اہم خبریں

ڈالر 173.50 روپے کی بلند ترین سطح پر :پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بن گیا

اسلام آباد ” معروف بین الاقوامی جریدے ‘دی اکانومسٹ’ نے 43 ممالک میں مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کردیے۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق ‎مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے 43 ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے، پاکستان میں گذشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 9 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں مہنگائی کی شرح 4.3 فیصد ہے اور بھارت کا نمبر سولہواں ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ مہنگائی جنوبی امریکی ملک ارجنٹائن میں ہے جہاں مہنگائی کی شرح 51.4 فیصد ہے ۔مہنگائی کے اعتبار سے ترکی دوسرے نمبر پر ہے جہاں مہنگائی کی شرح 19.6 فیصد ہے، برازیل 10.2 فی صد شرح کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں مہنگائی کی شرح منفی 0.4 فیصد ہے۔دوسری جانب روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک میں 55 پیسے اضافے کے بعد ڈالر 173.50 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 173 روپے 40 پیسے میں خریدا اور 173 روپے 50 پیسے میں فروخت ہو رہا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 173 روپے 30 پیسے اور قیمت فروخت 173 روپے 40 پیسے پر پہنچ گئی۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے ڈان نیوز کو بتایا کہ درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔ظفر پراچا نے کہا کہ درآمدارت رواں مالی سال کے اختتام پر 65 ارب ڈالر تک پہنچ جانے کا امکان ہے جہاں پہلے محتاط اندازے کے مطابق درآمدات 61 ارب ڈالر رہنے کا امکان تھا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کا ہدف جون تک 29 ارب ڈالر تھا لیکن اب ترسیلات زر 28 ارب ڈالر تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر سے زائد کا قرض پروگرام منظور ہوا اور ہمیں فوری طور پر ایک ارب ڈالر مل گئے تو اس سے سپلائی بہتر ہوگی جس کے اثرات روپے کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
ایلیفا بیٹا کور کے چیف ایگزیکٹو خرم شہزاد نے بتایا کہ پچھلے 6 ماہ میں ڈالر کے مقابلے روہے کی قدر گیارہ فیصد کم ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت اور بنگلہ دیش سمیت علاقائی ممالک کی کرنسی بمشکل ایک سے دو فیصد کمی کا شکار ہوئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے روپے پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو دباؤ کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر غیر ملکی سرمائے کی آمد میں اضافے کی حکمت عملی بنانا ہوگی تاکہ ڈالر کی قیمت مزید نہ بڑھ سکے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker