہوتی ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

